ذیشان انصاری نے کہا کہ دونوں نے ان کی گیندبازی کو بہتر کرنے میں مدد کی۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 12:53 PM IST | Agency | New Delhi
ذیشان انصاری نے کہا کہ دونوں نے ان کی گیندبازی کو بہتر کرنے میں مدد کی۔
ہندوستان کے نوجوان لیگ اسپنر ذیشان انصاری کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی طرف سے کھیلتے ہوئے لیجنڈری اسپنروں متھیا مرلی دھرن اور ڈینیل ویٹوری سے ملنے والی رہنمائی نے انہیں اپنے کھیل کو نکھارنے میں مدد کی۔ایشان کشن، رشبھ پنت اور واشنگٹن سندر جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ ہندوستان کی انڈر ۔۱۹؍ ورلڈ کپ ۲۰۱۶ء ٹیم کا حصہ رہے ذیشان کے کریئر میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب آئی پی ایل ۲۰۲۵ء کے لئے سن رائزرز نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: روی چندرن اشون، اجنکیا رہانے سمیت کئی بڑے ستارے ایکشن میں نظر آئیں گے
ذیشان انصاری نے کہا’’جب میں سن رائزرز میں تھا، تو مجھے متھیا مرلی دھرن اور ڈینیل ویٹوری سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انہوں نے مجھے گیند بازی کے بارے میں کئی ایسی باتیں بتائیں جو مجھے معلوم نہیں تھیں۔ ان سے میں نے جو کچھ بھی سیکھا ہے، اس سے مجھے بہت مدد ملی ہے۔ اگر میں ان کی سکھائی ہوئی باتوں پر عمل کرتا رہوں گا تو میرا کھیل مزید بہتر ہوتا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہاکی ورلڈ کپ :ارجنٹائنا سے ہار کر ہندوستانی مردوں کی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر
اس ۲۶؍سالہ کھلاڑی کو یو پی ٹی ۔۲۰؍ لیگ کے دوران ہندوستان کے سابق اسپنر پیوش چاولہ کی رہنمائی سے بھی فائدہ مل رہا ہے۔ ذیشان انصاری نے کہا’’میں نے یو پی ٹی ۔۲۰؍ میں پیوش چاولہ سے دو بار بات کی ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بہت اچھی گیند بازی کر رہا ہوں اور مجھے کچھ اہم مشورے بھی دئیے۔ میں ان سے جتنا ممکن ہو سکے سیکھ رہا ہوں۔ وہ میری بہت مدد کر رہے ہیں۔‘‘
ذیشان انصاری نے اپنی شاندار فارم کو یوپی ٹی ۔۲۰؍ لیگ میں بھی برقرار رکھا ہے، جہاں وہ ۶؍ میچوں میں ۱۴؍وکٹیں لے کر سب سے آگے ہیں۔ ان کی ٹیم میرٹھ ماورکس بھی اب تک ناقابل شکست رہی ہے اور اس نے اپنے تمام ۶؍ میچ جیت لئے ہیں۔انہوں نے کپتان رنکوسنگھ کی کمیونیکیشن کی صلاحیتوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ جڑنے کی قابلیت کی بھی تعریف کی۔ ذیشان انصاری نے کہا’’ان کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ تمام کھلاڑیوں سے بات کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ میدان پر ہوتے ہیں، تو وہ آپ سے بات کرنے اور آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو بولنگ کرنی چاہیے یا نہیں۔ یہی چیز انہیں واقعی خاص بناتی ہے۔‘‘