Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا یکم مئی سے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں بڑھ جائیں گی؟

Updated: April 28, 2026, 1:08 PM IST | New Delhi

فی الحال تقریباً ۹۸؍ فیصد بکنگ آن لائن کی جا رہی ہے اور لگ بھگ ۹۴؍ فیصد ڈیلیوریز کی تصدیق او ٹی پی کے ذریعے ہوتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ان قوانین کے مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔

LPG Cylinder.Photo:INN
ایل پی جی سلنڈر۔ تصویر:آئی این این

امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں، جس کی وجہ سے یکم مئی سے گھریلو گیس کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ متوقع ہے۔ مارچ کے بعد سے۲ء۱۴؍ کلوگرام ایل پی جی سلنڈر پہلے ہی ۶۰؍ روپے مہنگا ہو چکا ہے، جبکہ کمرشیل  سلنڈرز کی قیمت میں ایک ہی مہینے میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
حکومت نے ایل پی جی بکنگ کے قوانین سخت کر دیے ہیں، او ٹی پی پر مبنی ڈیلیوری تصدیق متعارف کروائی ہے اور اجولا یوجنا کے مستفیدین کے لیے آدھار ای کے وائی سی لازمی قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کا صارفین پر کیا اثر پڑے گا۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟
مغربی ایشیا کے تنازعے نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کا اثر ہندوستان میں ایل پی جی کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔ گزشتہ ماہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پورے ملک میں ۲ء۱۴؍ کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں ۶۰؍ روپے کا اضافہ کیا۔ کمرشیل صارفین کو زیادہ متاثر ہونا پڑا ہے۔۱۹؍ کلوگرام کے کمرشیل سلنڈر کی قیمت ایک مہینے کے اندر تین بار بڑھی ہے۔ صرف اپریل ۲۰۲۶ء میں، میٹرو شہروں میں قیمتیں ۱۹۶؍ روپے تک بڑھ گئیں، جو مارچ میں ہونے والے اضافوں کے بعد مزید اضافہ ہے۔ چونکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں عموماً ہر مہینے کے آغاز میں رد و بدل ہوتا ہے، اس لیے اگر عالمی خام تیل کی مارکیٹ غیر مستحکم رہی تو مئی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
نئے ایل پی جی بکنگ قوانین کی وضاحت
ایل پی جی بکنگ کے قوانین بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔ شہروں میں اب صارفین کو نئی بکنگ کے لیے۲۱؍ دن کے بجائے ۲۵؍ دن انتظار کرنا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں یہ وقفہ  ۴۵؍ دن تک ہو سکتا ہے، جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔
 ایل پی جی ڈیلیوری کے لیے او ٹی پی کی تصدیق
ڈیلیوری کے نظام کو بھی اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ سبسڈی والے سلنڈرز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اب ڈیلیوری کے وقت او ٹی پی کے ذریعے تصدیق لازمی ہے۔ دی اکنامکس ٹائمزکے مطابق، اس وقت تقریباً ۹۸؍ فیصد بکنگ آن لائن ہوتی ہے اور قریب ۹۴؍ فیصد ڈیلیوریز او ٹی پی کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ قوانین مزید سخت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان کی اگلی فلم کا ٹائٹل لانچ بڑے پیمانے پر کیا جائے گا


 آدھارای کے وائی سی کس کے لیے ضروری ہے؟
پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی)   کے تحت مستفید ہونے والوں کے لیے آدھار پر مبنی وی کے وائی سی  لازمی کر دیا گیا ہے لیکن صرف ان افراد کے لیے جنہوں نے ابھی تک یہ عمل مکمل نہیں کیا۔ دیگر ایل پی جی صارفین کو  ای کے وائی سی دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ پہلے ہی یہ کر چکے ہیں۔ پی ایم یو وائی کے تحت صارفین کو سبسڈی حاصل کرنے کے لیے ہر مالی سال میں ایک بار تصدیق مکمل کرنی ہوگی، خاص طور پر ساتویں ریفل کے بعد۔

یہ بھی پڑھئے:گرین کارڈ کے امیدواروں کے لیے بڑی کامیابی: امریکی جج کا فیصلہ


پائپڈ نیچرل گیس کی طرف رجحان
ایک اور بڑی تبدیلی حکومت کی جانب سے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی)(PNG) کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ وہ گھرانے جن کے پاس پہلے سے پی این جی  کنکشن موجود ہے، ممکن ہے کہ انہیں ایل پی جی استعمال جاری رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ حالیہ قواعد کے مطابق، اگر کسی گھر کوپی این جی کی سہولت ہونے کے باوجود وہ اس پر منتقل نہیں ہوتا، تو تین ماہ کے اندر ایل پی جی کی فراہمی بند کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK