Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایجنٹ ونود‘‘ کی ناکامی میں ستاروں کی مداخلت ذمہ دار تھی، للت پریمو کا دعویٰ

Updated: June 06, 2026, 7:20 PM IST | Mumbai

فلم ’’ایجنٹ ونود‘‘ میں اداکاری کرنے والے للت پریمو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلم کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ مرکزی ستاروں، سیف علی خان اور کرینہ کپور، کی حد سے زیادہ مداخلت تھی۔ ان کے مطابق ہدایت کار سری رام راگھون اپنی اصل تخلیقی سوچ کے مطابق فلم نہیں بنا سکے کیونکہ انہیں مسلسل مختلف تجاویز اور ہدایات کا سامنا رہا۔

Lalit Parimoo and the poster of the film `Agent Vinod`. Photo: INN
للت پریمو اور فلم ’’ ایجنٹ ونود‘‘ کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کی جاسوسی تھریلر فلم ’’ایجنٹ ونود‘‘ اپنی ریلیز کے وقت نہ صرف باکس آفس پر توقعات پوری کرنے میں ناکام رہی تھی بلکہ ناقدین اور ناظرین کی جانب سے بھی اسے ملا جلا ردِعمل ملا تھا۔ اب برسوں بعد فلم میں اہم کردار ادا کرنے والے اداکار للت پریمو نے اس کی ناکامی کی وجوہات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے اور اس حوالے سے کچھ چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔ حال ہی میں سدھارتھ کنن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں للت پریمو نے کہا کہ ’’ایجنٹ ونود‘‘ کی ناکامی کی بنیادی وجہ فلم میں مرکزی ستاروں کی ضرورت سے زیادہ مداخلت تھی۔ ان کے مطابق سیف علی خان اور کرینہ کپور کی جانب سے تخلیقی معاملات میں مسلسل رائے دی جا رہی تھی، جس کے باعث ہدایت کار سری رام راگھون اپنی اصل منصوبہ بندی کے مطابق فلم مکمل نہیں کر سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’رام چرن کی ’’پیدی‘‘ نے پہلے ہی دن ۱۰۰؍کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا

للت پریمو نے کہا کہ ان کے خیال میں فلم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ ہدایت کار کو اپنی سوچ کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں سری رام راگھون فلم بنانا چاہتے تھے، وہ اس انداز میں فلم پیش نہیں کر سکے کیونکہ انہیں بار بار بتایا جا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے فلم کی تحریر، ہدایت کاری اور مجموعی پیشکش متاثر ہوئی۔ اداکار نے مزید کہا کہ فلم بنیادی طور پر ہدایت کار کا میڈیم ہوتی ہے، اس لیے اگر ہدایت کار کے پاس کوئی واضح وژن موجود ہو تو پوری ٹیم کو اس پر اعتماد کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کی تجاویز اس وقت تک مفید ہوتی ہیں جب وہ کردار یا منظر کی بہتری کے لیے ہوں، لیکن اگر تجاویز صرف اسٹار پاور کی بنیاد پر دی جائیں تو وہ اکثر فلم کے تخلیقی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عامر خان نے گوری اسپریٹ سے شادی کی تصدیق کر دی، تاریخ بھی سامنے آ گئی

للت پریمو کے مطابق فلم سازوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی بھی بڑے ستارے کی رائے کو حتمی حیثیت نہ دی جائے بلکہ ہدایت کار کے وژن کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب مختلف سمتوں سے دباؤ آتا ہے تو فلم کی اصل روح متاثر ہوتی ہے اور نتیجتاً ناظرین کے سامنے ایک غیر مربوط اور کمزور پروڈکٹ آتی ہے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ فلم کی تیاری کے دوران مداخلت کا مسئلہ بار بار زیرِ بحث آتا رہا، اگرچہ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلمی صنعت میں بڑے ستاروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو کئی مرتبہ ہدایت کار کی تخلیقی آزادی کو محدود کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: منوج باجپئی نے رامائن اور وارانسی کے بجٹ سے متعلق خبروں کو پی آر حربہ قرار دے دیا
واضح رہے کہ ’’ایجنٹ ونود‘‘ کی ہدایت کاری سری رام راگھون نے کی تھی جبکہ فلم میں سیف علی خان اور کرینہ کپور کے علاوہ عادل حسین، روی کشن، پریم چوپڑا، رام کپور اور گلشن گروور سمیت متعدد اداکاروں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ بڑے بجٹ اور وسیع تشہیری مہم کے باوجود فلم باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور بعد ازاں اسے بالی ووڈ کی نمایاں ناکام فلموں میں شمار کیا جانے لگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK