انسانی معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری اور ناگزیر حقیقت ہے کیونکہ انسانوں کی سوچ، فہم، مزاج، تجربات اور حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اسی لئے آراء میں تنوع پایا جانا کوئی غیر عقلی بات نہیں ہے۔
انسانی معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری اور ناگزیر حقیقت ہے کیونکہ انسانوں کی سوچ، فہم، مزاج، تجربات اور حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اسی لئے آراء میں تنوع پایا جانا کوئی غیر عقلی بات نہیں ہے۔ اسلام اس فطری حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور اختلافِ رائے کو علمی، فکری اور تعمیری دائرہ میں رہتے ہوئے جائز بلکہ بعض اوقات مفید بھی قرار دیتا ہے، کیونکہ اس سے غور و فکر کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور حق تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن جب یہی اختلاف ذاتی انا، ضد اور تعصب کی زد پر آجائے یا اس کی نذر ہو جائے اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت، بغض، قطع تعلقی اور دوری اختیار کی جائے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی اقدار کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی متصادم ہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود باہمی احترام، اخوت، حسنِ ظن اور رواداری کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ معاشرہ میں محبت، خیر خواہی اور خیر کا رشتہ قائم رہنا ضروری ہے۔ ذاتی دشمنی اور دلوں کی دوری معاشرہ میں انتشار، کمزوری اور فساد کو جنم دیتی ہے، جبکہ برداشت، صبر اور وسیع ظرفی معاشرتی امن اور اتحاد کی بنیاد بنتی ہے۔ اس لئے ایک باشعور اور باکردار انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف کو دلیل اور اخلاق کے دائرے میں رکھے، اپنی بات نرمی اور حکمت کے ساتھ پیش کرے اور اختلافِ رائے کو دلوں کے فاصلے میں تبدیل ہونے سے روکے، کیونکہ یہی طرزِ فکر ایک مہذب، پُرامن اور اسلامی معاشرہ کی حقیقی پہچان ہے۔
قرآن و حدیث کی تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اختلافِ رائے کے باوجود باہمی محبت، احترام اور تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اہلِ ایمان کو آپسی نزاع اور جھگڑے سے سختی سے روکتا ہے اور اس کے نتائج بھی بیان کرتا ہے کہ اگر تم آپس میں جھگڑو گے تو کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری اجتماعی طاقت ختم ہو جائے گی۔ (سورۂ الانفال:۴۶) اسی طرح قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس لیے ان کے درمیان اصلاح اور صلح کرانا ایک دینی ذمہ داری ہے۔ (سورۂ الحجرات:۱۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی باہمی تعلقات میں نفرت، حسد اور قطع تعلقی سے منع فرمایا اور تاکید کی کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہیں۔ (بخاری) ان قرآنی اور نبویؐ تعلیمات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اختلافِ رائے ایک فطری امر ہو سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر ذاتی دشمنی، دلوں کی دوری اور تعلقات کا خاتمہ کرنا نہ تو اسلامی ہے اور نہ اخلاقی۔
عجیب المیہ یہ ہے کہ جس رویّے کو زمانۂ جاہلیت کی سب سے نمایاں پہچان سمجھا جاتا تھا یعنی معمولی اختلافِ رائے پر برسوں تک دشمنی، خونریزی اور قبائلی عصبیت، وہی رویّہ آج علم، شعور اور تہذیب کے دعوؤں سے روشن اس دور میں بھی پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس زمانے میں تلواریں کھنچتی تھیں اور آج قلم، زبان اور سماجی رویے زخم لگاتے ہیں۔ حالانکہ معلمِ انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد نے انسان کو یہ سکھایا تھا کہ اختلاف ختم کرنے کی صورت نکالی جائے نہ کہ نفرت اور انتقام کے جذبے کو پروان چڑھایا جائے۔ مگر افسوس کہ ہم نے تعلیماتِ نبویؐ کی روح کو سمجھنے کے بجائے محض دعوؤں پر اکتفا کیا اور اخلاقی بلندی کے اُس معیار کو فراموش کر دیا جو اختلاف کے باوجود وقار، برداشت اور حسنِ سلوک کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان علمی ترقی کی بلندیوں پر کھڑا ہے مگر فکری جاہلیت کے اندھیروں میں بھٹک بھی رہا ہے۔کیا یہ ترقی ٔ معکوس نہیں؟
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج علمی اختلاف بھی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کشمکش میں بدل چکا ہے، جہاں دلیل کی جگہ ضداور جستجو کی جگہ انا نے لے لی ہے۔ ایسے ماحول میں حق اگر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ جائے تب بھی اہلِ علم کا ایک طبقہ اسے قبول کرنے کے بجائے اپنی سابقہ آرا کی حفاظت میں اکڑ کر کھڑا رہتا ہے، گویا علم کا مقصد حقیقت کی تلاش نہیں بلکہ اپنی برتری ثابت کرنا ہو۔ اس رویّے نے علمی مجالس کو اخلاقی وقار سے محروم کر دیا ہے اور اختلاف کو اصلاح کے بجائے افتراق کا ذریعہ بنا دیا ہے، حالانکہ علم کی اصل روح تو عاجزی، وسعتِ ظرف اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں پوشیدہ ہے، مگر بدقسمتی سے یہی اوصاف آج سب سے زیادہ نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔
ان سب باتوں سے بھی زیادہ حیران کن اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اگر اتحاد کے نام پر کوئی نشست ہوئی بھی تو نیتوں میں وسعت کے بجائے شرائط کی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں اور ہر جماعت یہ چاہتی ہے کہ اتحاد اسی کے اصولوں، اسی کے دائرے اور اسی کی قیادت کے تحت ہو۔ ایسے میں اتحاد مقصد نہیں رہتا بلکہ ایک نیا میدانِ کشمکش بن جاتا ہے، جہاں قریب آنے کے بجائے فاصلے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرزِ فکر کے ساتھ اتحاد کی ہر کوشش اپنی ناکامی کا اعلان خود ہی کر دیتی ہے، کیونکہ اتحاد وہیں جنم لیتا ہے جہاں لچک ہو، ایثار ہو اور مشترکہ قدروں کو ذاتی ترجیحات پر فوقیت دی جائے؛ مگر جب ہر فریق اپنی لکیر کو حرفِ آخر سمجھنے لگے تو پھر نہ صرف اتحاد ایک خواب بن جاتا ہے بلکہ اختلاف پہلے سے زیادہ گہرا اور نقصان دہ صورت اختیار کر لیتا ہے۔
صلح حدیبیہ سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکھایا تھا کہ اختلاف کے ماحول میں بھی امن کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ پائیدار کامیابی کا دار و مدار اصولی استقامت کے ساتھ عملی لچک پر ہوتا ہے۔ صلح حدیبیہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ جب انسان ضد کے خول سے باہر آ کر مصلحتِ عامہ کو ترجیح دیتا ہے تو اختلاف تصادم کے بجائے مکالمہ بن جاتا ہے، اور یہی مکالمہ بالآخر ایسے نتائج پیدا کرتا ہے جو طاقت کے استعمال اور علمی تفاخر سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتے۔اب اصل سوال کسی اور سے نہیں بلکہ خود ہماری ذات سے ہے کہ ہم اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں یا نفرت اور کشمکش کا میدان؛ کیونکہ دونوں راستوں میں ہمارا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ سلیم ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنی فکری اور عملی قوت کو تصادم کے بجائے تعمیر کے لئے استعمال کریں اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں انسان اپنے اصولوں اور عقیدے پر پوری استقامت کے ساتھ قائم رہے، مگر اس استقامت کے ساتھ احترام، برداشت اور حسنِ سلوک بھی اس کی پہچان ہوں کہ کامیابی انہی اوصاف میں مضمر ہے۔