بروک لیسنر کے کئی بڑے ریسلرز کے ساتھ مقابلے یادگار رہے، انڈرٹیکرکی ۲۱؍ مقابلوں میںجیت کےسلسلے کو بھی توڑا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 11:26 AM IST | Stanford
بروک لیسنر کے کئی بڑے ریسلرز کے ساتھ مقابلے یادگار رہے، انڈرٹیکرکی ۲۱؍ مقابلوں میںجیت کےسلسلے کو بھی توڑا۔
ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ(ڈبلیو ڈبلیو ای)کے لیجنڈ بروک لیسنر نے ریسلنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ وہ دوبارہ کبھی رنگ میں نظر نہیں آئیں گے۔ لیسنر نے جو ڈبلیو ڈبلیو ای اور یو ایف سی ہیوی ویٹ ٹائٹلز میں بھی حصہ لے چکے ہیں،نائیجیرین ریسلر اوبا فیمی کے خلاف شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔لیسنر نے نہ صرف ڈبلیو ڈبلیو ای بلکہ بلکہ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، فیمی کے خلاف اپنی شکست کے بعد۴۹؍ سالہ ریسلر نے محسوس کیا کہ انہیں ریسلنگ چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ ان کا آخری مقابلہ یکم اگست کو ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: الکاراز نے سنسناٹی اوپن سے نام واپس لیا
بروک لیسنر کا کریئر شاندار رہا ہے
بروک لیسنر کا کیریئر کھیلوں میں سب سے منفرد اور کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ ساؤتھ ڈکوٹا میں ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے لیسنر نے مینیسوٹا یونیورسٹی میں این سی اے اے ڈویژن وَن نیشنل چمپئن شپ جیتی۔ وہ دو بار آل امریکن اور دو بار بگ ٹین چمپئن بھی بنے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ساتھ معاہدہ کیا۔۲۰۰۲ءمیں انہوں نے نے ’دی راک ‘ جانسن کو شکست دے کر اپنا پہلا ڈبلیو ڈبلیو ای خطاب جیتا تھا۔ انہوں نے مجموعی طور پر۱۰؍ مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا۔ اس نے دو بار رائل رمبل(۲۰۰۳ء اور۲۰۲۲ء)، کنگ آف دی رنگ ٹورنامنٹ(۲۰۰۲ء) اور منی ان دی بینک لیڈر میچ(۲۰۱۹ء) بھی جیتا۔ ان کا مشہور فنشنگ موو ایف فائیو اور جرمن سپلیکس جیسے داؤ آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: زخم سے متاثرہ۱۰؍ ماہ کے مشکل دور نے مجھے بہت کچھ سکھایا: نیرج چوپڑا
یو ایف سی لڑائی میں لیسنر کی صلاحیت
۲۰۰۴ء میں لیسنر نے ڈبلیو ڈبلیو ای چھوڑ دیا اور این ایف ایل میں میں مینیسوٹا وائکنگز کے ساتھ کچھ پری سیزن گیمز کھیلے۔۲۰۰۷ء میں انہوں نے ایم ایم اے کی دنیا میں قدم رکھا اور۲۰۰۸ء میں رینڈی کوچر کو شکست دے کر یو ایف سی ہیوی ویٹ چمپئن شپ جیتی۔ انہوں نے۲۰۱۱ء میں یو ایف سی چھوڑ دیا اور۲۰۱۲ء میں ڈبلیو ڈبلیو ای میں واپس آئے۔ ریسل مینیا۳۰؍ ان کیلئے یادگار سیزن تھا جب انہوں نے اس سیزن میں انڈر ٹیکرکوشکست دے کر ان کے لگاتار ۲۱؍ مقابلوں میں فتح کے سلسلے کو توڑاتھا ۔یہ مجموعی طورپر ریسلنگ کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔لیسنر نے اپنی آخری ایم ایم اےفائٹ یو ایف سی ۲۰۰؍میں مارک ہنٹ کے خلاف۲۰۱۶ء میں لڑی تھی۔ انہوں نے جان سینا، ٹرپل ایچ، سی ایم پنک، رومن رینس، رینڈی اورٹن، گولڈ برگ، سیٹھ رولنس اور ساموا جو جیسے کئی بڑے ریسلرز کے ساتھ ان کے یادگار مقابلے ہوئے۔