Inquilab Logo Happiest Places to Work

نورجہاں: بطور ’چائلڈ آرٹسٹ‘ کریئر کا آغاز، لیکن بطور ’ملکہ ترنم‘ پہچان بنی

Updated: April 05, 2026, 2:57 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

فلم ’خاندان‘ کے ذریعہ ہندوستانی فلموں کو ایک ایسی اداکارہ نصیب ہوئی جو پنجابی لب ولہجہ کے ساتھ پردے پر شلوار قمیص کا فیشن بھی لے کر آئی تھی، اس سے قبل ہندی فلموں کی ہیروئنیں ساڑی یا گھاگھرا چولی کا ہی استعمال کیا کرتی تھیں، اُس وقت نورجہاں کی عمر صرف ۱۳؍ سال تھی۔

Malika-e-tarannum Madam Noor Jehan. Photo: INN
ملکہ ترنم میڈم نور جہاں۔ تصویر: آئی این این

دُنیا میں نورجہاں نام کی دو خواتین نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔ ایک تو ملکۂ ہندوستان نورجہاں، جو بادشاہ جہانگیر کی بیگم تھیں اور دوسری ملکۂ  ترنم نورجہاں، جو اپنی اداکاری اور آواز کی جادوگری کیلئے مشہور تھیں۔ آخرالذکر نورجہاں ۲۱؍ستمبر ۱۹۲۶ء کو صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گائوں کسور میں پیدا ہوئیں۔ان کا خاندان کافی بڑا تھا اور یہ دس بھائی بہن تھے۔ نورجہاں کو بچپن ہی سے موسیقی کی تعلیم دی گئی تھی، جو اُن کے خون میں رچ بس گئی تھی۔ جب دُوسرے بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے تھے، تب وہ ماسٹر غلام حیدر سے موسیقی اور گائیکی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ نورجہاں کو گلوکاری سے جنون کی حد تک لگائو تھا۔ انہوں نے زندگی میں بہت سے سمجھوتے بھی کئے، مگر جہاں گائیکی سے منہ موڑ لینے کی بات آئی تو انہوں نے سب کچھ تیاگ دیا۔ صرف ۶؍ برس کی عمر میں انہوں نے فلمساز کے ڈی مہرہ کی فلم ’غیبی گولہ‘ میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام کیا۔ یہ فلم ۱۹۳۵ء میں ریلیز ہوئی جو مدن تھیٹر نے بنائی تھی۔ اُسی برس نورجہاں کی دو فلمیں، ’مصر کا ستارہ‘ اور ’آزادی‘ بھی نمائش کیلئے پیش ہوئیں۔ ۱۹۳۶ء میں فلم ’شیلا‘ اور ’ناری راج‘، ۱۹۳۷ء میں ’مسٹر ۴۲۰، فخر اسلام، کس کی پیاری‘، ۱۹۳۸ء میں ہیر سیال، ۱۹۳۹ء میں’گل بکائولی، سسی پنو‘، ۱۹۴۰ء میں ’یملا جٹ‘ اور ۱۹۴۱ء میں فلم ’چودھری‘ ریلیز ہوئی۔ ان تمام فلموں میں بے بی نورجہاں نے فلمی پردے پر اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعہ ایک خاص پہچان بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: پروین بابی کو بالی ووڈ کی پہلی خاتون سپر اسٹار اور ’ٹرینڈ سیٹر‘ قرار دیا جاتا ہے

نورجہاں کاپیدائشی نام اللہ وسائی تھا اور سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ان کو نورجہاں کا نام دیا تھا۔ نورجہاں بچپن میں ہی استاد فضل حسین کی شاگرد ہو گئی تھیں۔ اُستاد بہت بوڑھے ہو گئے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے ایک ہونہار شاگرد اُستاد غلام حیدر سے کہا کہ اب تم اللہ وسائی اور عیدن، دونوں بہنوں کو موسیقی کی تعلیم دو گے۔اس طرح نواب بیگم، عیدن بیگم اور اللہ وسائی پر مشتمل تھیٹر چند دنوں میں ہی پنجاب میل کے نام سے مشہور ہو گیا تھا۔ تھیٹر کے مالک سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ایک دن کہا کہ آپ سب لوگ آج سے اللہ وسائی کو نورجہاں کہا کریں گے۔ سیٹھ نے نورجہاں کا ہاتھ دیکھ کر یہ بھی کہا کہ اس کی شہرت  ایک دن ساتویں آسمان تک پہنچے گی۔

۱۹۴۲ء میں نورجہاں کی ایک ایسی فلم کی نمائش ہوئی جس نے بے بی نورجہاں کو بحیثیت ہیروئن فلم نگری میں متعارف کرایا۔ پنچولی پکچرس کے بینر تلے بنی اس فلم کا نام تھا ’خاندان‘ جس کے ہدایتکار شوکت حسین رضوی تھے۔ اس فلم کی موسیقی غلام حیدر نے ترتیب دی تھی اور نورجہاں کے مقابل غلام محمد نے ہیرو کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ منورما، اجمل، بے بی اختر اور ابراہیم وغیرہ اس فلم ’خاندان‘ کے دیگر اہم کردار تھے۔ اس فلم کی نمائش کے وقت نورجہاں کی عمر صرف ۱۳؍برس کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار صاحب کی حیثیت اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ جیسی تھی‘‘

فلم ’خاندان‘ کے ذریعہ ہندوستانی فلموں کو ایک ایسی اداکارہ نصیب ہوئی جو پنجابی لب ولہجہ کے ساتھ پردے پر شلوار قمیص کا فیشن بھی لے کر آئی تھی۔ اس سے قبل ہندی فلموں کی ہیروئنیں ساڑی یا گھاگھرا چولی کا ہی استعمال کیا کرتی تھیں۔ نورجہاں کو نئے لب ولہجہ اور نئے لباس میں فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ نورجہاں نے ہیروئن کے طور پر اُس وقت فلموں میں اپنا جلوہ دکھایا جب زبیدہ، دیویکا رانی اور سلوچنا وغیرہ فلم بینوں کی پسندیدہ ہیروئنیں ہوا کرتی تھیں۔ ایسے میں نورجہاں نے اپنی شناخت قائم کی، اور دوسری طرف شعبۂ گلوکاری میں امیربائی کرناٹکی، زہرہ بائی امبالے والی اور خورشید جیسی گلوکارائوں کی موجودگی میں اپنے لیے مقام بنایا۔

فلم ’خاندان‘ کے بعد اگلے ہی برس ۱۹۴۳ء میں نور جہاں کی فلم ’نوکر‘ آئی جس میں چندر موہن، شوبھنا سمرتھ اور یعقوب  جیسے فنکار تھے۔ دوسری فلم ’دُہائی‘ تھی جس میں شانتا آپٹے، کمار، انصاری اور مرزا مشرف تھے۔ تیسری فلم ’نادان‘ تھی جس میں مسعود، مایا دیوی، جلو بائی، مراد، نذیر اور جانی بابو تھے۔۱۹۴۴ء میں فلم ’دوست‘ اور ’لال حویلی‘، دو فلمیں منظر عام پر آئیں جن کے ہدایتکار شوکت حسین رضوی اور کے بی لال تھے۔ ان فلموں میں موتی لال اور سریندر جیسے منجھے ہوئے اداکاروں نے ہیرو کےکردار ادا کیے تھے۔

۱۹۴۵ء میں نورجہاں کی زندگی میں ایک نیا دور آیا۔ اس سال ان کی ۴؍ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ’بڑی ماں، بھائی جان، ولیج گرل اورزینت‘۔ فلم ’بڑی ماں‘ میں نورجہاں کے ساتھ لتا منگیشکر نے بھی بے بی لتا کے نام سے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم ’زینت‘ کیلئے نورجہاں نے موسیقار میر صاحب حفیظ خان اور رفیق غزنوی کی ترتیب شدہ دُھن پر پہلا فلمی نغمہ صدابند کرایا تھا جس کے بول تھے ’’بلبلو مت رو یہاں، آنسو بہانا ہے منع....‘‘ اسی فلم سے نورجہاں نے فلموں کی اوّلین قوالی کو بھی اپنی آواز بخشی جس کے بول تھے ’’آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے، کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: این چندرا نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنا کر شہرت پائی

شوکت رضوی کی ہدایت میں بنی فلم’زینت‘ نے اپنے نغموں کی مقبولیت کے سبب کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور نورجہاں کو بطور کامیاب اداکارہ اور گلوکارہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ فلم’زینت‘ کے ساتھ ہی ہدایتکار امرناتھ اور موسیقار شیام سندر کی فلم ’ولیج گرل‘ بھی نورجہاں کے لافانی نغموں کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر سکی۔ ۱۹۴۵ء میں نمائش کیلئے پیش ہوئی ان چار فلموں کے بعد نورجہاں ہندوستانی فلموں کی سب سے زیادہ کامیاب اداکارہ، گلوکارہ کہلانے لگیں۔ ان کی آواز نے ملک کے گوشے گوشے میں دھوم مچا دی تھی۔

۱۹۴۶ء میں عظیم ہدایتکار محبوب خان اور موسیقار اعظم نوشاد کے ساتھ فلم’انمول گھڑی‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ محبوب خان نے اس فلم کے ذریعہ اپنے زمانے کے تین مقبول ترین اداکاروں کو ایک ساتھ پیش کیا تھا جو نامور گلوکار بھی تھے۔ نورجہاں، سریندر اور ثریا۔ تکونی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کے لاجواب نغموں کی مقبولیت کے سبب فلم ’انمول گھڑی‘ اپنے وقت کی ایک بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے نغموں کی ریکارڈتوڑ فروخت نے نورجہاں کو ملکۂ ترنم اور نوشاد کو موسیقار اعظم بنا دیا۔ ’’جواں ہے محبت حسیں ہے زمانہ، میرے بچپن کے ساتھی مجھے بھول نہ جانا، آجا میری برباد محبت کے سہارے، آواز دے کہاں ہے، دُنیا مری جواں ہے‘‘ جیسے نورجہاں کے گائے ہوئے یہ نغمے آج ۷؍ دہائیوں کے بعد بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

۱۹۴۷ء میں نورجہاں کی آخری دو فلمیں منظرعام پر آئیں، جن میں کام کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے اپنے فن کا لوہا منوا لیا اور اس کے بعد ملکۂ ترنم اپنے لاکھوں مداحوں اور پرستاروں کو چھوڑکر پاکستان ہجرت کر گئیں۔ دلیپ کمار کے ساتھ نورجہاں کی اکلوتی فلم ’جگنو‘ شوکت آرٹ پروڈکشن کے بینر سے شوکت حسین رضوی کی ہدایت میں موسیقار فیروز نظامی کی موسیقی سے سجی ہوئی تھی۔ محمد رفیع اور نورجہاں کا گایا دوگانا ’’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے...‘‘ نورجہاں کے مقبول ترین گانوں میں سے ایک ہے۔ اس فلم میں گلوکار محمد رفیع نے ایک چھوٹا سا کردار بھی ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مصاحبین کا کلچر‘‘ نشانے پر،پریہ درشن نے کہا اسرانی کو ان سے کم معاوضہ ملتا تھا

دوسری فلم ’مرزا صاحباں‘ تھی جس کے ہدایتکار امرناتھ اور موسیقار پنڈت امرناتھ تھے۔ مرزا صاحباں اپنے نغموں کی مقبولیت کے اعتبار سے زبردست کامیاب فلم تھی لیکن افسوس بٹوارے نے ملکۂ ترنم کو سرحدوں کے اُس پار پہنچا دیا۔

جن دنوں وہ پاکستان گئیں، وہ گلوکارہ کے علاوہ اداکارہ کے طور پر بھی بے حد مقبول تھیں۔ ان کے شوہر شوکت رضوی بمبئی میںمعروف فلمساز اور ہدایتکار تھے۔ بعد میں انہوں نے لاہور جاکر شاہ نور اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔ بمبئی میں شوکت حسین رضوی اور نورجہاں کے عشق کی داستانیں زبان زد خاص وعام تھیں اور لوگ ان کے قصے چٹخارے لیکر ایک دُوسرے کو سنایا کرتے تھے۔ رضوی خاندان نے  حالانکہ اس شادی کی مخالفت کی تھی مگر عشق کی فتح ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔

آزادیٔ ملک کے دس گیارہ برس بعد تک نورجہاں گلوکاری اور اداکاری، دونوں میں اپنا سکہ چلاتی رہیں مگر بدلتے حالات اور رجحانات کی وجہ سے انہوں نے  رفتہ رفتہ اداکاری چھوڑکر گلوکاری ہی میں اپنے آپ کو بنائے رکھا۔ ۱۹۶۰ء میں فلم ’سلمیٰ‘ کے گانے ’’یہ زندگی ہے یا کسی کا انتظار‘‘ سے ایک بار پھر ان کی آواز کی دھوم مچ گئی۔ اس کے بعد سے لاہور کے ہر ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں نورجہاں ہی نظر آتی تھیں۔ ان کے گائے ہوئے نغمے ہٹ ہوتے چلے گئے اور خورشید انور، رشید اَترے، اے حمید، نثار بزمی، وزیر علی، ناشاد، خلیل احمد اور بشیر احمد جیسے موسیقاروں نے اپنی بیشتر فلموں میں نور جہاں کی آواز کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: مَیں نہیں چاہتا کہ ایشوریہ کبھی اداکاری کرنا ترک کرے: ابھیشیک بچن

بلبل ہند اور بھارت رتن جیسے اعزازات سے نوازی جانے والی عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر بھی شروع ہی سے ملکۂ ترنم نورجہاں کو اپنی بڑی بہن اور استاد کی حیثیت سے مانتی رہی ہیں۔  نورجہاں نے ہندوستان میں رہتے ہوئے ہیروئن کے طور پر صرف ۶۹؍فلموں میں اداکاری کے جوہر دِکھائے، جن میں ۱۲؍خاموش فلمیں تھیں۔ ۵۵؍فلمیں بمبئی میں، ۸؍کلکتہ میں، ۵؍لاہور میں اور ایک رنگون میں بنی۔ انہوں نے صرف ۱۲۷؍نغمے ہندوستانی فلموں کیلئے صدابند کیے لیکن آج ۸؍ دہائیاں گرز جانے کے بعد بھی ان کے  وہ سب نغمے ہندی فلموں اور فلمی موسیقی کیلئےایک انمول خزانہ ہیں، جو برسہا برس تک اس عظیم گلوکارہ کے فن کو خراج تحسین پیش کرتا رہے گا۔

۲۳؍دسمبر ۲۰۰۰ء کو ماہ رمضان المبارک میں نورجہاں نے کراچی شہر میں آخری سانس لی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں لیکن اپنی آواز کے سہارے وہ آج بھی زندہ ہیں۔  بیسویں صدی کو قدرت کا ایک عظیم عطیہ نورجہاں کی آواز کا وہ آہنگ ہے جو ایک شعلے کی مانند بلند رہا۔ اُن کی آواز کی خوبصورتی، اُس کی فنی نزاکتوں اور حقیقی سُروں کی ادائیگی کو اُن کے بعد آنے والا کوئی بھی فنکار چھو تک نہیں سکا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK