سری لنکا میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنے سے پہلے، انڈین ٹیم کے سلیکٹرز بنگلورو میں واقع سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) سے فٹنیس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نیشنل سلیکشن کمیٹی کا اجلاس اگلے۱۰؍ سے ۳۶؍گھنٹوں میں ہونے کی امید ہے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 8:07 PM IST | Mumbai
سری لنکا میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنے سے پہلے، انڈین ٹیم کے سلیکٹرز بنگلورو میں واقع سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) سے فٹنیس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نیشنل سلیکشن کمیٹی کا اجلاس اگلے۱۰؍ سے ۳۶؍گھنٹوں میں ہونے کی امید ہے۔
سری لنکا میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنے سے پہلے، انڈین ٹیم کے سلیکٹرز بنگلورو میں واقع سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) سے فٹنیس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نیشنل سلیکشن کمیٹی کا اجلاس اگلے۱۰؍ سے ۳۶؍گھنٹوں میں ہونے کی امید ہے، جس میں واشنگٹن سندر، ہرشیت رانا، نتیش کمار ریڈی، آکاش دیپ اور انشول کمبوج جیسے کھلاڑیوں کی دستیابی کے حوالے سے بنیادی طور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:حنا خان کی عامر خان کی گوری اسپریٹ سے تیسری شادی پر تنقید
ہاردک پانڈیا اور ورون چکرورتی بھی سی او ای میں موجود ہیں، لیکن وہ سری لنکا کے دورے کے لیے سلیکشن کی دوڑ سے باہر ہیں کیونکہ وہ صرف وائٹ بال کی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ لیکن سری لنکا کے دورے سے باہر رہنے والے وہ اکیلے کھلاڑی نہیں ہیں۔ رانا اور ریڈی کا انتخاب تقریباً ناممکن ہے اور واشنگٹن کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان ہے، جنہیں عام طور پر گوتم گمبھیر اور شبھمن گل کی قیادت والی ٹیم مینجمنٹ نے ترجیح دی ہے۔
سری لنکا کی پچیں اسپنرس کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، ایسے میں واشنگٹن، جو ایک آف اسپنر ہیں اور ٹاپ آرڈر میں بلے بازی کا تجربہ رکھتے ہیں، ایک اہم کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ۲۶؍ سالہ آل راؤنڈر، جو ہیمسٹرنگ کی چوٹ سے ابھر رہے ہیں، سیریز کے لیے دستیاب ہوں گے۔ ایک امکان یہ ہے کہ انہیں دوسرے ٹیسٹ کے لیے مشروط طور پر منتخب کیا جائے، جو ۲۳؍اگست ۲۰۲۶ءسے شروع ہوگا، لیکن ایسا ہونے کی امید بھی کم ہی ہے۔
بمراہ کے سی او ای میں شامل ہونے کی امید ہے، اس لیے اس بات کو لے کر تھوڑی غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا وہ ٹیسٹ میچوں کے لیے دستیاب ہوں گے، جو موجودہ ڈبلیو ٹی سی مرحلے کا حصہ ہیں۔ تاہم، آئی پی ایل کے بعد سے انہوں نے زیادہ کرکٹ نہیں کھیلا ہے، اس لیے ان کی شمولیت کا امکان زیادہ ہے۔ وہ لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میچ نہیں کھیل پائے تھے، لیکن ان کے بائیں گھٹنے کی چوٹ کو بہت سنگین نہیں مانا گیا تھا۔ انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ٹیم کے اہم تیز گیند باز جسپریت بمراہ کے بارے میں کہا کہ’’کارڈف میں دوسرے ون ڈے میچ کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے بمراہ کے بائیں گھٹنے میں چوٹ لگ گئی تھی۔ بائیں گھٹنے میں سوجن کی وجہ سے انہیں تیسرے ون ڈے کے لیے ٹیم میں منتخب نہیں کیا جا سکا۔‘‘
واشنگٹن کی طرح ہیمسٹرنگ کی چوٹ سے جوجھ رہے رانا کا کھیلنا تقریباً طے نہیں ہے۔ ایسا ہی نتیش کے ساتھ بھی ہے، جو تینوں فارمیٹس میں کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ نے ان سے کہا ہے کہ وہ ابھی انہیں صرف وہائٹ بال کی کرکٹ کے لیے ہی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے، ان کی ستمبر میں ہی واپسی کی امید ہے، جب ہندوستان کو کئی وہائٹ بال میچ کھیلنے ہیں۔ ریڈ بال کرکٹ میں ان کی اگلی واپسی شاید نومبر میں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہو سکتی ہے، جہاں ہندوستان کو دو ڈبلیو ٹی سی ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ جیتنا خواب کی تعبیر ہے: ویبھو سوریہ ونشی
گزشتہ ماہ افغانستان کے خلاف کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں شامل زیادہ تر کھلاڑیوں کے ٹیم میں برقرار رہنے کی امید ہے۔ اس ٹیم میں رویندر جڈیجا کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے، جو چنڈی گڑھ میں ہوئے اس میچ میں نہیں کھیل پائے تھے۔ سلیکشن کمیٹی کا اجلاس دراصل منگل کے روز ہونا تھا، لیکن اب امکان ہے کہ یہ پیر کے روز ہی آن لائن ہو سکتا ہے۔