ہندوستان کے پاس ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر مضبوط کیو ں ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اپنے آخری ۹؍ یکروزہ میچوں میں ناقابل تسخیر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 11:59 AM IST | Vadodara
ہندوستان کے پاس ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر مضبوط کیو ں ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اپنے آخری ۹؍ یکروزہ میچوں میں ناقابل تسخیر رہا ہے۔
ہندوستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف گھریلو ماحول میں کھیلنا خاص طور پر ون ڈے فارمیٹ میں ایک جانا پہچانا احساس ہے۔ اتوار کے روز کوٹمبی اسٹیڈیم میں دوپہر ڈیڑھ بجے شروع ہونے والا پہلا ون ڈے ہندوستان کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کا موقع دے گا کہ وہ اپنی سرزمین پر اتنا مضبوط کیوں رہا ہے۔ نیوزی لینڈ ہندوستان کا پچھلا ون ڈے دورہ (۲۳-۲۰۲۲ء)یادنہیں رکھنا چاہے گاجس میں اسے ۰-۳؍ سے شکست ہوئی تھی۔
ہندوستان اس سیریز میں شاندار ہوم ریکارڈ کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ حالیہ چار گھریلو ون ڈے سیریز میں فتوحات ٹیم انڈیا کی مستقل مزاجی کی عکاس ہیں ۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان نے طاقت اور پختگی دونوں کامظاہرہ کیا۔ ۲؍ بار ۳۰۰؍ سے زائد اسکور کیا اور پھر آخری میچ میں ۹؍ وکٹیں باقی رہتے ہوئے اطمینان کے ساتھ۲۷۱؍ رن کا ہدف حاصل کیا۔ اس طرح کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم کی بیٹنگ یونٹ کو معلوم ہے کہ کب حملہ کرنا ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم کب پیچھے ہٹنا ہے اورتسلسل کے ساتھ کھیلنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنسنی خیز مقابلے میں پنجاب نے ممبئی کو ایک رن سے شکست دے دی
وراٹ کوہلی ایک بار پھر مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ اس سیریز میں ان کے ۳۰۲؍ رن جن میں دو سنچریاں اور ایک ناٹ آؤٹ نصف سنچری شامل تھی، اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کلاس جب بھوک کے ساتھ مل جائے تو کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ کوہلی اس مرحلے میں دکھائی دیتے ہیں جہاں دماغ کے فیصلے سے پہلے ہی ان کا بلہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ ہندوستان کو ون ڈے نائب کپتان شریس ایئر کی واپسی سے بھی تقویت ملی ہے جو چوٹ سے صحت یاب ہو کر واپس آئے ہیں۔ ان کی موجودگی مڈل آرڈر کو مضبوط بناتی ہے جو ابتدائی وکٹیں گرنے کی صورت میں بے حد قیمتی ثابت ہوتی ہے۔ محمد سراج کی واپسی سے تیز گیندبازی کا شعبہ مضبوط ہوا ہے جبکہ شبھ من گل کی شمولیت سے ٹاپ اور مڈل آرڈر میں اعتماد لوٹ آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ ۵؍ وکٹوں سے جیت کر ایشیزسیریز اپنے نام کر لی
بہرحال نیوزی لینڈ محض تعداد پوری کرنے نہیں آیا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ہندوستان سے آئی سی سی چمپئن ٹرافی فائنل میں شکست کے بعد سے اس ٹیم نے خاموشی سے رفتار حاصل کی ہے اور اپنے گزشتہ ۹؍ ون ڈے میچوں میں ناقابلِ شکست رہے ہیں۔ پاکستان، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل تین ۰-۳؍سیریز فتوحات نے اس دورے سے قبل انہیں بھرپور اعتماد سے بھردیا ہے۔
ڈیوون کونوے کا فارم مہمان ٹیم کا حوصلہ بڑھائے گا۔ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹنگ چارٹ میں سرفہرست رہے جبکہ کائل جیمی سن کے اس سیریز میں سات وکٹوں نے یہ دکھایا کہ جب کنڈیشنز زیادہ مددگار نہ ہوں تب بھی وہ باؤنس اور موومنٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کئی نئے چہروں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ نیوزی لینڈ مستقبل کی سوچ رکھتا ہے اور صرف مانوس ناموں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ٹیم اور کھیل میں گہرائی پیدا کررہا ہے۔ ایس اے ۲۰؍ کے باعث کین ولیمسن کی عدم موجودگی میں مائیکل بریسویل نے کپتانی سنبھالی اور انہوں نے یہ کردار پرسکون اور مؤثر انداز میں نبھایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا
دونوں ٹیموں کے پلیئنگ ایلیون کچھ اس طرح ہے:
ہندوستان: شبھ من گل (کپتان)، روہت شرما، وراٹ کوہلی، یشسوی جیسوال، شریس ایئر (نائب کپتان)، کے ایل راہل (وکٹ کیپر)، رشبھ پنت (وکٹ کیپر)، رویندر جڈیجا، کلدیپ یادو، محمد سراج، پرسدھ کرشنا، ہرشت رانا، واشنگٹن سندر، نتیش کمار ریڈی، ارشدیپ سنگھ۔
نیوزی لینڈ: مائیکل بریسویل (کپتان)، ڈیوون کونوے، ہینری نکولس، ول ینگ، ڈیرل مچل، نک کیلی، مچ ہے (وکٹ کیپر)، گلین فلپس، کائل جیمی سن، جیک فاؤلکس، مائیکل رے، جیڈن لینکس، کرسٹین کلارک، آدتیہ اشوک، جوش کلارکسن۔