Inquilab Logo

ایک طبع زاد اور غیر مطبوعہ کہانی: شاہی قید خانہ

Updated: June 28, 2024, 9:56 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

شاہی قید خانہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر دس قدم کے فاصلے پر جیل کی بوسیدہ دیواروں پر مشعلیں جل رہی تھیں مگر ان کی مدھم روشنی تاریکی کو ختم کرنے میں ناکام ثابت ہورہی تھی۔ قید خانے کے سب سے بدبودار کمرے میں ایک لڑکی اپنا سر گھٹنوں میں دیئے بیٹھی تھی۔

Giovanni Bugatti Marwi Royal Prison. Photo: INN
شاہی قید خانہ۔ تصویر : آئی این این

دیگر طبع زاد کہانیاں

یہ بھی پڑھئے: نشوبا اور چاند

یہ بھی پڑھئے: یونانی موسیقار

یہ بھی پڑھئے: عظیم فنکار

یہ بھی پڑھئے: عظیم تباہی

یہ بھی پڑھئے: شہزادی البا

یہ بھی پڑھئے: پراسرار صندوق

یہ بھی پڑھئے: بدروح اور رومی شہزادہ

شاہی قید خانہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر دس قدم کے فاصلے پر جیل کی بوسیدہ دیواروں پر مشعلیں جل رہی تھیں مگر ان کی مدھم روشنی تاریکی کو ختم کرنے میں ناکام ثابت ہورہی تھی۔ قید خانے کے سب سے بدبودار کمرے میں ایک لڑکی اپنا سر گھٹنوں میں دیئے بیٹھی تھی۔ اس کی عمر ۳۰؍ سال کے قریب تھی۔ آنکھوںکے نیچے گہرے سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔ آنکھوں میں ویرانی تھی۔ گال پچک کر اندر چلے گئے تھے۔ بال بے ترتیبی سے پشت اور کندھوں پر پھیلے ہوئے تھے۔ وہ انتہائی کمزور لگ رہی تھی۔ اس قید خانے میں اسے ۱۹؍ سال کی عمر میں لایا گیا تھا۔ ۱۱؍ سال گزر جانے کے باوجود اس کی سزا کم ہوئی تھی نہ ختم۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ ابھی اور کتنے سال اسے یہیں گزارنے ہیں۔ اس جیل میں سبھی مرد تھے، وہ واحد خاتون تھی۔
ریگستان اور دریا کے سنگم پر واقع ’’بیاز‘‘ گاؤں اپنے منفرد جغرافیائی محل و وقوع کیلئے دور دور تک مشہور تھا۔ یہ دریا ڈولفن مچھلیوں کا مسکن تھا۔ اسی گاؤں میں ماروی نامی ایک ۱۹؍ سالہ لڑکی بھی رہتی تھی۔ بیاز میں یوں تو کئی خوبصورت لڑکیاں تھیں مگر ماروی کے چہرے کی کشش اور لمبے ریشمی بھورے بالوں سے لوگوں کی نظریں ہٹتی ہی نہیں تھی۔ بڑی چنچل اور شریر تھی۔ ماں باپ کو اکثر اس کی شرارتوں کے سبب خفت اٹھانی پڑتی تھی مگر وہ اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ وہ ایسی شرارتیں نہیں کرتی تھیں جن سے کسی کی دل آزاری ہو۔ بیاز کا ہر خاندان ماروی سے محبت کرتا تھا۔ ڈولفن مچھلیاں بھی اس کی دوست تھیں۔ ماروی جب بھی اپنے پالتو مور کے ساتھ دریا کے پاس جاتی تو مچھلیاں سطح آب پر آجاتیں اور پھر سبھی گھنٹوں پانی میں کھیلا کرتے۔ مور ہر وقت ماروی کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ 
ایک دن ماروی مچھلیوں اور مور کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی کہ اسے گھوڑوں کی ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ دریا کے دوسرے کنارے بادشاہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے گھوڑے پانی پی رہے تھے جبکہ بادشاہ کی نظریں ماروی پر جمی ہوئی تھیں۔ جب تک ماروی دریا کے کنارے موجود رہی، بادشاہ بھی وہیں رہا مگر جب ماروی کو احساس ہوا کہ حکمرانِ مملکت اسے ہی دیکھ رہا ہے تو وہ جلدی سے اپنے گھر آگئی۔
اگلے دن بادشاہ کے چند آدمی ماروی کے والد کے پاس شادی کا پیغام لے آئے۔ بادشاہ انتہائی ظالم اور جابر شخص تھا۔ اسے اپنی رعایا میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ہر وقت اپنا خزانہ بھرنے کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ اس کی جیل میں ہزاروں بے گناہ افراد قید تھے۔ وہ ان قیدیوں کو تفریح کی غرض سے شہر کے بڑے میدان میں اس وقت تک لڑوایا کرتا تھا جب تک ان میں سے ایک کی جان نہ چلی جائے، اور پھر جان لینے والے شخص کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا۔ دونوں ہی صورتوں میں ان قیدیوں کی تقدیر میں موت تھی۔
بادشاہ کی طرف سے شادی کے پیغام نے بیاز کے ہر خاندان کو بے چین کردیا۔ گاؤں کا کوئی بھی شخص نہیں چاہتا تھا کہ ماروی کی شادی ظالم بادشاہ سے ہو۔ ماروی کے والد نے بادشاہ کے آدمیوں کو یہ کہتے ہوئے رخصت کردیا کہ کل صبح ۸؍ بجے وہ ماروی کو دلہن بناکر محل لے آئیں گے۔ اور پھر سبھی نے اسی رات گاؤں چھوڑنے کا منصوبہ بنایا۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ تیاری کرنے لگے مگر بادشاہ کو ان کے منصوبے کی بھنک پڑگئی، اور وہ اپنی فوج کے ساتھ بیاز پہنچ کر قتل و غارت شروع کردی۔
دریا کا پانی بے گناہوں کے خون سے سرخ ہوگیا۔ ماروی نے جب اپنے لوگوں کو مرتے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اپنا سارا سامان چھوڑ کر بادشاہ کے گھوڑے کے قریب گئی، اور روتے ہوئے کہنے لگی کہ وہ اسے ساتھ لے کر چلے اور اس کے لوگوں کو چھوڑ دے۔ بادشاہ کے مکروہ چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے ماروی کو ساتھ لیا اور محل کی جانب بڑھ گئے۔ ماروی کا مور روتا بلکتا، اس کے پیچھے دوڑتا رہا، ڈولفن بے قرار ہوکر سطح آب پر آگئیں مگر بادشاہ کے ظلم کے سامنے کسی کی ایک نہ چلی۔
گاؤں کے لوگ مایوسی کے عالم میں اپنے گھروں کو لوٹ گئے جنہیں بادشاہ کے آدمیوں نے تباہ کردیا تھا۔ ماروی کے چلے جانے سے سبھی غمگین تھے۔ ان کا گاؤں بری طرح اجڑ چکا تھا۔ زندہ بچ جانے والے لوگ اپنے گاؤں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے اگلی صبح کا انتظار کرنے لگے۔
ادھر ماروی کو محل کے سب سے عالیشان کمرے میں پہنچایا گیا مگر اگلی صبح اس نے اطلاع بھجوائی کہ چاہے جو ہوجائے، وہ بادشاہ سے شادی نہیں کرے گی۔ بادشاہ نے اسے دولت اور عیش و عشرت کی زندگی کا لالچ دیا مگر ماروی نے سب کچھ ٹھکرادیا۔ وہ بادشاہ تھا اور ماروی ایک عام لڑکی جس نے حکمراں کو ٹھکرا دیا تھا۔ بادشاہ نے طیش کے مارے اسے شاہی قید خانے میں ڈلوادیا جہاں اب تک کسی بھی عورت کو نہیں ڈالا گیا تھا۔ بادشاہ نے اسے سخت سزا دینے کیلئے جیل کا سب سے بدبودار کمرہ منتخب کیا تھا۔ ماروی کے نازک پاؤں اور کلائیوں میں بھاری زنجیریں ڈال دی گئیں اور اسے پھٹا پرانالباس پہنا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ وہ ۱۱؍ سال سے اسی کمرے میں قید تھی۔ اسے دن بھر میں صرف ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا تھا۔ وہ برسوں سے پتلی دال اور دو سوکھی روٹیاں کھا رہی تھیں۔ وہ انتہائی کمزور ہوچکی تھی۔ مگر اب بھی فخریہ انداز میں بیٹھی رہتی تھی کہ اس نے ظالم بادشاہ کے آگے سر نہیں جھکایا تھا۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ وہ جس دن شادی کیلئے ہامی بھرے گی، اسے اسی دن قید خانے سے نکالا جائے گا۔
ایک دن اس قید خانے میں اُس جلاد کی آمد ہوئی جس کا نام سن کر ہی لوگ تھرتھر کانپنے لگتے تھے۔ وہ انتہائی سفاک اور ظالم تھا۔ اس کی آنکھیں ہر وقت سرخ رہتی تھیں۔ چہرے پر مختلف زخموں کے نشان تھے۔ بڑے ہاتھوں اور لمبے قد والا یہ جلاد لوگوں کے درمیان ’’مالکِ زندگی‘‘ کے نام سے مشہور تھا مگر اس نے آج تک کسی کو زندگی نہیں دی تھی بلکہ اس نے زندگیاں لی تھیں۔ وہ بادشاہ کے حکم کا غلام تھا۔ بادشاہ کے اشارے پر قیدیوں کے سر قلم کردیتا یا انہیں پھانسی پر لٹکا دیتا تھا۔ اس کا نام جیوانی بوگاتی تھا۔ اس نے سترہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ سر قلم کیا تھا۔ بادشاہ کے حکم سے وہ ہر سال سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔ ماروی کے کمرے کے سامنے جیوانی کے قدم ٹھہر گئے۔ سبھی قیدیوں کو لگا کہ آج ماروی کا سر قلم کیا جائے گا۔ مگر وہ چند منٹ رُک کر آگے بڑھ گیا اور پھر ایک قیدی کو لے کر باہر نکل گیا۔ جیوانی کبھی جیل میں نہیں آتا تھا۔ جیلر قیدیوں کو تختہ دار تک پہنچاتا تھا۔ جیلر کے نہ ہونے کے سبب آج جیوانی کو قید خانے میں آنا پڑا تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ ایسا کیا تھا۔ تاہم، ماروی کو دیکھنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ روزانہ جیل جائے گا۔
پھر وہ روزانہ قید خانے میں آنے لگا۔ اوپر سے سخت اور ظالم نظر آنے والا جلاد، ماروی کیلئے کھانے پینے کی کچھ چیزیں چھپا کرلاتا تھا۔ ماروی گیارہ برسوں سے خاموش تھی لیکن اب جلاد کی شکل میں اسے ایک دوست مل گیا تھا۔ وہ اس سے خوب باتیں کرتی تھیں۔ اپنے گاؤں، مور اور ڈولفن مچھلیوں کے قصے سناتی تھی۔ ایک دن ماروی نے جلاد سے پوچھ لیا، ’’تم نے یہ پیشہ کیوں اختیار کیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آگ

جلاد چند منٹوں تک اسے دیکھتا رہا، اور پھر اس نے ماروی کو ایک کہانی سنائی:
آج سے برسوں پہلے یہاں کے سب سے مشہور بازار میں ہماری چھوٹی سی ایک خوبصورت بیکری تھی۔ میری عمر ۱۶؍ سال تھی۔ والدین دن بھر بیکری میں کام کرتے تھے اور مَیں گاہکوں کے آرڈر لکھتا تھا۔ میری جڑواں بہن ’’فلورا‘‘ بیکری کے سامنے فٹ پاتھ پر پھولوں کا ٹھیلہ لگاتی تھی۔ وہ خود بھی پھولوں کی طرح خوبصورت تھی۔ ہر وقت مسکراتی رہتی تھی۔ آس پاس کی دکان والے اور گاہک سبھی اسے پسند کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جو پھول خریدنے آتا، وہ ہماری بیکری پر دوبارہ ضرور لوٹتا تھا۔ پھولوں کا ٹھیلہ لگانے کی ترکیب فلورا ہی کی تھی۔ اسی کے سبب بیکری کا کاروبار بھی نکل پڑا تھا۔ ہم سب خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے مگر ایک دن بادشاہ کی سواری اس طرف آنکلی۔اس کا قافلہ جونہی ہماری بیکری کے سامنے سے گزرا اس کی نظر پھولوں کے درمیان بیٹھی میری بہن فلورا پر پڑگئی۔
ظالم بادشاہ کا اشارہ ملتے ہی سپاہی اسے اپنے ساتھ لے جانے کیلئے آگے بڑھے۔ میرے والدین گڑگڑاتے رہ گئے۔ مگر بادشاہ نے ایک نہ سنی۔ طیش میں آکر مَیں نے چاقو اٹھا لیا اور بادشاہ کے چار سپاہیوں کو ٹھکانے لگادیا۔ لیکن اس کے پاس فوج تھی، اور مَیں تنہا تھا۔ آخر کتنی دیر مقابلہ کرسکتا تھا۔ ہم روتے گڑگڑاتے رہے۔ مگر ظالم بادشاہ اپنے ساتھ ہماری فلورا کو لے کر چلے گئے۔
بادشاہ نے اپنے مرجانے والے چار سپاہیوں کا بدلہ اس طرح لیا کہ دوسرے دن اس کے سپاہیوں نے ہماری بیکری مکمل طور پر تباہ کردی، پاؤ، بسکٹ، کیک تمام اشیاء سڑکوں پر پھینک دی، پھول نوچ ڈالے۔ انہوں نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا قتل کردیا۔ مَیں روتا گڑگڑاتا رہا۔ انہوں نے مجھے میرے والدین کو دفن کرنے تک کی مہلت نہیں دی اور مجھے قید کرکے محل لے گئے۔
محل میں میری بہن غم کی مورت بنی بادشاہ کے قدموں میں بیٹھی تھی۔ جب اسے والدین کی موت اور ہمارے ہنستے کھیلتے گھر کے مکمل طور پر اجڑ جانے کا علم ہوا تو وہ صدمہ نہیں برداشت کرسکی اور جاں بحق ہوگئی۔
 اس طرح صرف ۲؍ دن میں ظالم بادشاہ نے میرا سب کچھ چھین لیا اور پھر مجھے جلاد مقرر کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ مَیں نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چار سپاہیوں کو مار گرایا تھا۔ اس دن کے بعد سے مَیں بے گناہوں کو قتل کررہا ہوں۔
مَیں آزاد ہوں لیکن بادشاہ کا غلام ہوں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سب کچھ اجڑتے دیکھا ہے، اس لئے اب لوگوں کی جان لینا ہو، یا جان دینا ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ میرا دل اب کسی کیلئے نہیں پگھلتا۔ فلورا ہی کی طرح تم بھی بادشاہ کے ظلم کا شکار بنی ہو۔ مجھے تم میں فلورا نظر آتی ہے۔ مَیں تمہیں اس قیدخانے سے نکال تو نہیں سکتا، لیکن تھوڑا بہت خیال ضرور رکھ سکتا ہوں اس لئے روزانہ یہاں آجاتا ہوں کہ تم سے تھوڑی بات چیت کرسکوں۔
جیوانی کی کہانی سن کر ماروی کی آنکھیں بھر آئیں۔ جیوانی کا غم اس کے غم سے کہیں زیادہ تھا۔ دونوں کافی دیر تک گم صم بیٹھے رہے، اور پھر جیوانی لوٹ گیا۔
اسی رات بادشاہ کو علم ہواکہ جیوانی قید خانے میں ماروی سے ملنے جاتا ہے۔ بادشاہ اس قدر غضبناک ہوا کہ اس نے منادی کروا دی کہ اگلے دن شہر کے بڑے میدان میں ماروی کا سر قلم کیا جائے گا۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوگا جب کسی عورت کو اس قدر سخت سزا دی جائے گی۔ رعایا کیلئے یہ اعلان اس لئے بھی دلچسپ تھا کہ وہ ماروی کو دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سن رکھا تھا کہ اس نے ۱۱؍ سال پہلے کس طرح بادشاہ کو ٹھکرا کر قید میں رہنا پسند کیا تھا۔ اس لڑکی نے ۱۹؍ سال کی عمر میں وہ کر دکھایا تھا جو کرنے کی ہمت آج تک کسی بھی شہری میں نہیں ہوئی تھی۔ یہ لڑکی پورے شہر کیلئے طاقت اور ہمت کی نشانی تھی۔ اب اس کی موت کا وقت قریب آگیا تھا، لوگ چاہتے تھے کہ وہ اس مثالی لڑکی کا آخری دیدار کریں۔
اگلے دن میدان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا سارا شہر امڈ آیا ہو۔ ہر طرف لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ بادشاہ اپنے شاندار تخت پر براجمان تھا۔ میدان کے عین درمیان جیوانی بوگاتی اپنی چمکتی ہوئی بڑی سی تلوار لئے کھڑا تھا۔ آج برسوں بعد اس کے چہرے پر کرختگی نہیں تھی۔ وہ ایک نرم دل انسان نظر آرہا تھا۔ آج اس کے ہاتھوں میں لرزش تھی اور آنکھیں نم تھیں۔ اس کے دل میں برسوں بعد کسی کیلئے ہمدردی جاگی تھی۔ مگر ظالم بادشاہ کو یہ ہمدردی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔ اگر اسے جیوانی میں ایک سفاک اور کارآمد جلاد نظر نہ آتا تو وہ اسے بھی قتل کروادیا ہوتا۔ وہ ماروی کو چند لمحوں کا سکون دینا چاہتا تھا لیکن اب اس کی وجہ سے ماروی کو موت کی سزا سنا دی گئی تھی۔
میدان کا مرکزی دروازہ کھلا اور بھاری زنجیروں میں جکڑی ہوئی ماروی کو سپاہی دھکیلتے ہوئے تختہ دار کی طرف لانے لگے۔ لوگوں نے دیکھا کہ ماروی کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ بادشاہ کے ساتھ اپنی جنگ میں جیت گئی تھی۔ بادشاہ اس سے شادی نہیں کرسکا تھا۔ بادشاہ ایک شکست خوردہ حکمراں تھا جبکہ ماروی قیدی ہونے کے باوجود فخریہ انداز میں تختہ دار کی طرف بڑھ رہی تھی۔ آج میدان میں موجود ہر شہری ماروی کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ماروی ان کی ہمت تھی۔ ماروی ان کی طاقت تھی۔ اور آج وہ فخر سے تنی ہوئی تھی۔ وہ ظالم بادشاہ کے خلاف مزاحمت کی غالباً پہلی اور اب آخری آواز تھی۔
جیوانی کے قریب پہنچنے کے بعد ماروی نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا، اور پھر نفرت بھری نگاہوں سے بادشاہ کی طرف دیکھ کر ایک جانب تھوک دیا۔ میدان میں سناٹا چھا گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے بیک وقت سبھی کی روحیں قبض کرلی ہوں۔
ماروی نے اپنی جان دینے کیلئے سر جھکادیا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا مگر کندھے فخر سے تنے ہوئے تھے۔ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ جلاد کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ آج سے پہلے اس نے سفاکی کا ایسا مظاہرہ کیا تھا کہ لوگ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ لیکن اب جیوانی نے کانپتے ہاتھوں سے تلوار بلند کی، مگر....
ایسا لگا کہ بھونچال آگیا ہو۔ میدان کے اطراف گھوڑوں کے تیز قدموں کی آوازیں آنے لگیں، اور پھر ایک فوج اندر گھس آئی اور سبھی بادشاہ اور اس کے سپاہیوں پر پل پڑے۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ یہاں وہاں بھاگنے لگے۔ اس قدر شور تھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اب سب اپنی جان بچانے میں لگ گئے تھے۔
دراصل پڑوسی ملک کے بادشاہ نے ظالم بادشاہ کے ملک پر حملہ کردیا تھا۔ وہ بادشاہ رحمدل تھا اور لوگوں پر ظلم برداشت نہیں کرتا تھا۔ ظالم بادشاہ کی کہانیاں اس نے بھی سن رکھی تھیں اسلئے مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ اسی تختہ دار پر ظالم بادشاہ کو لایا گیا اور پھر اس کا سر قلم کردیا گیا۔ جہاں وہ دوسروں کا تماشہ بناتا تھا، وہیں آج اس کا تماشہ بن چکا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شاندار راکٹ

جو لوگ میدان میں رہ گئے تھے، انہوں نے ظالم بادشاہ کی موت پر خوشی سے تالیاں بجائیں۔ جیوانی اورماروی کو رحمدل بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے دونوں کو آزاد کردیا۔
اگلے دن جیوانی اور ماروی، بیاز کی طرف روانہ ہوئے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ راستہ طویل ہوتا جارہا ہے۔ ماروی کافی کمزور تھی۔ جیوانی اسے سہارا دے کر ماروی کے گاؤں کی طرف گامزن تھا۔ اب بیاز تک پہنچنے کیلئے صرف ایک پُل پار کرکے چند کلومیٹر کی مسافت طے کرنی تھی۔ لیکن ہوا یوں کہ پُل کے قریب آباد گاؤں کے لوگوں نے جیوانی اور ماروی کو پہچان لیا۔ ظالم بادشاہ کے ملک کا دستور تھا کہ اگر جلاد، سزا سنا دیئے قیدی کو ختم نہ کرے تو عوام جلاد ہی کا قتل کردیتے تھے۔ اور یہاں تو جلاد ہی قیدی کا رکھوالا بن گیا تھا اور اسے لے کر بیاز جارہا تھا۔
پھر کیا تھا۔ گاؤں کے لوگ لاٹھیاں اور تلواریں ہاتھ میں لئے جیوانی اور ماروی کو دوڑانے لگے۔ جیوانی نے ماروی سے کہا کہ وہ بھاگ کر پُل پار کرلے۔ اسے یقین تھا کہ یہ لوگ ماروی کو مارنے کیلئے پُل پار نہیں کریں گے۔ اس نے ماروی کو پُل پار کرنے کیلئے کہا اور لوگوں کو روکنے کیلئے خود تن کر کھڑا ہوگیا۔ اب ماروی اور لوگوں کے درمیان جیوانی حائل تھا۔ ماروی، جیوانی کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی پُل پر دوڑنے لگی۔ درمیان ہی میں پہنچی تھی کہ پلٹ کر دیکھا، لوگوں نے جیوانی کو گھیر لیا تھا، اور پھر چند منٹوں بعد اسے جیوانی کی لاش نظر آئی۔ وہ روتی ہوئی تیزی سے بیاز کی طرف بڑھنے لگی۔ دوڑتے دوڑتے اس کے پاؤں میں ورم آگیا تھا۔
غروب آفتاب کا وقت تھا۔ بیاز روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ موسیقی کی آواز دور ہی سے سنائی دے رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ گاؤں میں جشن منایا جارہا ہو۔ اور یہاں درحقیقت جشن منایا جارہا تھا۔ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ظالم بادشاہ کو قتل کردیا گیا ہے اور ماروی آزاد ہوگئی ہے۔ انہیں یقین تھا کہ ماروی کسی بھی وقت گاؤں پہنچ سکتی ہے، اس لئے سبھی اپنی جانباز لڑکی کا استقبال کرنے کیلئے تیار کھڑے تھے۔
گاؤں کے مرکزی دروازے پر بچے کیا، بڑے کیا، سبھی کی سج دھج نرالی تھی۔ سبھی لوگ ہلکی آواز میں کوئی روایتی نغمہ گنگنا رہے تھے۔ متعدد لوگوں کے ہاتھوں میں موسیقی کے آلات تو بعض کے ہاتھوں میں تھال تھے جن میں مختلف پھولوں کی پتیاں تھیں۔
 پھر انہیں ماروی نظر آئی۔ جو آہستہ آہستہ مرکزی دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سبھی کی چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ موسیقی کی آواز بلند ہونے لگی۔ فضاؤں میں نغمہ گونجنے لگا۔
کمزور ماروی اپنی سانسیں سنبھالتی، فخریہ انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔ دریا سے ڈولفن مچھلیاں اپنے سر نکالے ماروی کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں۔ پورے گاؤں کو اس پر فخر تھا کہ اس نے برسوں قید میں گزار دیئے مگر ظالم بادشاہ کے آگے سر نہیں جھکایا تھا۔ سفر کی تھکن اور ۱۱؍ سال کی قید نے ماروی کو نڈھال کردیا تھا۔ وہ آزادی ملنے پر خوش ضرور تھی مگر اس کے چہرے پر جیوانی کے مرجانے کا غم تھا۔ وہ غمزدہ مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھی اور مرکزی دروازے کے قریب پہنچ کر صحرا کی ریت پر لیٹ گئی۔
لوگ اس پر پھول برسانے لگے اور چند افراد اس کی مدد کیلئے آگے بڑھے۔ ماروی آنکھیں کھولے نارنجی، زرد اور بنفشی رنگ والے آسمان کو دیکھتی رہی۔ ڈوبتے سورج کے ساتھ اس کی سانسیں بھی ڈوبنے لگیں جبکہ خوبصورت اور چمکیلے پروں والا مور اپنے پروں کو پھیلائے اس پر سایہ کئے رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK