پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ملک کی پہلی خاتون باکسر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا ہندوستانی باکسنگ لیجنڈ میری کوم سے ملنے والی تحریک اور اپنی مسلسل جدوجہد کو قرار دیا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 10:32 PM IST | Glasco
پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ملک کی پہلی خاتون باکسر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا ہندوستانی باکسنگ لیجنڈ میری کوم سے ملنے والی تحریک اور اپنی مسلسل جدوجہد کو قرار دیا۔
پاکستان کی پہلی خاتون باکسر، جنہوں نے کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی، فاطمہ زہرا نے گلاسگو میں خواتین کے ۶۰؍ کلوگرام کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کوصفر۔۵؍ سے شکست دے کر کانسہ کا تمغہ اپنے نام کیا۔ پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی کامیابی کی سب سے بڑی تحریک ہندوستان کی عظیم باکسر ’میری کوم‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کامن ویلتھ گیمز: پریتی پوار اور جیسمین لیمبوریا نے باکسنگ میں طلائی تمغے جیتے
فاطمہ نے گلاسگو سے Telecom Asia Sport کو بتایا، ’’میری کوم ہمیشہ میری سب سے بڑی تحریک رہی ہیں۔ میں نے ان کی زندگی اور جدوجہد پر بننے والی فلم دیکھی کیونکہ مجھے ان کے سفر سے اپنی زندگی کی مماثلت محسوس ہوئی۔ ‘‘میری کوم کی مالی مشکلات، سماجی مخالفت اور مسلسل جدوجہد کی کہانی نے بھی فاطمہ کو گہرے طور پر متاثر کیا۔۲۰۱۴ء میں ریلیز ہونے والی ان کی بالی ووڈ سوانحی فلم میں دکھایا گیا کہ کس طرح انہوں نے ابتدائی دنوں میں چھپ کر باکسنگ شروع کی، کھیتوں میں کام کرنے کے ساتھ سخت تربیت کی اور پھر چھ عالمی چیمپئن شپ، اولمپکس کا کانسہ کا تمغہ، ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز کے طلائی تمغے اور پانچ ایشین چیمپئن شپ جیتیں۔ اس فلم نے اُس وقت صرف ۱۰؍سالہ فاطمہ پر گہرا اثر چھوڑا۔
More history has been made at the 2026 Commonwealth Games as Fatima Zahra becomes the first women from Pakistan to medal in boxing. 🇵🇰
— World Boxing (@RealWorldBoxing) July 31, 2026
Zahra lost in the semi finals against Marie-Bathoul Al-Ahmadieh, who will go on to face Priya Priya of India in the final. #TimeForWorldBoxing pic.twitter.com/SpSuDpBhVB
فاطمہ نے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں اکثر ان کی زندگی پر بنی فلم دیکھا کرتی تھی۔ جب میں نے باکسنگ شروع کی تو اسی فلم کو دیکھ کر حوصلہ حاصل کرتی اور تربیت کرتی تھی۔ میں ان کا بہت احترام کرتی ہوں اور ان شاء اللہ ایک دن میں بھی ان جیسی باکسر بنوں گی۔ میری خواہش ہے کہ کبھی ان سے ملاقات ہو۔ ‘‘میری کوم کی طرح فاطمہ کو بھی اپنے خواب پورے کرنے کیلئے گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا، ’’میرا پس منظر زیادہ مضبوط نہیں تھا۔ میرے ابتدائی کوچ نے مجھے ہر چیز سکھائی۔ میرے گھر والے باکسنگ کے خلاف تھے۔ وہ مجھے تربیت کیلئے جانے نہیں دیتے تھے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری، ان کی مخالفت کے باوجود اپنی ٹریننگ جاری رکھی۔ ‘‘وقت گزرنے کے ساتھ یہی مخالفت مکمل حمایت میں بدل گئی۔فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’اب تو میرے گھر والے میری لڑائیوں اور مقابلوں کے دوران مجھ سے بھی زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: کامن ویلتھ گیمز۲۰۲۶ء: جیولن تھرو مقابلے میں نیرج چوپڑہ نے چاندی کا تمغہ جیتا
فاطمہ زہرا اپنے مستقبل کے اہداف کے حوالے سے بھی پُرعزم ہیں اور۲۰۲۶ء کے ایشین گیمز اور۲۰۲۸ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’میں بھی ایک عام لڑکی تھی۔ میں نے باکسنگ اختیار کی، سخت محنت کی اور آگے بڑھی۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ تمام لڑکیاں، جنہیں صرف گھر کے کاموں تک محدود رکھا جاتا ہے، وہ بھی باہر نکلیں اور اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کریں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میں نے بے حد جدوجہد اور محنت کی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میری کارکردگی دوسری لڑکیوں کیلئے حوصلہ افزائی اور کامیابی کی مثال بنے۔ ‘‘