Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا (شندے) میں شامل ہو کر بچو کڑو نے ’زندہ سمادھی‘ لی ہے

Updated: May 03, 2026, 10:46 AM IST | Ali Imran And INN | Nagpur

’سامنا‘ میں سنجے راؤت کی تحریر، سابق وزیر پر سخت تنقید، بچو کڑو نے کہا ’’میں تنقیدوں کی کبھی پروا نہیں کرتا، اپنا کام کرتا رہوں گا۔‘‘

Will the bitter gourd stake be beneficial or harmful? (File photo)
بچو کڑو کا داؤ سود مند ہوگا یا نقصاندہ؟ (فائل فوٹو)

حال ہی میں سابق وزیر بچو کڑو نے اپنی پارٹی ’پرہار جن شکتی پارٹی‘ کو ختم کرکے شیوسینا (شندے) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس پر شیوسینا (ادھو) کے ترجمان اخبار ’سامنا ‘ میں ان پر سخت تنقیدکی گئی ہے۔ سنجے رائوت کی جانب سے لکھے گئے ایک کالم میں کہا گیا ہے کہ ’بچو کڑو نے شیوسینا (شندے) میں شامل ہو کر ’زندہ سمادھی ‘ لی ہے۔‘ بچو کڑو نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ میں تنقیدوں کی پروا نہیں کرتا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یہ درست ہے کہ ساورکر کو گاندھی جی کے قتل کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا

اخبار نے لکھا ’’ امراوتی سے کئی بار رکن اسمبلی رہ چکے بچو کڑو نے مندے( لاچار) گروپ میں  شامل ہو کر زندہ سمادھی لے لی ہے۔۔ ان کا سیاسی سفر آگے بھی جاری رہ سکے اس کیلئے انہیں ودھان پریشد کی رکنیت بھی دی گئی ہے۔ لہٰذا سمادھی میں انہیں ’دیو‘( خدا ) نظر آنے لگا۔ ‘‘ سامنے نے لکھا ہے ’’ کڑو جب سے اسمبلی الیکشن ہارے ہیں مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے۔ ا ن کی یہ تڑپ سماج کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں کیلئے مورچہ نکالا۔معذوروں کیلئے آواز اٹھائی۔ ادھو ٹھاکرے کے دور اقتدار میں وہ وزیر ہوا کرتے تھے لیکن جب مندے گروپ ٹوٹ کر الگ ہوا تو یہ ’خدمت گار‘ کارکن سورت، گوہاٹی اور گوا کی یاترا کرکے لوٹا اور حکومت کے درباروں میں بھٹکتا رہا کہ شاید اسے وزارت مل جائے مگر نہیں ملی۔ بالآخر اس نے حکومت کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ اخبار لکھتا ہے ’’ لیکن کڑو کا نقاب اتر چکا تھا اور عوام نے انہیں پہچان لیا تھا لہٰذا انہیں اسمبلی الیکشن میں شکست ہوئی۔ عوام نے ان کی اسمبلی کی رکنیت چھین لی ۔ تب سے وہ بے چین تھے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رکنیت کیلئے شندے گروپ میں نہیں گئے ہیںبلکہ کسانوں اور معذوروں کے حقوق کی لڑائی کیلئے گئے ہیں۔ ‘‘ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ سب نوٹنکی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں دوبارہ پولنگ میں بھی تشدد

اس کے جواب میں بچو کڑو نے ناگپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سنجے راوت کا کہنا ہے کہ میں نے شیو سینا میں شمولیت اختیار کی کیونکہ مجھ میں منتخب ہونے کی صلاحیت نہیں تھی، شاید یہ درست ہو۔ کیونکہ سیاسی حالات بدل چکے ہیں۔ سیاست ذات پات اور مذہب کے نام پر چل رہی ہے، ووٹر پیسے کی طرف جھک رہا ہے، جب جمہوریت کو بچانے والے لوگ نہیں ہیں تو یہ جمہوریت زندہ کیسے رہے گی؟‘‘ انہوں نے کہا’’ میں نے شیو سینا میں شامل ہونے کا فیصلہ مجبوری میں نہیں، بدلتے حالات کی وجہ سے کیا ہے۔ شیوسینا پھوٹ کے بعد گوہاٹی میں جتنے لوگ گئے وہ سب منتخب ہوئے اور میں اکیلا ہی ہار گیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے غلطیاں کی ہیں، لیکن وہ اتنی بڑی نہیں تھیں۔ میں نے یہ فیصلہ اس لئےکیا ہے کہ میرے کارکنان زندہ رہیں۔‘‘

سابق وزیر نے کہا ’’ بچو کڑو تھک کر بیٹھ جانے والوں میں سے نہیں ہے۔ میں کسانوں اور معذوروں کیلئے آواز اٹھاتا رہوں گا اور ان کے کام کرتا رہوں گا۔‘‘ یاد رہے کہ بچو کڑو کی اپنی پارٹی میں بھی کچھ لوگ ان کے اس فیصلے سے ناراض ہیں۔ اس پر بچو کڑو نے کہا کہ ’’ جو لوگ کسانوں کیلئے لڑنا چاہتے ہیں وہ میرا ساتھ دیں گے ، جن کے پیٹ میں درد ہے وہ دھوکا دیں گے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK