Updated: October 24, 2026, 9:12 PM IST
| London
برطانوی ولی عہد پرنس ولیم نے ایک معروف ٹی وی چیٹ شو میں شرکت کے دوران اپنی زندگی کے ایسے پہلوؤں پر گفتگو کی جو عام طور پر شاہی خاندان کے افراد کی عوامی گفتگو کا حصہ نہیں بنتے۔ انہوں نے پولیس افسر اور ڈی جے بننے کی سابقہ خواہشات کے ساتھ اپنی پسندیدہ فلموں اور ٹی وی پروگراموں کا بھی ذکر کیا۔
برطانیہ کے ولی عہد پرنس ولیم نے ایک ٹی وی چیٹ شو میں شرکت کے دوران انکشاف کیا ہے کہ بچپن میں وہ پولیس افسر بننا چاہتے تھے، جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں ڈی جے بننے کا شوق ہوا تھا۔ پرنس آف ویلز نے جمعہ کی شام نشر ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کی۔ وہ اپنے ماحولیاتی منصوبے ’ارتھ شاٹ پرائز‘ کی تشہیر کے لیے شو میں آئے تھے، جو ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے منصوبوں اور اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ پروگرام کے میزبان گراہم نورٹن معروف کامیڈین ہیں جن کے شو میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات شرکت کرتی ہیں۔ وہ اپنے مہمانوں سے ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں گفتگو کرنے کے لیے بھی مشہور ہیں۔ شو سے قبل پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر جاری کی گئی تصاویر میں ولیم نیلے رنگ کے سوٹ، شرٹ اور ٹائی میں نظر آئے۔ وہ پروگرام کے صوفے پر اداکاراؤں کیٹ بلانشیٹ اور ہنّا وڈنگھم کے ساتھ بیٹھے قہقہے لگاتے دکھائی دیے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رابرٹ ارون بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ یہ تمام شخصیات ارتھ شاٹ پرائز سے وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میری خواہش ہے کہ اپنے کریئر میں کوئی اچھا مزاحیہ کردار بھی ادا کروں‘‘
میگزین ’ہیلو!‘ کے مطابق پرنس ولیم برطانوی شاہی خاندان کے پہلے ایسے فعال رکن ہیں جنہوں نے کسی برطانوی ٹاک شو میں شرکت کی ہے۔ تاہم پرنس ولیم کے چچا اور سابق شہزادہ اینڈریو کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن بھی شاہی خطاب برقرار رہنے کے دوران گراہم نورٹن کے پروگرام میں انٹرویو دے چکی ہیں۔ ’دی گراہم نورٹن شو‘ اپنے ۳۳ویں سیزن میں ہے اور بی بی سی کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چیٹ شو ہے۔ اس پروگرام میں حال ہی میں میڈونا سمیت کئی معروف شخصیات شرکت کرچکی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق پرنس ولیم کی اچانک آمد پر پروگرام کے ناظرین نے خوشی کا اظہار کیا اور حیرت سے ردعمل دیا۔
پرنس ولیم ۱۷؍ نومبر کو ممبئی میں ارتھ شاٹ پرائز کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ انعام ۲۰۲۰ء میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سمیت ماحول کو درپیش بڑے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی انعام جیتنے والے ہر منصوبے کو ۱۰؍ لاکھ پاؤنڈ، یعنی تقریباً ۱۳؍ لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔ منتظمین کے مطابق، اس رقم کا مقصد اختراعی حل کے اثرات کو تیز کرنا اور انہیں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے میں مدد دینا ہے۔ پروگرام کے دوران گراہم نورٹن نے ولیم سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی بادشاہ بننے کے بجائے کسی اور پیشے سے وابستہ ہونے کا تصور کیا تھا؟ اس پر پرنس ولیم نے کہا، ’’جب میں چھوٹا تھا تو میں پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں ایک اچھا پولیس افسر بن سکتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ ڈی جے بننے کے خواہش مند تھے، تاہم اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے بارے میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ اس کام میں زیادہ اچھے نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس ایس راجامولی ہالی ووڈ میں کم از کم ایک فلم کی ہدایت کاری کرنا چاہتے ہیں
پرنس ولیم نے اپنے خاندان کی ریالٹی شو ’’دی سیلیبریٹی ٹریٹرز‘‘ سے دلچسپی کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ یہ ایک حکمتِ عملی اور دھوکے پر مبنی ریالٹی شو ہے جو ان دنوں ناظرین میں خاصا مقبول ہے۔ انہوں نے ہدایتکار کرسٹوفر نولن کی فلموں کی ’’ڈارک نائٹ‘‘ ٹرائیلوجی کو بھی اپنی پسندیدہ فلموں میں شمار کیا۔ بیٹ مین کے کردار پر مبنی ان فلموں کو انہوں نے نفسیاتی طور پر گہری اور تاریک کہانیاں قرار دیا۔ دوسری جانب پرنس ولیم نے اپنے ناراض بھائی پرنس ہیری کی برطانیہ واپسی کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔ پرنس ہیری نے رواں ہفتے میگزین ’جی کیو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنے والد شاہ چارلس سوم اور بڑے بھائی ولیم کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور معاملات کو خوش گوار انداز میں آگے بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔