ہندوستان کا مستقبل، نوجوانوں کے دلوں میں دھڑکتا ہے؛ شیکھر سمن کا جذباتی خطاب
Updated: July 25, 2026, 6:10 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار اور ٹی وی میزبان شیکھر سمن نے اپنے یوٹیوب شو ’’Shekhar Tonight‘‘ کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں جنتر منتر پر طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ تین دن سے سو نہیں سکے اور صرف روتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس نوجوان کے ساتھ کھڑے ہیں جس کا ’’دل ہندوستان کے مستقبل کے لیے دھڑکتا ہے۔‘‘
مشہور اداکار و میزبان شیکھر سمن۔ تصویر: آئی این این
معروف اداکار اور ٹی وی میزبان شیکھر سمن نے اپنے یوٹیوب شو ’’Shekhar Tonight‘‘ کے تازہ ترین ایپی سوڈ کا آغاز ایک غیر معمولی جذباتی خطاب سے کیا، جس میں انہوں نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مناظر نے انہیں اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ گزشتہ تین دن سے سکون کی نیند نہیں سو سکے۔ شیکھر سمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’میں گزشتہ تین دن سے سو نہیں سکا۔ میں صرف روتا رہا ہوں۔ جو کچھ میں نے دیکھا، اس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم نوجوان، جو صرف اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے آواز اٹھا رہے تھے، ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘انہوں نے واضح الفاظ میں طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ہر اس نوجوان ہندوستانی کے ساتھ کھڑا ہوں جس میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت ہے، جس کا دل ہندوستان کے مستقبل کے لیے دھڑکتا ہے۔‘‘
شیکھر سمن نے اپنی گفتگو میں مہابھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس وقت شروع ہوتی ہیں جب اقتدار میں بیٹھے لوگ نوجوانوں کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب حکمرانوں نے اختلاف رائے کو نظر انداز کیا اور یہی رویہ بڑے بحرانوں کا سبب بنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تاریخ اس وقت کروٹ لیتی ہے جب حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب انہیں اختلافی آوازیں سننے کی ضرورت نہیں رہی۔ جن لوگوں کو باغی، غدار یا بے کار سمجھا جاتا ہے، اکثر وہی بعد میں طاقتور نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔‘‘
شیکھر سمن نے کہا کہ حقیقی انقلاب پارلیمنٹ کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان گھروں میں جنم لیتا ہے جہاں مشکلات معمول بن چکی ہوں اور نوجوان ایک دن یہ فیصلہ کر لیں کہ ’’اب مزید نہیں۔‘‘ ان کے مطابق تبدیلی ہمیشہ اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب ایک پوری نسل خاموش رہنے سے انکار کر دیتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر انہوں نے اپنے شو کا نیا ایپی سوڈ ملتوی کرنے پر بھی غور کیا تھا، لیکن بعد میں فیصلہ کیا کہ خاموش رہنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، ’’میں نے سوچا تھا کہ شاید آج کا پروگرام نہ کروں، لیکن پھر محسوس ہوا کہ ‘Shekhar Tonight’ عوام کی آواز ہے۔ میں خود کو صرف ایک ذریعہ سمجھتا ہوں، جس کے ذریعے لوگوں کی آواز عوام تک پہنچتی ہے۔ اس لیے شو جاری رہنا چاہیے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر شیکھر سمن نے ایک مرتبہ پھر مظاہرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’میں پوری طاقت کے ساتھ ان طلبہ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘ یہ پہلا موقع نہیں کہ شیکھر سمن نے طلبہ تحریک کی حمایت کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ اپنے پروگرام میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کی حمایت کر چکے ہیں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ شیکھر سمن کے اس جذباتی خطاب کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK