Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل فسادات: ایس پی کے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کردیا

Updated: August 06, 2026, 7:34 PM IST | Lucknow

جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے برق نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا لیکن انہوں نے عوام کے بجائے پولیس اور حکومت کو قصوروار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام سی سی ٹی وی اور فون فوٹیج ہونے کے باوجود رہائشیوں کے پاس ہتھیار ہونے کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

Zia ur Rahman Barq. Photo: X
ضیاء الرحمٰن برق۔ تصویر: ایکس

نومبر ۲۰۲۴ء میں ہونے والے سنبھل تشدد کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشیل کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بدامنی ”پہلے سے منصوبہ بند“ تھی اور اس کے پیچھے مبینہ طور پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق، سہیل اقبال (ایس پی کے ایم ایل اے اقبال محمود کے بیٹے) اور شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کے اراکین کا ہاتھ تھا، جبکہ چار مسلم مردوں کے قتل کے معاملے میں اتر پردیش پولیس کو کلین چٹ دے دی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس دیویندر کمار اروڑہ کی سربراہی میں تیار کی گئی یہ رپورٹ گزشتہ سال اگست میں ریاستی حکومت کو پیش کی گئی تھی اور بدھ کو اسمبلی میں پیش کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ

یوپی کے شہر سنبھل میں ۲۴ نومبر ۲۰۲۴ء کو اس وقت تشدد بھڑک اٹھا تھا جب اے ایس آئی کے سروے کے دوران مسجد کے باہر جمع ہونے والے مسلم مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کر دی، جس میں چار نوجوان مارے گئے۔ کمیشن نے اس بدامنی کو ”سیاسی عزائم“ اور مسجد پر کنٹرول برقرار رکھنے کی کوششوں سے چلائی جانے والی سازش قرار دیا، جس میں سابقہ سروے کے دوران رکاوٹ ڈالنے، جمعہ کی نماز کے بعد برق کے تبصروں، واٹس ایپ کے پیغامات، اور برق نیز مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی کے درمیان فون کالز کا حوالہ دیا گیا۔

کمیشن نے پولیس فائرنگ کو موت کی وجہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم اور بیلسٹک ثبوتوں کا حوالہ دیا جو ۔۳۱۵ بور کے ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو پولیس کے پاس نہیں تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اموات مقامی گروہوں کے مبینہ شرپسندوں کے درمیان کراس فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ متاثرین کے لواحقین نے اپنی ایف آئی آرز یا بیانات میں پولیس پر الزام نہیں لگایا تھا۔ پینل نے پتھراؤ، آتش زنی اور پولیس پر حملوں کا بھی ذکر کیا اور تلاشی کے دوران ملنے والے امریکہ ساختہ شاٹ گن کے شیل کو ممکنہ بیرونی مداخلت کیلئے باریک بینی سے تفتیش کا مستحق قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: عتیق احمد کے چھوٹے بیٹے ابان احمد کی جھانسی میں سڑک حادثے میں موت

ضیاء الرحمٰن برق کا ردعمل

جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے برق نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا لیکن انہوں نے عوام کے بجائے پولیس اور حکومت کو قصوروار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام سی سی ٹی وی اور فون فوٹیج ہونے کے باوجود رہائشیوں کے پاس ہتھیار ہونے کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانچ نہتے افراد کو قتل کیا گیا اور ۱۰۰ سے زائد بے گناہ رہائشیوں کو جیل بھیجا گیا، انہوں نے حکومت پر انتخابات سے قبل سیاسی فائدے کیلئے رپورٹ کے اجراء میں تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ ایس پی کے رکنِ پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے برق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مداخلت کی وجہ سے مزید اموات کو روکا جا سکا۔

یہ بھی پڑھئے: کامل اور فاضل اسناد کیخلاف سرکاری فیصلے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی عبوری روک

کمیشن کے نتائج اے پی سی آر اور کاروانِ محبت کی جولائی ۲۰۲۵ء کی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے برعکس ہیں جس میں تشدد کو ”ہدف بنا کر کی جانے والی مسلم مخالف تشدد“ کے طور پر بیان کیا گیا تھا جس میں پولیس کے ذریعے قتل اور ریاستی ملی بھگت شامل تھی جبکہ بانی ہرش مندر نے ان واقعات کو ”مصنوعی طور پر تیار کردہ“ قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK