جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسس کا خیال ہے کہ جس طرح مہندر سنگھ دھونی چنئی سپر کنگز اور وراٹ کوہلی رائل چیلنجرز بنگلور کی پہچان بن چکے ہیں، اسی طرح سنجو سیمسن راجستھان رائلز کا چہرہ تھے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 12:01 PM IST | New Delhi
جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسس کا خیال ہے کہ جس طرح مہندر سنگھ دھونی چنئی سپر کنگز اور وراٹ کوہلی رائل چیلنجرز بنگلور کی پہچان بن چکے ہیں، اسی طرح سنجو سیمسن راجستھان رائلز کا چہرہ تھے۔
جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسس کا خیال ہے کہ جس طرح مہندر سنگھ دھونی چنئی سپر کنگز اور وراٹ کوہلی رائل چیلنجرز بنگلور کی پہچان بن چکے ہیں، اسی طرح سنجو سیمسن راجستھان رائلز کا چہرہ تھے۔ ان کا ٹیم چھوڑ کر جانا فرنچائز کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
سنجو سیمسن نے راجستھان رائلز کیلئے ۱۱؍ سیزن کھیلے اور وہ ٹیم کے سب سے کامیاب کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے رائلز کی جانب سے نہ صرف سب سے زیادہ میچ کھیلے بلکہ سب سے زیادہ رن بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ تاہم، انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے اس سیزن میں وہ چنئی سپر کنگز کی نمائندگی کریں گے۔ڈو پلیسی نے ’جیو ہاٹ اسٹار‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’اگر ہم آئی پی ایل کی ٹیموں پر غور کریں تو زیادہ تر ٹیموں کے پاس کوئی ایک ایسا کھلاڑی رہا جو طویل عرصہ تک فرنچائزی کا چہرہ رہا ہے۔جیسے روہت شرما مہندر سنگھ اور وراٹ کوہلی۔میں سنجو سیمسن کو راجستھان رائلز کےلئے اسی طرح کا کھلاڑی مانتا ہوں۔ جب میں راجستھان رائلز کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے سنجو سیمسن یاد آتے ہیں۔ ان کا کسی دوسری ٹیم سے جڑنا شائقین اور آئی پی ایل ٹورنامنٹ کے لئے بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے وہاں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت اگرکر ۲۰۲۷ء ون ڈے ورلڈ کپ تک چیف سلیکٹر رہنا چاہتے ہیں
ڈو پلیسس کے مطابق سیمسن کی عدم موجودگی میں افتتاحی بلے باز یشسوی جیسوال پر دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جیسوال دوسرے اینڈ پر سیمسن کی موجودگی کی وجہ سے بے خوف ہو کر کھیلتے تھے لیکن اب انہیں زیادہ ذمہ داری کے ساتھ بیٹنگ کرنی ہوگی۔
ہندوستان کیسابق تیز گیند باز لکشمی پتی بالاجی نے راجستھان رائلز کی جانب سے ریان پراگ کو کپتان مقرر کرنے کے فیصلے پر حیرت ظاہر کی ہے۔ بالاجی نے کہا’’ٹیم میں یشسوی جیسوال، رویندر جڈیجہ اور سیم کرن جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی میں پراگ کو کپتانی سونپنا ایک طرح کاجوا لگتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں ٹیم کے ڈائریکٹر کمار سنگاکارا کا کردار انتہائی اہم ہوگا کیونکہ آئی پی ایل میں کپتانی صرف میدان کے فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو متحد رکھنے کا نام بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ سے گوتم گمبھیر کی اے آئی ڈیپ فیک کے غلط استعمال پر روک لگانے کی اپیل
نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کے حوالے سے بالاجی نے کہا کہ گزشتہ سیزن میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف ان کی کارکردگی شاندار تھی، لیکن دوسرا سال کسی بھی کھلاڑی کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ حریف ٹیموں نے اب تک ان کی کمزوریوں کو پہچان لیا ہوگا، لہٰذا یہ ویبھو کے لئے خود کو مستقل مزاج ثابت کرنے کا بڑا موقع ہے۔ انہوں نے ’ہم نے گزشتہ سیزن میں ویبھو کی صلاحیت دیکھی ہے۔ انہوںنے گجرات ٹائٹنز کے گیندبازوں کے سامنے جارحانہ انداز میں بلے بازی کرتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کی تھی۔حالانکہ یہ سیزن ان کےلئے مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘