Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلووینیا: صدارتی محل پر فلسطینی پرچم لہرایا گیا، انسانی وقار کی علامت کہا گیا

Updated: June 06, 2026, 9:03 PM IST | Ljubljana

سلووینیا کے صدارتی محل پر فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا ہے، جسے صدر نتاشا پیرتس موسار نے انسانی وقار، بین الاقوامی قانون کے احترام اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت قرار دیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد حکومتی عمارت سے فلسطینی پرچم ہٹا دیا گیا تھا۔ صدر کا کہنا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی اب بھی امن، تحفظ اور باوقار زندگی سے محروم ہیں۔ فلسطینی پرچم ایک ہفتے تک صدارتی محل پر لہرائے گا، جس کے بعد اسے عمارت کے اندر منتقل کر دیا جائے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یورپی ملک سلووینیا کے صدارتی محل پر فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا ہے، جسے صدر نتاشا پیرتس موسار نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور انسانی حقوق کے احترام کی علامت قرار دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد نئی حکومت نے سرکاری عمارت پر نصب فلسطینی پرچم کو ہٹا دیا تھا۔ صدر نتاشا پیرتس موسار نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی پرچم صرف ایک سیاسی علامت نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی اب بھی امن، تحفظ اور باعزت زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، جس کے باعث عالمی برادری پر ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گیانا سے ہندوستان، ۲۰؍ ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے بائی پاس سرجری، نیا عالمی ریکارڈ

صدارتی دفتر کے مطابق فلسطینی پرچم ایک ہفتے تک صدارتی محل کی عمارت پر لہرایا جائے گا۔ اس مدت کے اختتام پر پرچم کو عمارت کے اندر منتقل کر دیا جائے گا، جہاں اسے ایک علامتی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔ اس اقدام کو صدر کی جانب سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سلووینیا گزشتہ چند برسوں کے دوران فلسطینی ریاست کی حمایت کے حوالے سے یورپی ممالک میں نمایاں آواز بن کر ابھرا ہے۔ جون ۲۰۲۴ء میں سلووینیا نے باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے گرمی سے متاثر ۵۰؍ شہروں میں سب سے زیادہ ہندوستان میں: تحقیق

بعد ازاں اگست ۲۰۲۵ء میں سلووینیا نے اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں قائم بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی عائد کر دی تھی، جسے فلسطینی حکام نے بین الاقوامی انسانی قانون کے حق میں ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔ خیال رہے کہ صدارتی محل پر فلسطینی پرچم لہرانا نہ صرف ایک علامتی اقدام ہے بلکہ یہ سلووینیا کی اس پالیسی کا تسلسل بھی ہے جس کے تحت ملک فلسطینی عوام کے حقوق، دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی حمایت کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد خارجہ پالیسی میں بعض تبدیلیوں کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل نے سلووینیا میں اپنا پہلا سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: افرادی قوت کی قلت: اسرائیلی معیشت میں ہندوستانی، تھائی، سری لنکن ملازمین بڑھ گئے

صدر نتاشا پیرتس موسار ماضی میں بھی غزہ کی صورتحال پر کھل کر اظہارِ خیال کر چکی ہیں اور انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خطے میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ ان کا تازہ اقدام ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سلووینیا کی صدارت فلسطینی عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے معاملے کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات میں شمار کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK