• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میری والدہ اور ہم بھائی بہنوں نے پھوپھا کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر گاؤں کی زمین ان کے حوالے کر دی

Updated: February 01, 2026, 10:52 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

بائیکلہ کے ۸۱؍سالہ انصاری غلام فرید عبدالخالق کے اجداد کا تعلق اعظم گڑھ کے مردم خیز خطے مبارک پور سے ہے، انہوںنے اپنی عملی زندگی کا آغاز سائیکل کی دکان پر کام کرنے کے ساتھ کیا، بعد ازاں ٹیکسی چلانا سیکھا اور پھر۷۰؍سال کی عمر تک ڈرائیونگ کی۔

Ansari Ghulam Fareed Abdul Khaliq. Photo: INN
انصاری غلام فرید عبدالخالق۔ تصویر: آئی این این

بائیکلہ ٹرانزٹ کیمپ میں مقیم ۸۱؍سالہ انصاری غلام فرید عبدالخالق  ۵؍ فروری ۱۹۴۵ء کو کماٹی پورہ پانچویں گلی میں پیدا ہوئے تھے۔ کماٹی پورہ میونسپل اُردو اسکول سے پانچویں اور ڈونگری کے سلیمان جعفر اسکول سے ساتویں تک پڑھائی کی۔معاشی حالات کے سبب آگے کی پڑھائی نہیں کر سکے۔ اس دور میں لیمنگٹن روڈ پر واقع موجودہ نوجیون سوسائٹی کی جگہ پر چونابھٹی نامی ایک مل ہواکرتی تھی،اس میں ان کے والد ملازمت کرتے تھے۔ معمولی تنخواہ سے ۷؍بچوںکی بڑی مشکل سے پرورش کرتےتھے۔ ایسےمیں۴؍ بیٹوں اور ۳؍بیٹیوںکے اسکول کاخرچ اٹھانا آسان کام نہیں تھا، چنانچہ آگےکی پڑھائی ترک کرکےغلام فرید پریل میںایک سائیکل کی دکان پر کام کرنے لگے۔۲؍سال بعد یہ کام چھوڑکر ممبئی سینٹرل، بیلاسس روڈ کے عمر جمال کمپائونڈ میں ایک موٹر گیراج میں نوکری کرلی ،یہاں آٹو الیکٹریشین کا کام سیکھا ۔ اس دوران ڈرائیونگ سیکھ کر ۱۹۷۱ء سے ۲۰۰۲ء تک یعنی ۳۱؍سال ٹیکسی چلائی ۔ اس کےبعد نجی طورپر بھی ڈرائیونگ کی۔ مجموعی طورپر ۷۰؍سال کی عمر تک کام کیا۔ بچوںکےاصرار پر گزشتہ ۱۰؍سال سے گھر میں رہتےہیں۔گھریلوکام کاج میں ہاتھ بٹانےکےعلاوہ پوتےپوتیوںکے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جن کے کا مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، وہ میری دکان کے پتے پر اپنے خطوط منگواتے تھے

انصاری غلام فرید جس دورمیں کماٹی پورہ سے ڈونگری اسکول جاتے تھے ، اُس وقت ان کی بڑی بہن بھی اپنے بچوںکے ساتھ ان کےگھر رہتی تھی۔اسلئے ان کا بھانجہ بھی ان کے ساتھ اسکول جاتا تھا ۔ پیسوں کی قلت سے گھر میں چھتری نہیں تھی۔ایسےمیں بارش کےموسم میں بڑی بہن ایک موٹی تولیہ ان کے بیگ میں رکھ دیتی تھیں تاکہ بارش ہونے پر ماموں بھانجہ سرپر تولیہ رکھ کر اسکول پہنچ سکیں۔ تیز بارش ہونے پرماموں بھانجہ تولیہ سرپر رکھ لیتے۔ اس کےبھیگ جانے پرکہیں رک کر پانی نچوڑکر دوبارہ تولیہ اوڑھ کر آگے جاتےتھے۔ تیز بارش کےدوران اسکول پہنچنے تک یہ عمل ۲؍سے ۳؍مرتبہ دُہرانا پڑتا تھا۔ 

غلام فرید نے پریل کی سائیکل کی دکان پر ۲؍سال تک کام کیاتھا۔  صبح ۹؍بجے ڈنکن روڈ سےٹرام پکڑکر پریل جاتے اورشام ۶؍بجے وہاں سےواپس ہوتے تھے۔ اس وقت ٹرام کا کرایہ ایک آنہتھا۔ دکاندار انہیں روزانہ ڈھائی روپے اُجرت دیتاتھا۔اسی پیسے سے گھر لوٹتے وقت دودھ، چائے کی پتی ، صابن اور دیگرگھریلو اشیاء لیتےتھے۔اس دور کا ڈھائی روپیہ بھی بہت  زیادہ تھا ۔ انہوں نے ڈنکن روڈ سے پریل ۲؍سال ٹرام میں سفر کیا، اس دوران ایک مرتبہ گھر لوٹتے وقت ڈنکن روڈ کے قریب ٹرام کے اُوپری سرے میں نصب الیکٹر ک کیبل میں شارٹ سرکٹ ہونے سے آگ لگ گئی۔ آگ لگتےہی مسافروں میں افراتفری مچ گئی ۔ مسافر چلتی ٹرام سے اُترنےکی کوشش میں ایک دوسرے پر گرنے لگے ۔ غلام فرید بھی کسی طرح ٹرام سے اُترے۔ وہ واقعہ آج تک نہیں بھولے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’فسادات میں کرفیو پاس دکھاکر مریض کیلئے اہم انجکشن کی تلاش میں کئی اسپتال گئی‘‘

غلام فرید کےدور میں ڈراما دیکھنے کاچلن عام تھا۔لوگ بڑے شوق سے ڈرامادیکھنے جاتےتھے۔ ایک مرتبہ لیمنگٹن روڈ پر واقع منرواتھیٹر میںدلیپ کمار کی ’آزاد‘ فلم دیکھنےکیلئے ٹکٹ کی قطار میںکھڑے تھے۔ ٹکٹ ملنے میں تاخیر ہونے پر ان کے پیچھے کھڑے ایک شخص نےکہاکہ شاید اداکار لوگ کھانا کھانے گئے ہیں، اسلئے ٹکٹ نہیں دی جارہی ہے۔ یہ سن کر غلام فرید کوبڑی ہنسی آئی تھی ،انہوںنے اس شخص سے کہا کہبھائی یہ ڈراما نہیں فلم ہے ،اس میں اداکار پردے پر دکھائی دیتے ہیں ،ڈراماکی طرح اسٹیج پر اداکاری نہیں کی جاتی ۔ اس شخص کھیسانی سی ہنسی  کے ساتھ کہا کہ مجھے لگا کہ ڈراماکی طرح فلم بھی ہوگی ۔

غلام فرید کے ایک کزن بھائی فوٹوگرافر کی حیثیت سے فلمی اداکاروں کی تصاویر نکالتےتھے۔اکثر شوٹنگ پر جاتےتھے۔ان کےساتھ غلام فرید کئی مرتبہ شوٹنگ دیکھنے گئےتھے۔ یہ۷۰ء کی دہائی کی بات ہے۔ فیمس اسٹوڈیومیں فلم’ آگلے لگ جا‘اور’سنگھرش‘ کی شوٹنگ کےدوران فلم اداکار شتروگھن سنہااور ششی کپور سے قریب سے ملنے ،انہیں دیکھنے اوران کے ساتھ تصاویر نکالنے کی یادیں اب بھی محفوظ ہیں۔ان دونوں اداکاروںکےساتھ نکالی تصاویر ان کے موبائل میں آج بھی محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’قحط سالی میں زیادہ لوگوں کی دعوت کرنےپرپولیس شادی کا کھانا اُٹھا لےجاتی تھی‘‘

غلام فرید ۱۹۷۷ءمیں ملازمت کیلئے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ ڈرائیور کے ویزا پر جانےکیلئے انہیں ۳؍ ہزارروپے کی ضرورت تھی،ان کے پاس پیسوں کاانتظام نہیں تھا ،اسلئے ان کی اہلیہ نے اپنی ہار گروی رکھ کر انہیں ۳؍ہزار روپے دیئے تھے۔ سعودی پہنچتے ہی ان کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ مجبوراً ایک مہینےمیں انہیں ممبئی لوٹنا پڑا۔ اس وقت ان کے کفیل نے انہیں ایک مہینے کی پوری تنخواہ ڈھائی ہزارروپے دی تھی،علاوہ ازیں کمپنی میں کام کرنےوالے دیگر ملازمین نے اپنی جانب سے ساڑھے  ۹؍ہزار روپے جمع کرکے دیئے تھے۔وہ ۱۲؍ ہزار روپے لے کر ممبئی لوٹے تھے۔ کفیل نے ان کے ایجنٹ کے نام ایک خط بھی دیا تھا، جس میں ویزے کا ۳؍ ہزار روپے چارج کرنےپر اعتراض کیا گیا تھا کیونکہ اس نے ویزا مفت میں دیاتھا، اسلئے۳؍ہزار روپے  لوٹانےکیلئے کہا تھا۔انہوںنے ممبئی پہنچ کر ایجنٹ کو لیٹر دکھایا۔ایجنٹ نے انہیں۳؍ ہزار کےبجائے ڈھائی ہزار روپے لوٹاکر کہاکہ ۵۰۰؍روپے کاغذی کارروائی پر خرچ ہوئے تھے۔ غلام فرید کفیل اور کمپنی کے  ملازمین کے حسن اخلاق سے بہت متاثرہوئےتھے۔

غلام فرید کے والد اور دادا وغیرہ کاتعلق اعظم گڑھ کے مبارک پور سے رہاہے ۔ ان کے دادا کا گھر اور املاک اب بھی مبارکپور میں ہے لیکن چونکہ ان کاخانوادہ ممبئی میں پلا بڑھا ہے اسلئے ان لوگوںکامبارک پورسے تعلق کم ہوگیاہے۔ تقریباً ۴۰؍سال قبل ان کے پھوپھا نے ان کی والدہ اور بھائی بہنوں کو بہت اصرار کر کے مبارکپور بلایاتھا۔ وہاں پہنچنے پر پھوپھا نے ان لوگوں سے کہاتھاکہ تمہارے آباواجداد کی املاک اور جائیداد یہاں ہے، تم لوگ آتے جاتے نہیں ہو، وہ سب املاک کی نگرانی میں کرتا ہوں، چنانچہ میں چاہتاہوںکہ آپ لوگ ان املاک کو اپنے قبضے میں لے لیں یا پھر انہیں فروخت کرکے رقم لے جائیں تاکہ بعد میں کسی طرح کا تنازع نہ ہو۔ ان کی ایمانداری اوردیانت داری سے متاثرہوکر غلام فرید کی والدہ اور بھائی بہنوں نےجائیداد لی، نہ ہی پیسہ بلکہ پوری املاک پھوپھاکے حوالے کرکے کہا، آج سےآپ ہی اس کےمالک ہیں۔ فریقین کے حسن اخلاص کا نتیجہ ہےکہ دونوں خاندانوں میں اب بھی مضبوط رشتہ قائم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے ایک سوال پر گلبدین حکمت یار نے کہا کہ اصل طاقت اللہ ہے، نہ کہ سپر پاورز‘‘

غلام فرید کا خیال ہےکہ پہلے کےلوگ زبان کے پابند اور پکے ہوا کرتےتھے۔ ان کے خاندان میں ولادت کے موقع پر لوگ ان کی والدہ کو ساتھ میںضرور رکھتےتھے۔ ان کی خالہ کے یہاں ولادت ہونےوالی تھی،ایسےمیں ان کے خالو نے ان کی والدہ کو اپنے گھر بلایاتھا،جس پر ان کے دادا نے، خالوسے کہاتھا کہ میں اپنی بہوکو اسی شرط پر بھیجوں گا، اگرلڑکی ہوئی تو وہ تمہیں ہمارے گھر بیاہنا ہوگا۔ اس کے جواب میں خالو نے  دادا سےوعدہ کیاتھا کہ اگرلڑکی ہوئی تو آپ کے گھر ہی بیاہی جائے گی۔ اتفاق سے لڑکی ہی پیداہوئی ۔ وعدہ کےمطابق اس لڑکی کی شادی غلام فرید کےساتھ ہوئی اور دونوں نے کامیاب زندگی بسر کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK