Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسمرتی مندھانا کو یقین، ہندوستان ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں اپنی جیت کا تسلسل برقرار رکھے گا

Updated: May 24, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

ہندوستانی ٹیم آئی سی سی ویمنز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ایسے وقت میں قدم رکھ رہی ہے جب آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کا خطاب جیتنے کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔

Smriti Mandhana.Photo:X
اسمرتی مندھانا۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی ٹیم آئی سی سی ویمنز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ایسے وقت میں قدم رکھ رہی ہے جب آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کا خطاب جیتنے کی یادیں ابھی تازہ ہیں، جبکہ حال ہی میں آسٹریلیا میں ٹی ۲۰؍ سیریز میں ملنے والی جیت نے ٹیم کے حوصلوں کو مزید بلند کر دیا ہے۔
اسٹار بلے باز اسمرتی مندھانا کا ماننا ہے کہ ٹیم میں اس تسلسل کو عالمی ایونٹ میں برقرار رکھنے کی بھوک اور عزم موجود ہے، کیونکہ ہندوستان ایک اور آئی سی سی ٹائٹل اپنے نام کرنے کی کوشش میں ہے۔ مندھانا نے بی سی سی آئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’یقینی طور پر، ہم اپنی اچھی فارم کو جاری رکھنا چاہیں گے، خاص طور پر ورلڈ کپ کے ۵۰؍اوور کے فارمیٹ میں ملنے والی کامیابی کے بعد۔ اور پھر، یقیناً ڈبلیو پی ایل (ویمنز پریمیئر لیگ) بھی بہت سے کھلاڑیوں کے لیے اچھا تجربہ ثابت ہوا، اور اس کے ساتھ آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی کارآمد رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’کرکٹ میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ دوبارہ کیسے شروعات کرتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی چیز سے بڑھ کر، اس ٹیم میں جیت کی بڑی بھوک ہے۔ ہر کوئی صحیح چیزیں کرنے کے لیے بہت پرعزم نظر آ رہا ہے۔‘‘
پچھلے کچھ سال میں، ہندوستان نے پاور ہٹنگ (جارحانہ بلے بازی) کے شعبے میں نمایاں بہتری کی ہے۔ ریچا گھوش، شفالی ورما اور خود کپتان ہرمن پریت کور جیسی کھلاڑیوں نے اپنی جارحانہ شاٹس کی بدولت نام کمایا ہے۔ اس نڈر انداز نے اسمرتی مندھانا جیسی بلے بازوں کو بھی حوصلہ دیا ہے، اور اب ہندوستان کا بیٹنگ آرڈر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی اور جارحانہ ارادے کا حامل نظر آتا ہے۔
مندھانا نے کہاکہ ’’ٹاپ آرڈر بلے باز کے طور پر مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ ہمارے پاس بعد میں آنے والے کئی پاور ہٹرز موجود ہیں۔ اب ہم کریز پر سیٹ ہونے کے لیے اپنا وقت لے سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’پہلے یہ ہندوستانی ٹیم کی روایتی طاقت نہیں تھی، لیکن اب یہ ہماری طاقت بن رہی ہے کیونکہ ہمارے پاس شفالی ورما اور رچا گھوش جیسی کھلاڑی ہیں۔ ہرمن یقیناً طویل عرصے سے یہ کر رہی ہیں، اور مجھ یا جیمائمہ روڈریگس جیسے کھلاڑی بھی جانتے ہیں کہ ہم اسی اسٹرائیک ریٹ کے آس پاس کھیلنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ہیری کین کی ہیٹ ٹرک: بائرن میونخ نے جرمن کپ جیت کر چار سالہ قحط ختم کر دیا


۲۹؍ سالہ مندھانا نے ۲۰۱۴ء میں محض ۱۷؍ سال کی عمر میں اپنا پہلا ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کھیلا تھا، اور اس وقت جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا، وہ آسٹریلوی ٹیم کا عالمی سطح پر اپنی کارکردگی کی وجہ سے پایا جانے والا احترام تھا۔ اس احترام نے مندھانا کے اندر ایک دن خود ورلڈ کپ جیتنے اور عالمی کرکٹ میں ہندوستان کو اسی مقام پر پہنچانے کی چنگاری روشن کی۔

یہ بھی پڑھئے:’’یہ تو ہیلمٹ کا پلاسٹک ہے‘‘، نئے لُک والے چشمے پر صارفین نے کِم کو ٹرول کیا


انہوں نے کہاکہ ’’جب میں نے اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلا تو میری عمر ۱۶؍ یا ۱۷؍ سال تھی۔ اس وقت آپ زیادہ گہرائی میں نہیں سوچتے۔ لیکن پھر میں نے آسٹریلوی ٹیم کے لیے لوگوں کا احترام دیکھا، اور میرے لیے وہی وہ لمحہ تھا جب میں نے سوچا کہ میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ ایک کھلاڑی کے طور پر یہ بات میرے لیے کافی پرکشش تھی کہ جب ہندوستانی ٹیم میدان میں اترے، تو ہمیں بھی وہی احترام ملنا چاہیے۔ اور میرے لیے، اسی وقت سے یہ احساس شروع ہوا کہ میں ہندوستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنا چاہتی ہوں، کیونکہ میں وہ خاص احساس حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ ہندوستانی ٹیم ۱۴؍ جون کو اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کرنے سے پہلے انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل سیریز کھیلے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK