سپریم کورٹ نے جمعہ کو ہندوستانی پہلوان ونیش پھوگاٹ کو ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کو منعقد ہونے والے ایشیائی کھیل ۲۰۲۶ء کے سلیکشن ٹرائلز میں شرکت کی اجازت دے دی۔
EPAPER
Updated: May 29, 2026, 4:07 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے جمعہ کو ہندوستانی پہلوان ونیش پھوگاٹ کو ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کو منعقد ہونے والے ایشیائی کھیل ۲۰۲۶ء کے سلیکشن ٹرائلز میں شرکت کی اجازت دے دی۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو ہندوستانی پہلوان ونیش پھوگاٹ کو ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کو منعقد ہونے والے ایشیائی کھیل ۲۰۲۶ء کے سلیکشن ٹرائلز میں شرکت کی اجازت دے دی۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے یہ حکم اس وقت صادر کیا جب وہ ہندوستانی کشتی فیڈریشن (ڈبلیو ایف آئی) کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت ونیش پھوگاٹ کو سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے مقابلے میں چین کی خفیہ طاقت،سستی بجلی نے اے آئی جنگ کا رخ بدل دیا
سماعت کے دوران بنچ نے ڈبلیو ایف آئی کے وکیل سے کہاکہ ’’اس مرحلے پر، جب ہائی کورٹ پہلے ہی حکم جاری کردیا ہے، توقعات پیدا ہو چکی ہیں۔ ایسے میں انہیں واپس بھیج دینا اور یہ کہنا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت آئندہ ہفتے مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ونیش پھوگاٹ کا معاملہ ہندوستانی کھیلوں میں ان کی خدمات اور ملک کیلئے نمایاں کارکردگی کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ اگر کوئی اور کھلاڑی ہوتا تو معاملہ مختلف ہو سکتا تھا، لیکن انہوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔اس موقع پر بنچ نے کھیلوں سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت پر بھی تشویش ظاہر کی اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے کو نمٹانے کے انداز پر سوال اٹھایا۔
یہ بھی پڑھئے:بی سی سی آئی اے ایس سی یو نے اسمارٹ سن گلاسیزکے استعمال پر روک لگائی
سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ کھیلوں کے انتظامی معاملات میں بار بار اور عجلت میں کی جانے والی عدالتی مداخلت سے مقابلوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور اس کے کھیلوں کی دنیا پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا نے کہاکہ یہ میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے معاملات نہیں ہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی کھیلوں سے متعلق معاملات ہیں۔ عدالتیں اس انداز میں مداخلت کرکے پورے شیڈول کو درہم برہم نہیں کر سکتیں۔