جہاں ہندوستان میں آئین مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے وہیں شریعت قانون کی پاسداری اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے باوجود ’آئین یا شریعت‘ کے سوال کو ایک ’ایجنڈا‘ بنا کر مسلم سیاستدانوں اور پینلسٹوں سے کسی ایک کے انتخاب پر غیر معمولی اصرار کیا جا تا ہے
ٹی وی چینلوں پر غیرصحتمند مباحث کا سلسلہ چل پڑا ہے جس پر قدغن لگنی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
حالیہ دنوں میں ہندوستانی نیوز چینلوں کے مباحثی اسٹوڈیوز میں مسلم پینلسٹ اور سیاست دانوں کے سامنے ایک سوال غیر معمولی شدّت اور غیر فطری اصرار کے ساتھ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور آئینی تصادم کے طور پر اُ چھالا جا رہا ہے کہ’شریعت مقدم ہے یا آئین؟‘
یہ سوال اپنی ساخت اور مقصد میں علمی نہیں، اشتعالی ہے؛ استفہامی نہیں بلکہ ایک مخصوص مرکز ِ فکر کے نظریاتی شطرنج کی چال ہے۔اور اسی لئے اسے حصولِ جواب کے بجائے شور؛حقیقت کی بازیافت کے بجائے ہیجان انگیزی اور مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد شریعت کے اصولی منہج کااِدراک و شعورہے، نہ آئین کی بنیادی روح کی تفہیم و آگہی، بلکہ اِس ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو ہمیشہ احتسابی کٹہر ے اور دِ فاعی پوزیشن میں رکھنے کے اُسی تسلسل کا حصہ ہے جو آزادی کے بعد سے مسلسل تختۂ مشق ہے، تاکہ قوم ِ مظلوم کی مذہبی شناخت یا وطنی وفاداری،کسی ایک کو مشکوک بنایا جا سکے۔یہی اِس سوال کی منزلِ مراد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان قرآن سے تجدید تعلق کا بہترین موقع
حالانکہ اگر اس سوال کو آئینی اور شرعی تناظر میں سنجیدگی سے پرکھا جائے تو یہ کسی دو ٹوک تصادم پر نہیں بلکہ ایک ہم آہنگ، متوازن اور تاریخی طور پر آزمودہ رشتے پر منتج ہوتا ہے،ایسا رشتہ جو نہ آئین کی نفی کرتا ہے اور نہ شریعت کا انکار۔
ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور یہ آزادی ریاست کی آئینی روح میں شامل ہے۔ آئین کی دفعہ۵ ۲؍ آزادیٔ ضمیر کے ساتھ مذہب کے ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دیتی ہے، بشرطیکہ وہ عوامی نظم، اخلاق اور صحت عامہ کے خلاف نہ ہو۔ یہ شرط محض مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ سبھی مذا ہب کے لئے یکساں ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں اس اصول کو واضح کیا ہے کہ ریاست کا کام مذہب کو نجی کمرے میں قید کرنا نہیں بلکہ مذہبی تنوع کو آئینی نظم میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسی نکتے پر اگر شریعت کو اس کے مآخذکی روشنی میں دیکھا جائے تو وہ بھی انسانوں کے درمیان نظم، عدل، امن، عہد کی پاسداری ا ور خیر ِعام کے قیام کو مقصد قرار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جب دل پتھر ہونے لگے تو رَمضان دستک دیتا ہے
فقہاء کرام کی مفتہ بہ آراء کی رو شنی میں ’’دار‘‘ کی بنیادی تین اقسام میں ہندوستان اپنے آئینی تناظر میں دار العہد اور دار الامان ہے، جہاں مسلمانوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت اور جان و مال کا تحفظ حاصل ہے۔ فقہائے اسلام اس اصول پر متفق ہیں کہ جہاں مسلمان عقد ِ امان، مذہبی آزادی اور جان و مال کے تحفظ کے ساتھ رہ رہے ہوں، وہاں ریاستی قوانین و آئین کی پاسداری شرعاً لازم ہے، اور اس کے برخلاف طرزِ عمل نقضِ عہد کے زمرے میں آتا ہے۔ ویزا، پناہ، اقامہ یا شہریت شرعی طور پر عقد ِ امان کے زمرے میں آتے ہیں اور ا سلام میں عہد شکنی نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ شرعاً ممنوع بھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کیا کرو۔‘‘(سورۃ المائدہ:۱) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو معاہدات، وعدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کا حکم دیا ہے،خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوں یا بندوں کے ساتھ، ریاستی و سماجی معاہدات ہوں یا باہمی معاملات۔ فقہائِ اسلام نے اسی آیت کو وفائے عہد کے باب میں بنیادی دلیل قرار دیا ہے، اور جدید ریاستی قوانین و شہریت کے مباحث میں بھی اسی اصول کو اصلِ اساس مانا جاتا ہے۔
البتہ اگر کوئی قانون نصوصِ شریعہ سے متصادم ہو تو احتجاج کا حق بھی آئینی ہے۔اگر کہیں ناانصافی ہو تو اس کی اصلاح پرامن، قانونی اور اخلاقی ذرائع سے مطلوب ہے، نہ کہ اشتعال انگیز نعروں اور ٹی وی اسٹوڈیوز کے تماشوں سے۔ بین المذاہب معاشروں میں مسلمانوں کا یہی صحیح تعارف ہے، حسنِ کردار، قانون پسندی اور عہد کی پاسداری۔
یہ بھی پڑھئے: بیدار رہیں،رحمت کا حصار کہیں لغویات میں ٹوٹ نہ جائے!
وہ ملک جہاں مسلمان اپنے دین پر عمل کر سکیں، جان و مال محفوظ ہو، اور اجتماعی زندگی قانون کے تحت ہو، وہاں آئین کی پاسداری شرعی تقاضا بن جاتی ہے۔اس لئے وطن سے محبت کوئی جدید قوم پرستانہ نعرہ نہیں بلکہ اسلامی اخلاقیات کا فطری نتیجہ ہے۔ امن، انصاف اور اجتماعی خیر کے بغیر نہ آئین محفوظ رہتا ہے اور نہ عبادت۔ چنانچہ جہاں ہندوستان میں آئین مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے وہیں شریعت قانون کی پاسداری اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے باوجود ’آئین یا شریعت‘ کے سوال کو ایک ’ایجنڈا‘ بنا کر نیوز چینلو ں پر پرائم ٹائم شوز کئے جا رہے ہیں جہاں مسلم سیاستدانوں اور پینلسٹوں سے کسی ایک کے انتخاب پر غیر معمولی اصرار کیا جا تا ہے۔ مقصد مکالمہ نہیں بلکہ جذبات انگیزی ہے۔ ایک مخصوص اِسکرپٹ، مخصوص جارحانہ لہجہ اور مخصوص کاسٹنگ، جہاں داڑھی ٹوپی کرتے اور جبہ و دستار میں ملبوس افراد کو اس طرح سامنے کیا جاتا ہے کہ اختلاف رائے علمی نہ رہے بلکہ ذاتی جھگڑے میں تبدل ہو جائے۔ نیوز چینلوں پر یہ مناظر محض اتفاق نہیں ایک منظم حکمت ِ عملی ہے، جس کا ارتکازی نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو دو مسلط کردہ انتخابوں میں دھکیلا جائے۔ اگروہ آئین کا انتخاب کریں تو اُن کی مذہبی شناخت سے دستبرداری کے ’ٹِکرز ‘ چلا دئیے جائیں؛ اور اگر وہ شریعت کی بات کریں، تو اُن کی وطنی وفاداری کو مشکوک بلکہ فوراً ’دیش دروہی‘ کی اصطلاح اُن پرمنطبق کر د ی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے
یہاں سب سے بڑا مسئلہ اِن ’مولوی نُما‘ افراد کا اس تماشے کا حصہ بننا ہے۔ جبکہ اُ نہیں نہ مقاصد ِ شریعت اور فقہی نکتۂ نظر کی توضیح کیلئے مدعو کیا جاتا ہے، نہ آئین کی باریکیوں پر مکالمے کے لئے؛ بلکہ نہایت چالاکی سے اُنہیں موضوع کے اُس مقام تک لایا جاتا ہے جہاں وہ اپنے بلند آہنگ جملوں، مبالغہ آمیز دعوؤں اور جذباتی ردِعمل سے اس بحث کو اُلجھا دیں۔ ان کی موجودگی سے مسلمان معاشرہ دوہرے نقصان سے دوچار ہوتا ہے، ایک طرف اکثریتی سماج میں یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ مسلمان آئین سے متصادم ہیں، اور دوسری طرف نا زیبا جذباتی ردِعمل سے شریعت کا وقار اور مسلم معاشرہ کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آئینی نظام جامد نہیں؛ وہ عدالتی تشریحات، سماجی تبدیلیوں اور جمہوری مباحث کے ذریعے ارتقا پذیر رہتا ہے۔ وہیں شرعی مسائل کی ایک زندہ فقہی روایت ہے جو اپنی اساس پر قائم رہتے ہوئے زمان و مکان کے تغیر کے ساتھ مقاصد کو مقدم رکھتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے کچھ منتخب بحثو ں کو متضاد زاویئے سے تصادمی انداز میں پیش کرنا علمی بددیانتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستانی مسلمان اسی ملک کے شہری ہیں، اسی آئین کے تحت حقوق اور فرائض رکھتے ہیں اور اسی سماج کے ساتھ ان کی روزمرہ زندگی مربوط ہے۔ انہیں ’وفاداری‘ ثابت کرنے کیلئے بار بار کٹہرے میں کھڑا کرنا دراصل آئینی روح کی توہین ہے۔ وفاداری کا تعین میڈیا ٹرائل سے نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ کسی قوم کی قربانیوں، تاریخی کردار اور آئینی وابستگی کے عملی تسلسل سے ثابت ہوتی ہے اور ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے تعلق سے تاریخِ ہند کے صفحات پر ان حقائق کی روشن شہادت ثبت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حقیقت ضرار، باغ والوں کا زعم اور نتیجہ، فرعون کا نشان عبرت بننا اور دُعائے یونسؑ
اس پورے منظرنامے میں ذمہ داری صرف میڈیا کی نہیں؛ اہلِ علم، سنجیدہ مذہبی قیادت اور مسلم دانشوروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی بحثوں کو اُن کے درست علمی، آئینی اور شرعی سیاق میں واپس لائیں ورنہ میڈیا کا مخصوص طبقہ ہیجان انگیزی کے ذریعہ سماج کو ز ہر آلود کرتا رہیگا۔