• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا خواب پورا ہوگیا: ایشین گیمز میں پہلا تمغہ جیتنے کے بعد میرابائی چانوجذباتی ہوئیں

Updated: September 23, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی اسٹار ویٹ لفٹر میرابائی چانو کا ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے کا برسوں پرانا خواب بالآخر پورا ہوگیا۔ میرابائی نے خواتین کے ۴۹؍ کلوگرام زمرے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

Mirabai Chanu.Photo:PTI
میرا بائی چانو۔ تصویر:پی ٹی آئی

ہندوستان کی اسٹار ویٹ لفٹر میرابائی چانو  کا ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے کا برسوں پرانا خواب بالآخر پورا ہوگیا۔ میرابائی نے خواتین کے ۴۹؍ کلوگرام زمرے  میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی  چاندی کا تمغہ  حاصل کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے شاندار کریئر میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے  اولمپکس، ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز  تینوں بڑے مقابلوں میں تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
پوڈیم پر جگہ بنانے کے بعد میرابائی نے  اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے کا انتظار کر رہی تھیں اور بالآخر ان کا خواب پورا ہوگیا۔ میرابائی کے مطابق ویٹ لفٹنگ شروع کرنے کے وقت سے ہی ایشین گیمز میں تمغہ جیتنا ان کے بڑے خوابوں میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھئے:دپیکا سہراوت نے ۹؍ گول داغے، ہندوستان نے تھائی لینڈ کو ۱۔۲۰؍ سے ہرایا

۳۲؍ سالہ میرابائی چانو نے مقابلے میں مجموعی طور پر  ۱۹۸؍ کلوگرام  وزن اٹھایا۔ انہوں نے اسنیچ میں ۸۷؍ کلوگرام  اور کلین اینڈ جرک میں ۱۱۱ کلوگرام  وزن اٹھایا ۔تاہم، وہ شمالی کوریا کی ری سونگ گم  سے پیچھے رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر ۲۱۰ کلوگرام وزن اٹھا کر طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ انڈونیشیا کی  وجیانا لولوک ڈیانی ٹرائی  نے ۱۹۱؍ کلوگرام وزن اٹھایا اور کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ ایشین گیمز میں پوڈیم تک پہنچنے کے لیے میرابائی کو طویل انتظار اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  ۲۰۱۸ء کے ایشین گیمز  میں وہ انجری کے باعث شرکت نہیں کرسکی تھیں۔ اس کے بعد ۲۰۲۳ء کے ہانگژو ایشین گیمز  میں بھی وہ تمغے کے قریب پہنچنے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ وہ چوتھے مقام پر رہی تھیں، جبکہ ران کی انجری نے ان کے کلین اینڈ جرک کے آخری مرحلے کے لیے مشکلات پیدا کردی تھیں۔ایسے میں ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ میرابائی کے لیے محض ایک کامیابی نہیں بلکہ کئی برس کی محنت، انجری اور مایوسی کے بعد حاصل ہونے والی ایک بڑی منزل بھی ہے۔ تمغہ جیتنے کے بعد میرابائی نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس لمحے اپنی گزشتہ کامیابیوں کی یاد آگئی۔ انہوں نے بتایا کہ گلاسگو میں بھی وہ کامیابی کے بعد جذباتی ہوگئی تھیں اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے تھے۔
 میرابائی نے کہا کہ اس مرتبہ بھی انہیں رونے کا دل کررہا تھا، لیکن وہ روئیں نہیں۔ ان کے مطابق وہ انتہائی خوش تھیں کیونکہ آخرکار انہیں وہ چیز مل گئی جس کا وہ برسوں سے خواب دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ’’آج میرا خواب سچ ہوگیا ہے۔ مجھے اس تمغے سے بہت خوشی ہے۔ میں کئی برسوں سے ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ آج میرا خواب پورا ہوگیا اور مجھے خود پر بہت فخر ہے۔‘‘ میرابائی چانو کی چاندی کی یہ کامیابی ہندوستانی ویٹ لفٹنگ کے لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ اس تمغے کے ساتھ وہ  ۱۹۹۸ء کے بینکاک ایشین گیمز میں کرنم ملیشوری کے چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد ایشین گیمز میں ویٹ لفٹنگ کا تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی کھلاڑی  بن گئی ہیں۔ اس طرح ہندوستان کا ایشین گیمز میں ویٹ لفٹنگ کے تمغے کے لیے  ۲۸؍ سالہ انتظار  بھی ختم ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی وی شو ’’سی آئی ڈی ‘‘کی مقبول ٹیم کی واپسی، اندازبالکل نیا ہوگا

میرابائی پہلے ہی اولمپک چاندی کا تمغہ، عالمی چیمپئن شپ کا خطاب اور کامن ویلتھ گیمز کے متعدد طلائی تمغے اپنے نام کرچکی ہیں۔ ایشین گیمز کا یہ تمغہ ان کے شاندار بین الاقوامی کریئر میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہے۔میرابائی نے اس موقع پر حکومت سے ایک ایسے اعزاز کی درخواست بھی کی جو ابھی تک ان کے اعزازات کے مجموعے میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے  ارجن ایوارڈ  دینے کی اپیل کی۔
میرابائی نے کہا کہ اگر حکومت ان کی کامیابی پر غور کرتے ہوئے انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازتی ہے تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ ایوارڈ بھی ان کے کریئر کا حصہ بنے۔ ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد میرابائی چانو نے نہ صرف اپنا برسوں پرانا خواب پورا کیا بلکہ ہندوستانی ویٹ لفٹنگ کی تاریخ میں بھی اپنا نام ایک بار پھر نمایاں انداز میں درج کرا دیا۔ ان کی یہ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال بن کر سامنے آئی ہے کہ مسلسل محنت اور ناکامیوں کے باوجود اپنے ہدف کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے تو دیر سے ہی سہی، خواب حقیقت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK