آئرلینڈ کے معروف ادیب جوزف تھامس شیریدان لی فانو کی شہرہ آفاق کہانی ’’کارمیلا‘‘ Carmilla کا اردو ترجمہ
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 3:24 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
آئرلینڈ کے معروف ادیب جوزف تھامس شیریدان لی فانو کی شہرہ آفاق کہانی ’’کارمیلا‘‘ Carmilla کا اردو ترجمہ
مَیں یہ داستان اس لئے قلم بند کر رہی ہوں کہ وقت کے ساتھ وہ سب کچھ دھندلا نہ جائے جو کبھی میری زندگی کی حقیقت تھا، اور شاید اس لئے بھی کہ جو کچھ میرے ساتھ گزرا وہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ انسانی دل کی اُن گہری تہوں کی داستان ہے جہاں محبت اور خوف ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ مَیں جانتی ہوں کہ جو کچھ مَیں لکھنے جا رہی ہوں وہ بہتوں کو ناقابلِ یقین لگے گا مگر مَیں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ یہ سب میری آنکھوں کے سامنے ہوا، میری روح پر گزرا، اور آج بھی میری نیند میں سرگوشیوں کی طرح لوٹ آتا ہے۔
میرا بچپن اس دور افتادہ مقام پر گزرا جو آسٹریا کے ایک ویران مگر پُراسرار خطے میں واقع تھا۔ ہمارا قلعہ گھنے جنگلوں سے گھرا ہوا تھا ، ایسے جنگل جن میں دن کے وقت بھی ایک مدھم سی تاریکی بسی رہتی تھی، اور رات کے وقت تو جیسے درخت خود سانس لینے لگتے ہوں۔ میرے والد ایک شریف، خاموش طبع اور اصول پسند شخص تھے۔ وہ فوجی خدمات سے سبکدوش ہو چکے تھے اور اب اپنی باقی زندگی اسی تنہائی میں گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
میری ماں بہت پہلے وفات پا چکی تھیں، اور یوں میری پرورش زیادہ تر والد اور چند خادماؤں کے ہاتھوں ہوئی۔ تنہائی میری عادت بن چکی تھی۔ مَیں نے سیکھ لیا تھا کہ خاموشی میں بھی ایک طرح کی گفتگو ہوتی ہے، اور فطرت کے شور میں بھی انسان اپنی تنہائی سن سکتا ہے۔ ایک بات جو میں کبھی نہیں بھولی، وہ ایک خواب تھا ، یا شاید خواب نہیں، کوئی دھندلی یاد ، جو مجھے بچپن سے ستاتی رہی۔ مَیں نے کئی بار اپنے والد کو بتایا کہ جب میں چھ یا سات برس کی تھی، ایک رات ایک حسین، نرم آواز والی لڑکی میرے کمرے میں آئی تھی۔ اس نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اور یوں لگا جیسے کسی نے اسے آواز دی ہو، اور وہ غائب ہو گئی۔ میرے والد اس بات کو وہم سمجھتے رہے مگر مجھے وہ ہمیشہ یاد رہی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک احمق کا خواب
سال گزرتے گئے۔ مَیں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی مگر ہماری زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی۔ مہمان کم آتے تھے، اور اگر آتے بھی تو رسمی گفتگو کے بعد چلے جاتے۔ مَیں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میری قسمت میں ایک ایسا رشتہ لکھا ہے جو میری پوری ذات کو ہلا دے گا۔ یہ سب اس دن شروع ہوا جب ہمارے قلعے کے قریب ایک عجیب حادثہ پیش آیا۔
ایک دوپہر ہم نے شور سنا ، پہیوں کی چرچراہٹ، گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اور پھر اچانک ایک چیخ۔ ہم باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک شاندار گاڑی الٹ چکی تھی۔ خادم دوڑ پڑے۔ مَیں اور میرے والد بھی قریب گئے۔ گاڑی کے اندر ایک خاتون تھیں، جن کے چہرے پر گھبراہٹ تھی، اور ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بیہوش پڑی تھی جسے دیکھتے ہی مجھے ایک عجیب سا جھٹکا لگا۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر حسین تھا۔یہ حسن عام نہیں تھا۔ اس میں نرمی بھی تھی اور ایک پوشیدہ سی اداسی بھی، جیسے وہ صدیوں کی تھکن اپنے اندر سموئے بیٹھی ہو۔ اس کے بال سیاہ، لمبے اور چمکدار تھے، اور اس کی بند پلکوں کے نیچے جیسے کوئی راز سو رہا ہو۔ اس کی ماں ، یا جو خود کو اس کی ماں کہہ رہی تھی، نے بےچینی سے میرے والد سے درخواست کی کہ وہ لڑکی کو کچھ دن کیلئے ہمارے پاس رکھ لیں۔ اس نے کہا کہ وہ ایک نہایت ضروری سفر پر ہیں، اور بیٹی کو اس حالت میں ساتھ لے جانا ممکن نہیں۔ میرے والد نے ہمدردی کے جذبے سے فوراً رضامندی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سیاہ راہب
یوں کارمیلا ہمارے قلعے میں داخل ہوئی۔ جب وہ ہوش میں آئی تو مَیں اس کے بستر کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں کھولیں، اور پہلی ہی نظر میں مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھے پہچانتی ہو۔ اس کی نظریں میرے چہرے پر ٹھہر گئیں، اور ایک مدھم سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آگئی۔’’ہم پہلے بھی مل چکے ہیں،‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ میرا دل زور سے دھڑکا۔ مَیں نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ شاید وہ غلطی پر ہے۔ مگر اس نے میرا انکار قبول نہ کیا، ’’نہیں،‘‘ اس نے نرمی سے کہا، ’’ہماری روحیں پہلے ہی ایک دوسرے کو جانتی ہیں۔‘‘ اس لمحے مجھے وہی بچپن کا خواب یاد آ گیا ، وہی بڑھا ہوا ہاتھ، وہی آواز۔
کارمیلا کا رویہ ابتدا ہی سے غیر معمولی تھا۔ وہ دن کے وقت سوتی، شام کے بعد متحرک ہوجاتی، اور رات کو دیر تک جاگتی رہتی۔ اسے جنگل سے محبت تھی مگر وہ اکیلی باہر نہیں جاتی تھی۔ وہ اکثر میرا ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ اسے میرے بغیر گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں محبت تھی، مگر ایسی محبت جو کبھی کبھی خوف پیدا کر دیتی تھی۔
کچھ دنوں میں مَیں نے محسوس کیا کہ میری طبیعت میں تبدیلی آرہی ہے۔ کمزوری بڑھنے لگی، رات کو عجیب خواب آتے، اور کبھی کبھی گردن پر ایک ٹھنڈا سا لمس محسوس ہوتا۔ مگر جب مَیں کارمیلا سے اس کا ذکر کرتی تو وہ مجھے گلے لگا لیتی، اور کہتی کہ یہ سب محض تھکن ہے۔ اور مَیں اس کی بانہوں میں خود کو محفوظ بھی محسوس کرتی تھی، اور کہیں اندر ایک نامعلوم خوف بھی جاگتا تھا۔
یہ سب ابھی شروعات تھی۔
کارمیلا کی موجودگی ہمارے قلعے میں محض ایک مہمان کی آمد نہیں تھی؛ وہ یوں محسوس ہوتی تھی جیسے کسی خاموش مگر طاقتور شے نے آ کر ہماری زندگی کی رفتار بدل دی ہو۔ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر جلد ہی مَیں نے محسوس کیا کہ اس کے آنے کے بعد وقت کی روانی کچھ سست اور بوجھل ہو گئی ہے، جیسے ہر لمحہ اپنے اندر کوئی انجانی بات چھپائے بیٹھا ہو۔ کارمیلا کی عادتیں میرے لئے عجیب تھیں، مگر ان میں ایک کشش بھی تھی۔ سورج کی روشنی اسے ناگوار گزرتی۔ قلعہ کے پردے ہمیشہ گرے رہتے، اور وہ نیم تاریکی میں زیادہ پرسکون نظر آتی۔ شام ڈھلتے ہی اس کی طبیعت بدل جاتی؛ وہ زندہ دل ہو جاتی، اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک آجاتی، اور اس کی آواز میں وہ نرمی آ جاتی جو دل کو بے اختیار اپنی طرف کھینچ لیتی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم دونوں باغ میں ٹہلتے۔ کارمیلا میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھتی، جیسے مجھے کھو دینے کا خوف ہو۔ مَیں ان باتوں کو محض جذباتی خیال سمجھتی، مگر ان کے پیچھے چھپا اضطراب مجھے بےچین کر دیتا۔ جلد ہی میری صحت میں واضح تبدیلی آنے لگی۔ مَیں تھکن محسوس کرنے لگی، جیسے میرا جسم کسی انجانی لڑائی میں الجھ گیا ہو۔ رات کو نیند آتی تو خوابوں میں عجیب مناظر نظر آتے ، نیم روشن کمرے، سرگوشیاں، اور وہی ٹھنڈا لمس جو مجھے چونکا دیتا۔ کئی بار میں ہڑبڑا کر جاگتی، اور کارمیلا کو پاس بیٹھا پاتی۔ وہ میرے بال سہلاتی، آہستہ سے کہتی کہ مَیں محفوظ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سینڈ مین
اس قربت میں ایک عجیب تضاد تھا۔ اس کے لمس میں سکون بھی تھا اور خوف بھی۔ ایک دن علاقے میں افواہ پھیلی۔ قریبی دیہات میں ایک نوجوان لڑکی پراسرار بیماری کے باعث مر گئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ اچانک کمزور ہو گئی، اس کا رنگ زرد پڑ گیا، اور آخرکار وہ خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ چند دن بعد ایک اور خبر آئی ، ایک اور لڑکی بیمار پڑ گئی تھی، اور اس کی حالت بھی ویسی ہی تھی جیسی میری ہوتی جا رہی تھی۔ تب میرے والد نے پہلی بار تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک معالج کو بلایا، جس نے میری نبض دیکھی، آنکھوں میں جھانکا، اور سر ہلا کر کہا کہ یہ بیماری عام نہیں لگتی۔ اس کی نظر بار بار میری گردن پر جاتی، جہاں ہلکے سے نشان نمودار ہو رہے تھے، جیسے کسی نے باریک سوئی سے چھوا ہو۔
کارمیلا اس معائنے کے دوران کمرے میں موجود نہیں تھی۔ وہ کسی انجانی وجہ سے بےچین رہنے لگی تھی۔ اس نے کئی بار کہا کہ وہ خود کو یہاں اجنبی محسوس کرتی ہے، اور کبھی کبھی اسے لگتا ہے کہ اس پر کوئی سایہ منڈلا رہا ہے۔
اسی دوران ہمارے گھر ایک مہمان آیا، ایک بوڑھا جنرل، جس کے چہرے پر غم کی گہری لکیریں تھیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی بھی اسی پراسرار بیماری کا شکار ہو کر مر چکی ہے۔ جب اس نے کارمیلا کو دیکھا تو اچانک رک گیا، جیسے کوئی بھولی ہوئی یاد جاگ اٹھی ہو۔ اس نے دھیرے سے کہا کہ کارمیلا کی شکل و صورت اس کی بیٹی کے ایک دوست سے ملتی جلتی ہے، جس کا نام، کارمیلا تھا۔ یہ سن کر میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ کارمیلا کے چہرے پر پہلی بار بےچینی صاف دکھائی دی۔ اس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔ قلعے کے باہر ہوا میں عجیب سی سرسراہٹ تھی، اور دور کہیں کسی جانور کی آواز گونج رہی تھی۔ مجھے اپنے کمرے کے دروازے کے پاس ہلکی سی حرکت محسوس ہوئی۔ کارمیلا اندر آئی۔ اس کے چہرے پر وہی نرم مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں ایک بےچین چمک۔ اس نے قریب آ کر سرگوشی کی،’’تم مجھ سے ڈرو مت۔ جو کچھ بھی ہو، مَیں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔‘‘ مَیں خاموش رہی۔ اگلے چند دنوں میں میرے والد کی تشویش ایک واضح خوف میں بدل گئی۔ وہ اب محض میری کمزوری یا بےخوابی کو نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ میری آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے نمایاں ہو چکے تھے، سانس میں بے سبب تھکن تھی، اور دل کی دھڑکن اکثر یوں بے ترتیب ہو جاتی جیسے کوئی انجانی طاقت میرے وجود کی رفتار طے کر رہی ہو۔ اسی دوران وہ بوڑھا جنرل دوبارہ ہمارے قلعے آیا۔ اس کے ساتھ ایک نہایت سنجیدہ اور خاموش طبیعت شخص بھی تھا، جس کے چہرے پر تجربے کی سختی جھلکتی تھی۔ وہ خود کو قدیم اشیاء کا ماہر اور لوک کہانیوں کا محقق بتاتا تھا۔ گفتگو جلد ہی ان پراسرار اموات کی طرف مڑ گئی جو آس پاس کے علاقوں میں ہو رہی تھیں۔ جنرل نے دھیمے لہجے میں کہا،یہ بیماری نہیں، ایک سلسلہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا
اس جملے نے کمرے کی فضا بدل دی۔ اس شخص نے بتایا کہ صدیوں پہلے اسی علاقے میں ایک اشرافیہ خاندان کی ایک عورت پر الزام لگا تھا کہ وہ نوجوان لڑکیوں کی جان آہستہ آہستہ کھینچ لیتی تھی۔ اس کا نام مختلف ادوار میں بدلتا رہا، مگر چہرہ ہمیشہ ایک سا رہا۔
مَیں خاموش بیٹھی سنتی رہی، مگر میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ہر لفظ میرے ذہن میں کارمیلا کے کسی نہ کسی پہلو سے جڑتا جا رہا تھا۔ اسی وقت جنرل نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا خاکہ نکالا۔ یہ ایک نوجوان لڑکی کی تصویر تھی، سیاہ بال، نرم مگر اداس آنکھیں، اور ایک مانوس سی مسکراہٹ۔ مَیں نے تصویر پر نظر ڈالی تو سانس رُک گئی۔ یہ کارمیلا تھی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ میرے والد نے تصویر دوبارہ دیکھی، پھر میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو باپ اپنی اولاد کیلئے محسوس کرتا ہے، مگر ساتھ ہی ایک عزم بھی۔
اسی شام، جب کارمیلا کو اس گفتگو کا علم ہوا، اس کا رویہ بدل گیا۔ وہ بےچین تھی، کمرے میں ٹہلتی رہی، اور بار بار کہتی رہی کہ اسے یہاں سے جانا ہوگا۔ اس نے مجھ سے التجا کی کہ مَیں اس کے ساتھ چلوں۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی، اور آواز میں وہی نرمی جو مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی تھی مگر اب اس نرمی کے پیچھے ایک اندھیرا صاف نظر آنے لگا تھا۔
اس رات مَیں نے اپنے کمرے کے دروازے بند کر لئے مگر نیند پھر بھی نہ آئی۔ رات بھر بھیانک خواب دیکھتی رہی۔ اگلی صبح قلعے میں فیصلہ ہو چکا تھا۔ جنرل، محقق، اور میرے والد نے اس پراسرار سلسلے کا خاتمہ کے ارادہ کر لیا تھا۔ صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کارمیلا کو نوکروں نے دبوچ لیا، اور اسے بے بس کرکے تابوت میں ڈال دیا گیا۔ یہ سب اس وقت ہوا، جب مَیں سوئی ہوئی تھی۔ پھر سبھی نے پرانے قبرستان کا رخ کیا، جہاں اس اشرافیہ خاندان کے مقبرے واقع تھے۔ مَیں کمزور ہونے کے باوجود اس سفر پر اصرار کرکے گئی، جیسے میرا ہونا اس کہانی کا آخری تقاضا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں
قبرستان میں فضا بوجھل تھی۔ درختوں کی شاخیں جھکی ہوئی تھیں، اور ہوا میں نمی کے ساتھ ایک بوسیدہ سی خوشبو تھی۔ انہوں نے ایک قدیم قبر کھولی، کارمیلا کا تابوت اس میں اتارا، اور جب اسے کھولا گیا تو منظر ناقابلِ بیان تھا۔ تابوت میں ایک عورت لیٹی تھی اس کا چہرہ زندگی سے بھرپور لگ رہا تھا، گالوں پر سرخی، ہونٹوں پر مسکراہٹ۔وہ کارمیلا تھی۔ اس کے سیاہ بال ریشمی لہروں کی طرح شانے کے گرد پھیلے تھے۔ اگر کوئی اجنبی اسے دیکھتا تو کہتا کہ یہ موت نہیں، آرام ہے۔
جنرل کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ محقق نے سرد مگر پختہ آواز میں قدیم الفاظ دہرائے۔ میرے والد نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ میری انگلیاں برف کی طرح سرد تھیں۔ پھر وہ لمحہ آیا۔ ایک نوکیلی لکڑی کا داؤ، جسے رسم کے مطابق تیار کیا گیا تھا، اس کے سینے پر رکھا گیا۔ چند ثانیے کیلئے فضا میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے زمین خود سن رہی ہو۔ اور پھر ، داؤ کو پوری قوت سے اس کے دل میں اتار دیا گیا۔کارمیلا کی آنکھیں یکایک کھل گئیں۔ اس کے ہونٹ کھلے، اور ایک چیخ فضا میں گونجی۔ اس میں درد تھا، مگر ساتھ ہی کوئی قدیم، زخمی غرور بھی۔
مَیں نے اپنے کان بند کر لئے مگر آواز میرے اندر اتر گئی۔ اس کے جسم نے ایک لمحے کو جھٹکا کھایا، جیسے وہ زندگی کی آخری ڈور تھامے ہوئے ہو۔ پھر وہ مسکراہٹ وہی نرم، اداس مسکراہٹ اس کے لبوں پر ایک بار پھر ابھری۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھے دیکھ رہی ہو۔ پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔ محقق نے ایک ویمپائر کو بے بس کرنے کی رسم کے باقی مراحل ادا کئے۔ مَیں نے نظریں پھیر لیں۔ آخر میں اس کے جسم کو نذر آتش کردیا گیا۔
شعلے بلند ہوئے، اور دھواں آسمان کی طرف اٹھا۔ اس دھوئیں میں مَیں نے ایک لمحے کیلئے ایک مانوس سی صورت دیکھی، جیسے کسی نے الوداع کہا ہو۔جب سب کچھ راکھ ہو گیا، قبر دوبارہ بند کر دی گئی۔ لوگوں نے سکھ کا سانس لیا، اور مَیں خاموش ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح
قلعے کی دیواریں اب بھی وہی تھیں، راہداریوں میں وہی خاموشی بسی تھی، مگر اس خاموشی کا مفہوم بدل چکا تھا۔ اب وہ سکون نہیں بلکہ ایک ایسے راز کی گواہ تھی جو کبھی مکمل طور پر دفن نہیں ہو سکتا۔ کچھ دن بعد مَیں قلعہ چھوڑ کر اپنے والد کے ساتھ شہر چلی گئی۔ میری صحت آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی مگر اندر ایک خلا سا رہ گیا تھا۔ مَیں جانتی تھی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا، وہ محض خوف کی کہانی نہیں تھی۔ اس میں محبت بھی تھی، تنہائی بھی، اور ایک ایسی کشش جو شاید ہمیشہ ساتھ رہے گی۔ کبھی کبھی جب رات خاموش ہوتی ہے اور ہوا میں وہی پرانی سرسراہٹ ہوتی ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ کوئی میرا نام لے رہا ہے ۔ اور مَیں چونک کر جاگ اٹھتی ہوں۔
اس کہانی کو لکھتے ہوئے میرا مقصد خوف پھیلانا نہیں۔ مَیں یہ نہیں کہنا چاہتی کہ دنیا پراسرار مخلوقات سے بھری ہوئی ہے۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دفن کیا جا سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔