اعتبار اچھی چیز ہے مگر اس کی فکر کون اور کیوں کرے؟ اسی وجہ سے بے اعتباری بڑھ رہی ہے اور سماج میں کھوکھلا پن آرہا ہے۔ یہ اپنے آپ میں رہنے کی سزا ہے؟
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 3:28 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
اعتبار اچھی چیز ہے مگر اس کی فکر کون اور کیوں کرے؟ اسی وجہ سے بے اعتباری بڑھ رہی ہے اور سماج میں کھوکھلا پن آرہا ہے۔ یہ اپنے آپ میں رہنے کی سزا ہے؟
اعتبار مختصر اور آسان لفظ ہے۔ نہ تو اس کا املا لکھنے میں دشواری ہوسکتی ہے نہ ہی تلفظ کی ادائیگی میں۔ کوئی طالب علم یا شخص اسے ’’ایتبار‘‘ لکھ دے تو موجودہ اُردو شکنی اور اُردو فراموشی کے دور میں یہ ممکن ہے۔ کسی کو اس کا ملال بھی نہیں ہوگا مگر ایسے املا کا اعتبار نہیں۔ ایسا لکھنے والے کا بھی اعتبار نہیں۔ اعتبار کو ایتبار لکھنے والے کو اییک کرم اور کرنا چاہئے کہ معتبر کو موتبر لکھے۔
اُردو میں ماہر لسانیات زیادہ رہ نہیں گئے ہیں، پھر بھی جن کا دم غنیمت ہے اُن سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ حضور، کسی کا اعتبار مشکوک ہو ایسے اعتبار کیلئے ایتبار لکھنا اور جو معتبر نہ ہو اُس کیلئے موتبر لکھنا کیسا رہے گا؟ اُمید ہے کہ اس کی اجازت مل جائیگی تب بھی ایک دشواری برقرار رہے گی۔ بولنے اور سننے میں موتبر بھی معتبر ہی معلوم ہوگاکیونکہ عموماً ’’معتبر‘‘ بولنے والے ’’ع‘‘ کا تلفظ ادا نہیں کرتے اس لئے موتبر بھی معتبر ہی سنا جائیگا جو گمراہ کن ہوگا۔ اس کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ بولنے والا جب کسی واقعی معتبر شخص کی بات کرے تو وضاحتاً کہہ دے کہ یہ ’’ع‘‘ والے معتبر ہیں۔ اگر کہنے والا خود بھی معتبر ہوگا تو اس کی وضاحت مان لینے میں مضائقہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ کشمیر میں عوامی شورش
’’اعتبار‘‘ کو انگریزی میں ’’ٹرسٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ کئی ادارے بھی ٹرسٹ کہلاتے ہیں۔ ان میں پرائیویٹ ٹرسٹ بھی ہوتے ہیںاور پبلک ٹرسٹ بھی۔ پرائیویٹ ٹرسٹ ’’انڈین ٹرسٹس ایکٹ ۱۸۸۲ء‘‘ کے تحت جبکہ پبلک ٹرسٹس مخصوص قوانین کے تحت وجود میں آتے ہیں جیسے مہاراشٹر میں مہاراشٹر پبلک ٹرسٹ ایکٹ۔ انہیں ٹرسٹ کہنے کا جواز سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اعتبار کی بنیاد پر قائم ہوتے اور جاری رہتے ہیں۔
اتنا لکھنے کے بعد مَیں نے اے آئی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ٹرسٹ کو ٹرسٹ کیوں کہا جاتا ہے تو جو بات اوپر لکھی گئی ہے اس کی توثیق ہی نہیں ہوئی مزید چند باتیں بھی معلوم ہوئیں مثلاً جس دور میں صلیب بردار برسرپیکار تھے، تب اُن کے سامنے ایک قانونی مسئلہ تھا۔ زمینداری کے قوانین اُسی شخص کو زمین کا مالک تسلیم کرتے تھے جس کا نام املاک کی دستاویزات پر درج ہوتا تھا۔ اگر کوئی صلیب بردار جنگ میں کام آگیا تو بادشاہ اُس کی املاک ضبط کرلیتا تھا۔ اس کو روکنے کیلئے صلیب بردار اپنی زمین کے کاغذات پر ایسے دوستوں کا نام چڑھا دیتا تھا جن پر اسے اعتبار ہوتا تھا۔ ان دوستوں پر یہ شرط عائد ہوتی تھی وہ متعلقہ زمین سے ہونے والی آمدنی کو متوفی صلیب بردار کے بال بچوں پر خرچ کریں۔ چونکہ صلیب بردار اپنے دوستوں پر ٹرسٹ کرتا تھا اس لئے ادارہ کی ابتدائی شکل کو ٹرسٹ نام دیا گیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ نئی نسل کے قارئین کیلئے عرض ہے کہ صلیب بردار اُن فوجیوں کو کہا جاتا تھا جنہوں نے ارض مقدس کو مسلمانوں سے چھڑانے کیلئے صلیبی جنگیں کی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران معاہدہ کے بعد توقعات اور سوالات
بات اعتبار سے شروع ہوئی تھی اس لئے کہ موجودہ دور میں جن چیزوں کا فقدان سماجی تانے بانے کو بگاڑ رہا ہے اُن میں سے ایک اعتبار ہے۔ اس کے فقدان کی متعدد وجوہات ہیں جو اظہر من الشمس ہیں۔ مثلاً جھوٹ عام ہے۔ وعدہ وفا نہ کرنا عام ہے۔ بے تعلقی عام ہے۔ سماجی اقدار سے تغافل عام ہے۔ اسلاف سے بے اعتنائی عام ہے۔ سیکھنے سے بیزاری عام ہے۔ علم سے دوری عام ہے۔ اعتبار قائم کرنے والی خوبیوں سے لاعلمی عام ہے۔ نمود و نمائش عام ہے۔ جذبوں کو نہ سمجھنے کا رجحان عام ہے۔ حتیٰ کہ اعتبار کی اہمیت سے ناواقفیت بھی عام ہے۔ ایسے حالات میں اگر عوام و خواص کے مختلف طبقات اپنا اعتبار کھوتے ہیں تو یہ انہی محرکات کا لازمی نتیجہ ہے۔ ولی دکنی نے کہا تھا: ’’مفلسی سب بہار کھوتی ہے = مرد کا اعتبار کھوتی ہے‘‘۔ یہاں مفلسی کا معنی صرف معاشی مفلسی نہیں ہے۔ یہ اخلاقی مفلسی بھی ہے، اقداری مفلسی بھی ہے، کرداری مفلسی بھی ہے، خاندانی مفلسی بھی ہے، علمی و تہذیبی مفلسی بھی ہے اور جذباتی مفلسی بھی ہے۔ مفلس وہی نہیں ہوتا جو تنگ دست ہو۔ مفلس وہ بھی ہوتا ہے جو اپنے علم سے دوسروں کے ذہنوں کو منور کرنے کے جذبے سے محروم ہو۔ جو اوصاف کے معاملے میں کمزور ہو۔ جو کسی کو فیض پہنچانے میں سست ہو۔ جو کسی کا درد بانٹنے سے محترز ہو۔ جو کسی کو بہتر مشورہ دینے کی اہلیت سے عاری ہو اور جو اپنے مفادات پر دو سروں کے مفادات کو مقدم رکھنے کے جذبے سے نا آشنا ہو۔ ایسا شخص اعتبار حاصل نہیں کرسکتا۔ اعتبار مختصر اور آسان لفظ ہے مگر اس کی معنویت کو پانے کیلئے طویل مسافت طے کرنی پڑتی ہے اور مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔کوئی شخص چاہے کہ اُسے کچھ کئے بغیر اعتبار مل جائے تو یہاں آٹومیشن ممکن نہیں۔ اس کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
مگر، سوال یہ ہے کہ آدمی اعتبار کیوں حاصل کرے؟ اس سوال کے جواب تک پہنچنے کیلئے اس کا دوسرا پہلو ملاحظہ کیجئے جس میں ہر شخص یہ اعتراف کرتا ہے کہ موجودہ دور میں بے اعتباری بڑھ رہی ہے یا عام ہوگئی ہے۔ اداروں کا اعتبار، اہل منصب کا اعتبار، اہل سیاست کا اعتبار، ( دورِ حاضر کے) اہل علم کا اعتبار، رشتہ داروں اور دوستوں کا اعتبار،ہمسایوں کا اعتبار اور شناساؤں کے حلقے کا اعتبار یا تو کم ہوگیا ہے یا ختم ہوگیا ہے۔اگر اس صورت حال سے گلہ ہے اور اس سے بے اطمینانی ہے اور اس کی وجہ سے انتشار کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ ’’اعتبار‘‘ اپنی اہمیت منوا رہا ہے۔ ممکن ہے سماج اور معاشرہ بھی اس اہمیت کو سمجھ رہا ہو مگر سماج اور معاشرہ کے افراد کا مسئلہ ہر ایک کا یہ طرز فکر ہے کہ سب کچھ اچھا ہوجائے، سماج بہتری کی مثال ہو، معاشرہ پر نکھار آجائے، گھروں میں عافیت کے چراغ روشن ہوں، انسانیت پر بہار آجائے مگر ’’مَیں‘‘ جیسا ہوں مجھے ویسا ہی رہنے دیجئے، کوئی تلقین مت کیجئے، کوئی مشورہ مت دیجئے، کوئی نصیحت مت کیجئے اور میری جانب کسی بھی زاویئے سے انگشت نمائی کی زحمت نہ کیجئے۔ جب سماج اور معاشرہ لاکھوں ’’مَیں‘‘ کا مجموعہ ہو اور ہر ’’مَیں‘‘ اعتبار کے تقاضوں کو پورا کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص یہ اُمید کرے کہ دُنیا گل و گلزار ہوجائے مگر خود ایک گل بھی نہ کھلانا چاہے۔ اسی طرز فکر نے اعتبار کی شمعوں کو مدھم کردیا اور بے اعتباری کے سائے دراز ہوتے جارہے ہیں۔