Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: ۲۵؍ اسمبلی نشستوں میں ۴۰؍ فیصد سے زائد ووٹرز کے SIR فارم جمع نہیں ہوئے

Updated: August 21, 2026, 11:05 AM IST | Mumbai

مہاراشٹر کی ۲۸۸؍ اسمبلی نشستوں میں سے ۲۵؍ شہری حلقوں میں ۴۰؍ فیصد سے زائد ووٹروں کے ایس آئی آر (SIR) فارم جمع نہیں کئے جا سکے، جس کے باعث ان کے نام ۳۱؍ اگست کو شائع ہونے والی ابتدائی ووٹر فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ ہے۔ ان حلقوں میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن، پونے اور ناگپور کے علاقے شامل ہیں، جبکہ بھیونڈی ایسٹ میں فارم جمع نہ ہونے کی شرح ۱۱ء۴۹؍ فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ رہی۔

SIR. Photo: INN
ایس آئی آر۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کی ۲۸۸؍ اسمبلی نشستوں میں سے ۲۵؍، جو تمام کی تمام شہری علاقوں میں ہیں، میں ۴۰؍ فیصد سے زائد ووٹروں کے ایس آئی آر (SIR) فارم جمع نہیں کئے جا سکے۔ ان ووٹروں کے نام ۳۱؍ اگست کو شائع ہونے والی ابتدائی ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہوں گے۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق حلقہ وار اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان ۲۵؍ نشستوں میں سے ۱۷؍ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن، سات پونے اور ایک ناگپور میں ہے۔ ان ۲۵؍ حلقوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ ووٹر ہیں، جن میں سے ۴۸؍ لاکھ ۱۷؍ ہزار، یعنی ۷ء۴۳؍ فیصد، ووٹروں کا سراغ نہیں مل سکا۔ یہ تعداد ریاست میں جمع نہ کئے جا سکنے والے تمام فارموں کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ پوری ریاست میں مہاراشٹر کے ۹؍ کروڑ ۷۸؍ لاکھ ووٹروں میں سے ۲؍ کروڑ ۷؍ لاکھ، یعنی ۱۶ء۲۱؍ فیصد، کے فارم جمع نہیں کئے جا سکے۔ ان ووٹروں کے نام ابتدائی فہرست سے خارج ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد انہیں اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کیلئے دعویٰ دائر کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: یوجی سی-این ای ٹی کے منسوخ شدہ پرچوں کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کا سنسنی خیز الزام

بھیونڈی ایسٹ اسمبلی حلقے میں فارم جمع نہ کئے جانے کی شرح سب سے زیادہ ۱۱ء۴۹؍ فیصد رہی، جو ریاستی اوسط سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ اس حلقے کے ۳؍ لاکھ ۷۶؍ ہزار ووٹروں میں سے تقریباً نصف، یعنی ایک لاکھ ۸۴؍ ہزار، کے فارم جمع نہیں کئے جا سکے۔ کولابا ۹۸ء۴۶؍ فیصد کے ساتھ دوسرے، کھڑکواسلا ۶۴ء۴۶؍ فیصد، نالاسوپارا ۴۳ء۴۶؍ فیصد اور کوٹھروڈ ۲۶ء۴۶؍ فیصد کے ساتھ بالترتیب اگلے نمبر پر رہے۔ کلیان رورل اور ہڈپسَر بھی ان سات حلقوں میں شامل ہیں جہاں ۴۵؍ فیصد سے زائد ووٹروں کے فارم جمع نہیں کئے جا سکے۔

شرح اور تعداد میں فرق

نالاسوپارا میں فارم جمع نہ کئے جانے والے ووٹروں کی تعداد ریاست بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں ۶؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار ووٹروں میں سے ۳؍ لاکھ ۷؍ ہزار کے فارم جمع نہیں ہو سکے، جس کی بڑی وجہ اس حلقے میں ووٹروں کی زیادہ تعداد ہے۔ ہڈپسَر میں ۲؍ لاکھ ۹۸؍ ہزار، پنویل میں ۲؍ لاکھ ۸۳؍ ہزار، کھڑکواسلا میں ۲؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار اور کلیان رورل میں ۲؍ لاکھ ۵۲؍ ہزار فارم جمع نہیں کئے جا سکے۔

کئی بوتھ لیول افسران (BLOs) نے شہری علاقوں میں اس صورتحال کی وجہ ووٹروں تک پہنچنے میں مشکلات کو قرار دیا ہے۔ گنجان آبادی والے علاقے، بلند و بالا عمارتیں اور مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی آبادی گھر گھر تصدیق کے عمل کو مشکل بناتی ہے۔ ممبئی، تھانے اور پونے میں رہائشیوں نے بتایا کہ بعض مقامات پر BLOs ان کے گھروں تک نہیں پہنچے اور فارم عمارتوں کے دروازوں یا گیٹ پر چھوڑ دیے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: درسی کتابوں کے پینل میں آر ایس ایس کارکن

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکالنگم نے کہا کہ شہری علاقوں میں فارم جمع نہ کئے جانے کی بلند شرح کا تعلق آبادی کی نقل و حرکت سے بھی ہے۔ ان کے مطابق لوگ مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں اور ان کے انتخابی ریکارڈ ہمیشہ بروقت اپ ڈیٹ نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ خصوصی نظرثانی ۲۴؍ سال سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ایس آئی آر ۲۰۰۲ء میں ہوئی تھی اور اس کے بعد سے انتخابی فہرستوں کو جامع طور پر اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً ۳۴؍ لاکھ ایسے ووٹروں کے نام بھی مدنظر رکھنا ہوں گے جو وفات پا چکے ہیں۔ چوکالنگم نے یہ بھی واضح کیا کہ ابتدائی ووٹر فہرست حتمی فہرست نہیں ہے۔ اہل ووٹر فارم ۸؍ کے ذریعے اپنی تفصیلات میں اصلاح کرا سکتے ہیں یا دعووں اور اعتراضات کی مدت کے دوران فارم ۶؍ کے ذریعے اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ نشستیں کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں ہیں۔ ۴۵؍ فیصد سے زائد شرح والے سات حلقوں میں سے ۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات میں کولابا، کھڑکواسلا، نالاسوپارا اور کوٹھروڈ میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی، کلیان رورل میں شیوسینا اور ہڈپسَر میں اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ بھیونڈی ایسٹ کی نشست سماج وادی پارٹی نے جیتی تھی۔ سب سے زیادہ متاثرہ حلقوں میں سے کئی، جن میں بھیونڈی ایسٹ، مانخورد شیواجی نگر، چاندیولی، ممبئی دیوی اور مالاد کے کچھ علاقے شامل ہیں، میں مسلم اور درج فہرست ذاتوں کی بڑی آبادی اور وسیع غیر رسمی بستیاں موجود ہیں۔ کولابا، سائن کولی واڑہ، دھاراوی اور ورلی میں شہر کی روایتی ماہی گیر بستیوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ صورتحال یکساں نہیں ہے۔ ریاست کے امیر ترین حلقوں میں شمار ہونے والے مالابار ہل اور کولابا میں فارم جمع نہ کئے جانے کی شرح مانخورد شیواجی نگر کے قریب ہے۔ اسی طرح پونے کے متوسط طبقے کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے کوٹھروڈ اور کھڑکواسلا بھی ریاست کے پانچ سب سے زیادہ متاثرہ حلقوں میں شامل ہیں۔ اس طرح یہ رجحان آمدنی یا علاقے کی کسی ایک قسم تک محدود نہیں، بلکہ گنجان غیر رسمی بستیوں سے لے کر بلند و بالا عمارتوں اور متوسط طبقے کے علاقوں تک مختلف قسم کے شہری علاقوں میں نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کانگریس وندے ماترم پردو دوہاتھ کیلئے تیار

۴۰؍ فیصد سے زائد شرح والے ۲۵؍ حلقوں میں درج فہرست ذاتوں کیلئے مخصوص تین نشستیں بھی شامل ہیں: امبرناتھ میں یہ شرح ۲۱ء۴۴؍ فیصد، پمپری میں ۲۶ء۴۱؍ فیصد اور پونے کینٹونمنٹ میں ۴۷ء۴۰؍ فیصد ہے۔ ناگپور نارتھ (SC) میں یہ شرح ۵۹ء۳۶؍ فیصد، دھاراوی (SC) میں ۵۵ء۳۴؍ فیصد اور بویسر (ST) میں ۴۱ء۳۴؍ فیصد ہے۔ گھر گھر جا کر تصدیق کا یہ عمل ۳۰؍ جون سے ۱۸؍ اگست تک جاری رہا۔ ابتدائی ووٹر فہرست ۳۱؍ اگست کو شائع ہونے کے بعد دعوے اور اعتراضات کا عمل شروع ہوگا، جبکہ حتمی ووٹر فہرست ۱۹؍ اکتوبر کو شائع ہونے کا شیڈول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK