یہ کوئی سو دو سو سال کی بات نہیں بلکہ زمانۂ قدیم سے باہمی تعلقات پروان چڑھتے آئے ہیں۔ فکرو نظرکے اختلاف کے باوجود دونوں فرقوں کی باہمی تعامل اور میل جول کی طویل تاریخ ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ بخاری شریف جو ہم اہل سنت کےنزدیک حدیث کا سب سے معتبر مجموعہ ہے، اس میں ستر کے قریب ایسے راوی ہیں، جن کے بارے میں شیعہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔
مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی صفوں کو متحد رکھیں، عقل مندی کا تقاضایہی ہے۔ تصویر: آئی این این
اس وقت ایران اورامریکہ واسرائیل کے درمیان خون ریز جنگ جاری ہے، یہ پوری طرح امریکہ اور اسرائیل کے ظلم و جبر، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ دنیا میں نیوکلیر حملہ کے دوسنگین واقعات جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہوئے ہیں، جس میں لاکھوں لوگوں کی جان چلی گئی، بے شمار لوگ زخمی ہوئے، کئی شہر خاک و خون میں مل گئے، یہ امریکہ کا کارنامہ تھا۔ اِس وقت بھی امریکہ کے پاس دُنیا کے سب سے زیادہ یا دوسرے نمبر پر نیوکلیر ہتھیار ہیں۔ جنگ ہی اس کیلئے سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے۔ اس شرپسند ملک نے اب تک چارسو جنگیں لڑی ہیں، اس کی دو سواڑتالیس سالہ تاریخ میں بمشکل بیس سال ایسے گزرے ہیں، جس میں وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں تھا۔ (کانگریشنل ریسرچ سروس کی تحقیق) امریکہ جنگ کرنے کے ساتھ دوسروں کو آپس میں لڑانے اور ان کو ہتھیار بیچنے کاکام بھی بہت مستعدی سے کرتا ہے۔ موجودہ دور میں اس کی خاص توجہ خلیجی ملکوں کی طرف ہے، کیونکہ ان ملکوں کی زمین میںبھی اورسمندر میں بھی دولت کا بے پناہ خزانہ موجود ہے، اوراس کیلئے اس نے اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو استعمال کرنے کا بھرپور انتظام کیا ہے، اس کے پیچھے ایک خفیہ جذبہ اسلام دشمنی کا بھی ہے، اگرچہ عام طورپر بہت ہی خفیہ سازش کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف عمل کیا جاتا ہے؛ لیکن کبھی کبھی یہ سچائی ان کی زبان پر بھی آجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خواہشوں کا غلام نہیں، اُن کا رہبر بنیں!
اس وقت امریکہ اوراسرائیل نے خود ایران پر حملہ کیاہے۔ انہوں نے سراسر بین اقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے یہ ظالمانہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ کھلاہوا راز ہے کہ اسرائیل نیوکلیر عزائم رکھتاہے، غیرمعلنہ نیو کلیر ترقی کے راستہ پر گامزن ہے، اس نے کبھی واضح طورپر یہ اعلان نہیں کیاکہ وہ نیو کلیر ہتھیار نہیں بنارہاہے، اورنہ اس نے اس سے دور رہنے کا وعدہ کیا؛لیکن اس پر امریکہ کی طرف سے کوئی دبائو نہیں؛ بلکہ ہرطرح اس کی مدد کی جاتی ہے؛ لیکن ایران کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو صاف طورپر وعدہ کرتاہے کہ نیوکلیائی صلاحیت کو جنگی مقاصد کیلئے نہیں بلکہ پرامن مقاصد کیلئے بروئے کار لائے گا۔ دُنیا کے انصاف پسند لوگ ایران پر ہونے والی زیادتی کو محسوس کررہے ہیں؛مگر خوف اور لالچ نے ان کی زبانوں کو بند کررکھاہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام ایک زبان اور ایک دل ہوکر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکہ و اسرائیل کی مخالفت کریں؛ مگر اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں اورعالم اسلام میں اختلاف بھڑکانے کیلئے شیعہ سنی لڑائی پیدا کرنے اور اس کو بڑھانے کی کوشش کی، اورافسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دینی علوم سےآراستہ لوگ بھی اس سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے دونوں گروہ اہل سنت اور اہل تشیع صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، بیشتر مسلم ممالک میں جہاں اہل سنت کی اکثریت ہے، وہیں ایک قابل لحاظ تعداد شیعہ حضرات کی بھی ہے، کہاجاتاہے کہ خود سعودی عرب میں بیس فیصد شیعہ آبادی ہے، مدینہ منورہ میں بھی شیعہ حضرات کی اچھی خاصی آبادی ہے، بعض ممالک جہاں شیعوں کی اکثریت ہے، وہاں بڑی تعداد میں اہل سنت بھی آباد ہیں، خود ایران کے صوبہ زاہدان میں غالب آبادی اہل سنت کی ہے۔ کہاجاتاہے کہ تہران میں بیس فیصد اہل سنت ہیں، عراق میں دونوں طبقوں کی آبادی قریب قریب برابر ہے، یمن میں اہل تشیع کے فرقہ زیدیہ کے لوگ بڑی تعداد میں ہیں، پڑوسی ملک پاکستان میں غالباً دس فیصد شیعہ ہیں، روس سے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں میں اہل سنت کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی بڑی آبادی ہے، بلکہ آذربائیجان میں تو شیعہ اکثریت ہے، ہمارے ملک ہندوستان میں بھی یہ دونوں گروہ ہمیشہ سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں۔ لکھنؤ اورحیدرآباد میں شیعہ بھائیوں کی آبادی اچھی خاصی ہے؛ لیکن اکثرشہروں میں اہل سنت اکثریت کے ساتھ شیعہ اقلیت میں ہیں، حلقہ دیوبند کے سرخیل حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے وطن نانوتہ میں بھی شیعہ حضرات قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، غرض کہ عالمی اور ملکی سطح پر بھی مغرب سے مشرق تک ہر جگہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں آباد ہیں، سیاسی، تجارتی اورسماجی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی روایت پر کاربند ہیں، ایک دوسرے کے قائم کیے ہوئے تعلیمی اداروں اور خدمت خلق کے مراکزسے استفادہ کرتے ہیں، حد تویہ ہے کہ افغانستان میں بھی جو علاقہ ایران سے متصل ہے، وہاں شیعہ حضرات کی اکثریت ہے، اور وہ اپنی پوری مسلکی پہچان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن نے باطنی تضاد کو انسانی اخلاقی زوال کی ایک بڑی علامت قرار دیا ہے
اوریہ کوئی سو دو سو سال کی بات نہیں بلکہ زمانۂ قدیم سے باہمی تعلقات پروان چڑھتے آئے ہیں۔ فکرو نظرکے اختلاف کے باوجود دونوں فرقوں کی باہمی تعامل اور میل جول کی طویل تاریخ ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ بخاری شریف جو ہم اہل سنت کےنزدیک حدیث کا سب سے معتبر مجموعہ ہے، اس میں ستر کے قریب ایسے راوی ہیں، جن کے بارے میں شیعہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، ان میں بعض تو وہ ہیںکہ جن کو پکا شیعہ یاغالی شیعہ قراردیاگیاہے، جیسے: عبیداللہ بن موسیٰ (سیر اعلام النبلاء، ۹، ص: ۵۵۳) امام ابوحاتم ان کے بارے میں کہتے ہیں: وہ ثقہ تھے مگر انتہائی پکے شیعہ (محترقا فی التشیع) تھے، اسی طرح عباد بن یعقوب، امام بخاریؒ نے کتاب التوحید میں ان سے روایت لی ہے، ان کے بارے میں مشہور محدث ابن حبانؒ کا بیان ہے کہ وہ نہ صرف شیعہ تھے؛ بلکہ شیعت کے داعی تھے (تہذیب التہذیب، ۵؍۹۵) اہل سنت محدثین نے فطر بن خلیفہ سے روایت لی ہے، جن کو امام احمدؒ نے ثقہ اورامام یحییٰ بن معین نے پکا شیعہ قرار دیا ہے۔ (میزان الاعتدال :۳؍ ۳۶۳)
ایسے ہی عبدالملک کوفی کی روایت امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے لی ہے۔ اہل سنت کے ایک بڑے امام فقہ سفیان ثوریؒنے ان کو شیعہ اور ابن عدی نے پکا شیعہ قرار دیاہے، (تقریب التہذیب، نمبر :۴۱۶۵) کوفہ کے ایک بڑے عالم عدی بن ثابت تھے جو کوفہ کی مسجد کے امام وخطیب بھی تھے۔ اہل سنت محدثین نے عام طورپر ان سے روایت کی ہے۔ (سیر اعلام النبلاء: ۵؍۱۰۵)۔ دوسری طرف اہل سنت کے بہت سے علما کی روایتیں شیعہ کتب میں لی گئی ہیں:
جیسے قاضی حفص بن غیاث، یہ ہارون رشید کے زمانہ میں کوفہ اور بغداد کے قاضی رہے، شیعہ اہل علم سے منقول ہے کہ ان سے ایک سو ستر سے زیادہ روایتیں کتب شیعہ میں نقل کی گئی ہیں (کتاب الفہرست، ص: ۱۱۶۹) طلحہ بن زید سنی عالم ہیں؛ مگر ان کا شمار شیعہ کتب کے بڑے راویوں میں ہوتاہے۔ علامہ طوسی نے نقل کیاہے کہ ان کی کتاب معتبر ہے۔ اسی طرح بصرہ کے ایک بڑے عالم غیاث بن ابراہیم ہیں، ان کی روایت عام طورپر شیعہ مصنفین نے نقل کی ہے، شیعہ مسلک کے ایک بڑے عالم علامہ طوسیؒ ہیں، انہوں نے بطور اصول یہ بات لکھی ہے کہ اگرکوئی راوی سنی ہے؛لیکن سچاہے تو اس کی حدیث قبول کی جائیگی۔ (عدۃ الاصول:۱؍۱۴۹)
اس باہمی تعلق کا مظہر یہ ہے کہ کئی سنی علماء و محدثین سے شیعہ علماء نے کسب فیض کیاہے، اورکئی شیعہ علماء سے اہل سنت کے علماء نے، اسی طرح بعض اکابر اہل سنت ان بزرگوں کے شاگرد رہے ہیں، جن کو اہل تشیع اپناامام مانتے ہیں اور اہل سنت کے نزدیک وہ شیعہ نہیں تھے اوران کو بڑا اہم مقام حاصل تھا، جیسے امام جعفر صادق۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام سفیان ثوریؒان کے شاگردوں میں ہیں۔ مشہور شیعہ کتاب’’الکافی‘‘ میں ان سے روایات لی گئی ہیں، شعبہ بن حجاج اہل سنت کے امیرالمومنین فی الحدیث کہلاتے ہیں، شیعہ کتب میں ان سے بھی روایتیں لی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اخلاص کا ایک ذرّہ
اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مسلکی اختلاف اور فکر و نظر میں دوری کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے ربط وتعلق رکھتے تھے۔ مذہبی معاملات میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی مذہبی شخصیات سے علمی و دینی مسائل میں استفادہ بہت ہی قلبی کشادگی اور وسعت ذہن کی بات ہے۔
اگراس اختلاف کو بڑھایا جائے اور اسے ہوا دی جائے تو یہ امت کیلئے بے حد نقصان کا سبب ہوگا، اورپوری امت کو کمزور کردے گا۔ ہمارے ملک میں اس وقت فرقہ پرست طاقتیں اورنفرت پھیلانے والی تنظیمیں بام اقتدار پر پہنچ چکی ہیں، ان کے کارندے ملک کے چپہ چپہ پر شرپھیلانے کاکام کررہے ہیں، وہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں تو شیعہ سنی نہیں دیکھتے، اُن کا ہدف مسلمان ہوتے ہیں خواہ شیعہ ہوں یا سنی۔
اسی طرح غاصب اسرائیل شیعہ سنی کا فرق کئے بغیر تمام مسلم ممالک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسے مواقع پر اپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کو متحد ہوناچاہئے۔ ایک زمانہ میں کانپور میں شیعہ حضرات کے تعزیہ کے خلاف برادران وطن نے شورش برپاکرنی چاہی اور سوال یہ تھا کہ اس سلسلے میں اہل سنت کا کیا موقف ہو؟ اس موقع پر حلقہ ٔ دیوبند کی نمایاں ترین شخصیت حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ نے تعزیہ کی تائید میں بیان دیا اور فرقہ پرست ہندوئوں کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: صاحبو، ماہ ِرمضان گزرگیا، اب کیا؟
مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی صفوں کو متحد رکھیں، عقل مندی کا تقاضا یہی ہے اور عہد صحابہ سے مسلمانوں کا یہی طریقہ رہاہے۔جب خلیفہ برحق سیدناحضرت علی بن ابی طالبؓ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اورحضرت معاویہؓ کے درمیان اختلاف اپنے شباب پر تھا، یہاں تک کہ ان کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ بھی ہوچکی تھی، تو رومی حکمرانوں نے اس سے فائدہ اٹھانا چاہا اور حضرت علی ؓکے مقابلہ حضرت معاویہؓ سے تعاون کرنے کی پیشکش کی۔ حضرت معاویہؓ نے اس کے جواب میں لکھا:
روم کے کتے! اگرتونے ذرا بھی شرارت کی یا سرحد کی طرف قدم بڑھایا تو یاد رکھ! میرے اور میرے بھائی علیؓ کے درمیان صلح ہوجائے گی، اور پہلا لشکر جو تیری طرف بڑھے گا، اس کا سپہ سالار علیؓ ہوگا اور میں اس کے جھنڈے تلے سپاہی بن کر زمین کو باوجود وسعت کے تجھ پر تنگ کردوں گا۔ (تاریخ ابن کثیر:۸؍۱۱۹)
موجودہ حالات میں ہماری سوچ اتحاد واتفاق کے لئے ایسے پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہونی چاہئے جو تمام مسالک کو انصاف دے سکے، اوران کے جذبات کا لحاظ رکھے۔ایران کو بھی اپنے طرز عمل میں ہمہ گیری لانی چاہئے تاکہ پڑوسی مسلم ممالک سے اس کے تعلقات بہتر ہوں اور اُن کے مفادات کا خیال رکھا جائے ورنہ یہ جنگ عرب اور اسرائیل کی ہونے کے بجائے خدانخواستہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہوجائیگی، اسلام دشمن طاقتوں کو اس سے تقویت ملے گی اورمسلمانوں کے وسائل تباہ ہونگے۔
مگر افسوس ہے کہ دونوں طبقوں کے بعض علماء اور مذہبی رہنما بے محل بیان دے کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں (اللہ تعالیٰ ان کو عقل سلیم عطا فرمائے)۔ عالم اسلام کا اس وقت اسرائیل جیسے دشمن سے سابقہ ہے، دنیا میں اس سے زیادہ بے شرم اور ظالم قوم کوئی اورنہیں ہے، اسرائیلی ترانہ ہی کو اگرمسلمان اپنے سامنے رکھیں تو ان کی شقاوت اوران کےناپاک عزائم کا اندازہ ہوجاتا ہے، یہ ترانہ ہبرو زبان میں ہے، جس کا اردو ترجمہ اس طرح کیاگیاہے:
’’جب تک دل میں یہودی روح ہے، تمنا کے ساتھ مشرق (خلیجی ممالک ) کی طرف بڑھنا ہے، ہماری امید ابھی پوری نہیں ہوئی، اپنی سر زمین پر ایک ہزار سال کا خواب، اپنے خوابوں کی دنیا یروشلم ، ہمارے مشترکہ دشمن یہ سن کر ٹھٹھر جائیں، مصر و کنعان کے لوگ لڑکھڑا جائیں، بیبولون (بغداد) کے لوگ ٹھٹھر جائیں، اور ان کے آسمانوںپر ہمارا خوف و دہشت چھائی رہے، جب ہم اپنے نیزے ان کی چھاتیوں میں گاڑ دینگے، اورہم ان کا خون بہتے ہوئے اوران کے سرکٹے ہوئے دیکھیں گے، تب ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہوںگے جو وہ چاہتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم
یعنی فلسطین سے لے کر عراق تک ان کے نشانہ پر ہیں، جس میں جزیرۃ العرب اور خلیجی ممالک کے اکثر علاقے شامل ہیں ، افسوس کہ عرب حکمراں کمال بے غیرتی اور نافہمی سے اس ترانہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مقام عبرت ہے کہ برادرانِ وطن کے درمیان اس درجہ مذہبی اختلاف ہے کہ شاید کسی اور قوم میںہو ، پھر ذات پات کے اختلاف کی جڑیں بھی بڑی گہری ہیں ،لیکن مسلمانوں کے خلاف پیدا کی گئی عداوت نے ان کو متحد کر رکھا ہے۔ اسی طرح یہودیوں کے بھی کئی فرقے ہیں اورسب ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کے ظاہری شعار بھی الگ الگ ہیں، میں نے بیت المقدس اوربعض مغربی ممالک کے سفر میں اس بات کو دیکھا ہے، وہ اپنی آبادیاں بھی الگ الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسی کی صورت عیسائیوں کی بھی ہے۔ بیت المقدس کی زیارت کے موقع پر اس حقیر کو بیت اللحم جانے کا موقع ملا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام پیدائش قرار دیا جاتاہے، وہاں میں نے خود دیکھاکہ ایک ہی جگہ قریبی فاصلہ سے تین چرچ بنے ہوئے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ تینوں الگ الگ عیسائی فرقوں کے ہیں اور وہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ان کے مختلف گروہوں کو جس چیز نے یکجاکررکھاہے، وہ ہے اسلام سے عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت۔ مقام افسوس ہے کہ ہمارے دشمن تو ہماری مخالفت کیلئے متحد ہوجائیں اوراہم ایسے نادان ثابت ہوں کہ ایسی صورت حال میں بھی اختلاف کو ہوادینے کاکام کرتے رہیں۔
اس وقت مسلکی اختلافات کا سوال نہیں، سوال یہ ہے کہ عالم اسلام میں اورخاص کر ہمارے ملک ہندوستان میں مشترکہ مقاصد کے لئےکیا اتحاد نہیں ہوسکتا؟ اور اتنے بڑے دشمن کے مقابلہ ہم آواز ہوکر بات نہیں کی جاسکتی؟ اس پر سنجیدگی سے غورکرنےکی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں بھی فرقہ پرست طاقتیں شیعہ سنی، مقلد غیرمقلد، دیوبندی، بریلوی اختلاف کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہیں۔کون نہیں جانتا کہ اس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا ہے جو اُٹھایا جاتا رہا ہے۔ مسلمانوں کا اختلاف اوران کی ناسمجھی اُنہیں کمزور سے کمزور تر کرتی جارہی ہے، اوران کی بے وزنی ہر میدان میں بڑھتی جا رہی ہے، اس پر جذبات سے نہیں،عقل وشعور اور حکمت ودانائی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔ رب العالمین ہمیں توفیق مرحمت فرمائے، آمین۔