Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر میں حصہ لینا ایک قومی اور مذہبی فریضہ

Updated: April 17, 2026, 4:47 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

حفاظت کی تدبیر کیا ہوگی؟ اس کی وضاحت نہیں فرمائی گئی۔ قدیم زمانہ میں جنگ وحرب ہی سے اپنا تحفظ کیا جاتا تھا؛ مگر امن کے دورمیں اور خاص کر جمہوری نظام میں حفاظت کے کچھ اور طریقے ہوتے ہیں۔

Those who are out of their homes, if they need to come home to register in the SIR, should do so, and if they are at home but busy, they should prioritize it over other activities. Photo: INN
جو لوگ اپنے گھر سے باہر ہیں، اگر ایس آئی آر میں اندراج کے لئے گھر آنے کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کرنا چاہئے اور اگر گھر ہی پر ہیں مگر مصروف رہتے ہیں تو دوسرے مشاغل پر اسے ترجیح دینی چاہئے۔ تصویر: آئی این این

فلسفہ ٔ  شریعت کے ماہرین نے لکھا ہے کہ احکام شریعت کے بنیادی مقاصد پانچ ہیں، تمام احکام ان ہی کے گرد گردش کرتے ہیں، اور وہ ہیں: دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، عقل کی حفاظت، نسل کی حفاظت اور مال کی حفاظت۔ امام غزالیؒ نے ان مقاصد کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جو باتیں ان پانچ مقاصد کی محافظ ہوں، وہ مصلحت ہیں، اور جو باتیں ان پانچوں مقاصد کو نقصان پہنچاتی ہوں ، وہ مفسدہ ہیں، یعنی وہ فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ہیں:

مخلوق سے شریعت کے مقاصد پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کریں، اپنی جان کی حفاظت کریں، اپنی عقل و نسل کی حفاظت کا سروسامان کریں اور اپنے مال وجائیداد کا تحفظ کریں۔ جو عمل ان پانچوں باتوں کی حفاظت میں مؤثر ہوں  وہ مصلحت ہے، اور جن باتوں سے ان مقاصد کو نقصان پہنچے، وہ فساد اور بگاڑ ہے اور فساد کو دور کرنا ہی مصلحت ہے ۔(المستصفیٰ من الاصول: ۱؍ ۱۷۴)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار

ان پانچ امور کی حفاظت کس ذریعہ سے ہوگی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے متعین نہیں فرمایا؛ البتہ آپؐ نے یہ ضرور ارشاد فرمایا کہ جان ومال کی حفاظت اتنا اہم عمل ہے کہ جیسے دین کی حفاظت کے لئے جان دینے والا شہید ہے، اور جیسے کوئی شخص اپنی جان بچانے میں مارا جائے تو وہ بھی شہید ہے، اسی طرح کوئی شخص اپنے مال کی حفاظت میں جان دے دے تو اس کے لئے بھی شہادت کا اجر ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۴۸۰)

حفاظت کی تدبیر کیا ہوگی؟ اس کی وضاحت نہیں فرمائی گئی۔ قدیم زمانہ میں جنگ وحرب ہی سے اپنا تحفظ کیا جاتا تھا؛ مگر امن کے دورمیں اور خاص کر جمہوری نظام میں حفاظت کے کچھ اور طریقے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے طریقوں کا استعمال فرمایا ہے جیسے :زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ پناہ حاصل کرنے کا تھا؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکی زندگی میں بنو ہاشم کی پناہ میں تھے، جب حضرت ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اسلام کا بدترین دشمن ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بنا، تب آپؐ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن دَغِینہ کی پناہ حاصل کی، مکی زندگی میں زیادہ تر مظالم غلاموں پر اور اُن لوگوں پر ہوئے جن کا خاندان مکہ میں نہیں تھا، یا اُن کو کسی کی پناہ حاصل نہیں تھی، طائف بھی آپؐ اسی لئے تشریف لے گئے تھے کہ وہاں کے سرداروں کو خصوصی وجاہت اور اہمیت حاصل تھی؛ لیکن وہاں کے لوگوں کیلئے یہ سعادت مقدر نہیں تھی کہ وہ میزبان ِرسولؐ بن جائیں، مدینہ منورہ ہجرت فرمانے سے پہلے اوس وخزرج کے نمائندوں نے آپؐ سے ملاقات کی، ان سے عہد لیا گیا کہ وہ ہجرت کرنے والوں کو پناہ دیں گے، یہاں تک کہ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم اپنے بال بچوں سے بڑھ کر آپؐ کی حفاظت کرینگے، تب آپؐ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت ایک اہم دینی فریضہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے؛  اس لئے ہر دور میں اس کی حفاظت اور اس کا اہتمام ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دل کو ذکر و فکر سے آباد رکھئے، زندگی پُرسکون اور بابرکت رہے گی

موجودہ دور میں اپنے حقوق کی حفاظت کا ایک طریقہ ووٹ ہے، ووٹ کے ذریعہ حکومتیں بنائی جاتی ہیں، حکومتیں گرائی جاتی ہیں، ظالم حکمرانوں کو تخت سے اتارا جاتا ہے، سماج کے مظلوم، غریب اور ستائے ہوئے لوگوں کو اقتدار کی منزل تک پہنچایا جاتا ہے ۔ یہ ظالم سے ظلم کا بدلہ لینے کا ذریعہ ہے، جن لوگوں کی طبیعت میں جور و جفا ہے اگر وہ اقتدار میں آئیں تو عوام کیلئے مصیبت کا سامان بن جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے ظلم سے عوام کو بچانا بھی ووٹ ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارا ملک جمہوری نظام پر قائم ہے، ملک کے دستور میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب ومسلک میں آزادی رہے گی، سبھی کو مساوی حقوق ملیں گے، تعلیم اور ملازمت میں برابر کا حق رہے گا۔ اسی اصول پر ملک کی تشکیل عمل میں آئی اورمسلمانوں نے اپنے انتخاب سے مادر وطن کو اپنا مسکن بنایا، پھر ان لوگوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں ملک کی بیش بہا خدمات انجام دیں، ملک کے دفاع اور تحفظ میں ان کا بڑا حصہ ہے؛ لیکن افسوس کہ آزادی کے پہلے ہی اس ملک میں نفرت کے سوداگر پیدا ہوگئے اور انہوں نے فرقہ وارانہ بیج بونے شروع کر دیئے۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوؤں کے علاوہ ملک میں بسنے والے دوسرے لوگوں کو دوسرے درجہ کی شہریت حاصل ہونی چاہئے، ان کے اختیارات کم ہوں، اور وہ دوسرے درجہ کے شہری کہلائیں ، پھر ان حضرات کے نزدیک ہندوؤں سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کو اونچی ذات کا ہندو تصور کیا جاتا ہے۔ جو نیچی ذات کے لوگ ہیں: خاص کر شودر، ان کا شمار ہندو قوم میں نہیں کیا جاتا؛ اس لئے کہا گیا کہ ان کو بھی دوسرے درجہ ہی کا شہری ہونا چاہئے، دوسرے درجہ کا شہری یعنی  ان کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہ ہو اور انہیں حکومت کے اعلیٰ عہدے نہ دئیے جائیں۔

آزادی کے وقت ایسے قائدین موجود تھے، جنہوں نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے قربانیاں دی تھیں اور اپنے لہو کے نذرانے پیش کئے تھے؛ اس لئے اس وقت تو ایسے مفسد لوگوں کے رویے پر روک لگانے میں تھوڑی بہت کامیابی حاصل ہوئی لیکن آہستہ آہستہ یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ پرست تنظیموں نے اپنی نفرت انگیز فکر کا خوب پرچار کیا، بچوں، نوجوانوں، عورتوں، تاجروں، سرکاری ملازموں اور سرکاری افسروں میں اس سوچ کی نشرو اشاعت کے لئے الگ الگ تنظیمیں بنائیں اور پوری قوت سے اس زہر کو پھیلایا؛ لیکن جولوگ سیکولرازم کا نعرہ لگا رہے تھے اور اپنے آپ کو سیکولر کردار کا حامل کہتے تھے، ان کا حال یہ ہے کہ صرف اُس وقت اپنے راحت کدوں سے باہر آتے ہیں جب الیکشن کا زمانہ ہوتا ہے اور عوام کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نفرت انگیز فرقہ واریت کو قوت حاصل ہوتی گئی اور سیکولر عناصر کمزور سے کمزور تر ہوتے گئے، یہاں تک کہ اب تو ملک کے دستور اور اس کے قومی ترانہ کو بھی بدلنے کی بات ہو رہی ہے!

یہ بھی پڑھئے: انسانی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی ہے

اس وقت بڑے پیمانے پر کوشش ہو رہی ہے کہ اگر  اقلیتوں کے ووٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا تو اس کو بے اثر کر دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت این آر سی کا شوشہ چھوڑا گیا تھا؛ لیکن چوں کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت ہوئی؛ اس لئے حکومت نے بظاہر اس سے اپنا قدم پیچھے ہٹا لیا؛ مگر اس کیلئے بالواسطہ دوسرے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ایس آئی آر ہے، جس کو یوں تو انتخابی فہرستوں کی صحت ٹھیک کرنا بتایا جارہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد بالواسطہ بی جے پی مخالف ووٹوں خاص کر مسلمانوں کے ووٹوں کو زیادہ سے زیادہ حذف کر دینا ہے۔ 

اکثریتی طبقہ کے لئے تو حکومت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا ایک امتیازی قانون بنا دیا ہے، جو ایک طرح کی استثنائی صورت ہے کہ اگر کوئی ہندو اپنی شہریت ثابت نہ کرسکے تب بھی حکومت اس کو شہریت دے سکتی ہے؛ لیکن مسلمان ایسی صورت میں شہریت سے محروم کر دیئے جائیں گے۔ آج کل ان کے لئے ایک قبیح نام’’ گُھس پیٹھیا ‘‘ استعمال کیا جا رہا ہے، جو خود نہایت توہین آمیز تعبیر ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ایس آئی آر میں حصہ لینا ووٹ کی حفاظت کرنا ہے۔ نہ صرف ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا قومی فریضہ ہے؛ بلکہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے  مذہبی فریضہ بھی ہے؛ کیونکہ یہ ہماری جان ومال کے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے اور جان ومال کا تحفظ ایک مسلمان کا شرعی فریضہ ہے، اسی سے اس ملک میں اپنے دینی تشخص کی حفاظت بھی متعلق ہے جس سے غفلت نہیں برتی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھئے: حرمین شریفین سیلفی پوائنٹس نہیں

اگر مسلمانوں نے بے توجہی سے کام لیا تو اس کی پہلی زد مسلم پرسنل لاء پر پڑے گی، اور خطرہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کر دیا جائے؛ اس لئے ہمیں پوری سنجیدگی سے اس پر توجہ دینی چاہئے۔ جو لوگ اپنے گھر سے باہر ہیں، اگر ایس آئی آر میں اندراج کے لئے گھر آنے کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کرنا چاہئے اور اگر گھر ہی پر ہیں مگر مصروف رہتے ہیں تو دوسرے مشاغل پر اسے ترجیح دینی چاہئے۔ یہ تو فرد کی ذمہ داری ہوئی۔  ہمارے اداروں، تنظیموں اور ماہرین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی بھر پور مدد کریں، اس میں ان شاء اللہ ظالم کو ظلم سے روکنے، مظلوم کی مدد کرنے اور بے سہارا لوگوں کے کام آنے کا ثواب ملے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK