جدید ٹیکنالوجی کے اس دور نے جہاں انسانی فطرت سے بہت سی چیزیں دُور کردی ہیں، وہیں مسلم معاشرے میں رمضان کا حُسن اور قدس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ ذیل میں اس بات کا جائزہ لینے کوشش کی گئی ہے کہ رمضان المبارک میں کس طرح جدید ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بچایا جائے تاکہ ماہِ مقدس کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے خیروبرکت کا ذریعہ بن جائے
احادیث مبارکہ میں افطار کے وقت کو خاص اہمیت دی گئی ہے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اس قیمتی وقت کو بھی سیلفی وغیرہ میں ضائع کردیتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ مہینہ عبادت، تزکیۂ نفس اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی برسات ہوتی ہے ، جس کے اَبر ِ باراں سے ہر نفس اپنے اپنے ظرف کے مطابق اللہ کی رحمتیں سمیٹتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور نے جہاں انسانی فطرت سے بہت سی چیزیں دُور کردی ہیں، وہیں مسلم معاشرے میں رمضان کا حُسن اور تقدس بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ گو کہ جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بُری چیز نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال اس کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ جس طرح اسلامی مقاصد، قواعد و ضوابط اور حدود و قیود سے بہرہ مند ہوئے بغیر آج ہم جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہیں ، اس طرح یہ رمضان المبارک کی روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر اس کا درست استعمال اسلامی مقاصد، نیت، قواعد و ضوابط اور حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے تو یہ عبادت، علم اور اصلاحِ نفس کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا
ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لینے کوشش کریں گے کہ رمضان المبارک میں کس طرح جدید ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بچا سکتے ہیں، اور کس طرح اس سے مستفید ہوتے ہوئے اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ بناسکتے ہیں؟
وقت کا ضیاع
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کی طلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ سے شروع فرمادیتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد رمضان کی آمد سے تقریباً چھ ماہ پیشتر اس کی آمد کا انتظار کیا کرتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جانے اَنجانے میں کی گئی غیرضروری اسکرولنگ ایک مسلمان کو تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اللہ کی یاد سے دُور رکھتی ہے۔ نمازوں کو ان کے اوقات میں اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادائیگی میں مانع ہوتی ہے، جہاں سوچوں کے دھارے یکسوئی کے ساتھ اللہ ربّ العزت کا قرب اور تقویٰ حاصل کرنے میں موڑے جانے چاہئیں وہا ں ذہن میں طرح طرح کی لایعنی سوچیں اپنا مسکن بنالیتی ہیں۔ یاد رہنا چاہئے کہ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، ایک صحت اور دوسری فارغ وقت۔ ‘‘ (بخاری)
لہٰذا، بہتر ہوگا کہ رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کو قیمتی بنانے کےلئے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب برتیں ، اس کے استعمال کے اوقات مقرر کریں۔ بہتر ہوگا کہ سحر و افطار کے اوقات میں اپنے موبائلز کو قطعی طور پر بند رکھیں۔ نماز کے اوقات میں، تلاوتِ قرآن کے وقت اور ذکر و اذکار کرتے وقت موبائل کو خود سے دُور رکھیں۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کردیں اور اپنی سوچ اور فکر کو قربِ الٰہی کے حصول کے لئے قرآن کریم کی آیات اور ذکر و اذکار میں غوروتدبر میں لگاتے ہوئے زبان کا ہم رکاب بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: اصل نور وہ ہے جو دل کو رَب سے جوڑ دے اور زندگی کو بامقصد بنا دے
تعلق باللہ کے حصول میں یکسوئی کی کمی
موبائل نوٹیفیکیشنز بظاہر ایک موبائل صارف کےلئے معمولی چیز ہیں، لیکن حقیقت میں یہ روحانی، ذہنی اور عملی طور پر کئی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ان پر مکمل ضبط (control) نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کی ایک ایک گھڑی بہت زیادہ قیمتی اور بابرکت ہوتی ہے، ایسے میں موبائل نوٹیفیکیشنز تعلق باللہ کے لئے کئے جانے والے اعمالِ صالحہ مثلاً تعلیم و تعلّم، نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر و فکر اور تزکیۂ نفس کے ضروری غوروخوض اور انابت الی اللہ میں خشوع و خضوع برقرار نہیں رہنے دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ادا کئے گئے ایک فرض کا اجر ۷۰؍ فرائض کے برابر ،جب کہ ایک نفل کا اجر ایک فرض کے برابر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا فرض نمازوں، نمازِ تراویح اور تلاوتِ قرآن کے وقت ہی نہیں بلکہ پورے رمضان المبارک میں نہایت ضروری کاروباری یا دفتری معاملات سے متعلقہ اوقات کے علاوہ اس کی نوٹیفیکیشن ٹونز کو خاموش (silent) رکھا جائے اور اس کے ارتعاش (vibration) کو بھی ساکت کردیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت حصولِ تقویٰ کے مذکورہ اعمال میں خشوع و خضوع کے ساتھ لگ سکے اور دھیان اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے پائے۔
یہ بھی پڑھئے: پانی نعمت ِ عام ہے لیکن اس کا بھی حساب ہوگا
گناہوں تک آسان رسائی
سوشل میڈیا بظاہر فائدہ مند اور باہمی رابطے کا ذریعہ ہے لیکن اس میں گناہوں تک رسائی کے دروازے خطرناک حد تک کھلے ہوئے ہیں۔ اس پر ایک کلک سے ناپسندیدہ ویڈیوز، تصاویر اور ریل نمودار ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی نوعیت کی ویڈیو یا تصویر پر ارادتاً یا بلاارادہ انگلی مَس ہوجائے تو پھر اس کے بعد ان ناپسندیدہ ویڈیوز اور تصاویر کا نہ رکنے والا ایک تانتا سا بندھ جاتا ہے، یعنی الگورتھم (Algorithm) خود بخود مزید کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنی تعلیم کو یاد رکھنا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں۔‘‘ (النور:۳۰)
سوشل میڈیا پر نظر کی حفاظت ایک ناممکن سا عمل ہے، کیونکہ اس پر بے پردہ عورتیں، نامناسب مناظر بار بار سامنے آتے رہتے ہیں جس سے نفس کی کمزوری مضبوط بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ گناہ ، گناہ نہیں لگتا۔ اسی طرح کسی نہ کسی ویڈیو اور آڈیو میں میوزک بے اختیار آجاتا ہے اور انسانی ذہن اس کے سحر میں گرفتار ہوکر اسے سننے لگتا ہے۔ مختلف وی لاگرز کے غیر تحقیق شدہ تبصروں کی ویڈیوز اور آڈیوز عام ہیں جن میں سے ہر کوئی اپنی اپنی پسند کی شخصیات اور سیاسی و دینی جماعتوں کی شان میں قصیدے پڑھتا اور مخالفین پر کیچڑ اُچھالتا نظر آتا ہے۔ اس طرح ارادتاً بھی اور غیر ارادتاً بھی آپ غیبت، تہمت، جھوٹ وغیرہ سننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گویا کہ سماعتوں کی حفاظت بھی ناممکن ہوجاتی ہے۔ اس طرح مسلسل لغویات کے شکنجے میں جکڑے رہنے سے گناہ معمول بن جاتے ہیں اور ندامت و شرمندگی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی توبہ کی بھی ضرورت نہیں محسوس کرتا۔ گناہوں تک آسان رسائی سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم عملی، قابلِ عمل اور عام فہم تدابیر کو اختیار کریں۔ ان میں سب سے پہلے ہمیں گناہوں سے بچنے کا ارادہ کرنا ہوگا اور صدقِ دل سے نیت کرنا ہوگا کہ میں سوشل میڈیا کو رمضان کی عبادت میں رکاوٹ نہیں بننے دوں گا۔ اس کےلئے عملی طور پر کرنے کا کام یہ ہے کہ موبائل ہاتھ میں اُٹھاتے وقت خود سے سوال کریں کہ یہ موبائل اللہ کو راضی کرے گا یا ناراض؟ اگر جواب دوسرا ہو تو اس کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں۔ دوسرا کام یہ کریں کہ اس کے نوٹیفیکیشن کو ضروری کاروباری یا دفتری معاملات کے لئے دفتری اور کاروباری اوقات کے علاوہ بند رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے
قیام لیل ، سحری و فجر کا متاثر ہونا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ (بخاری) تاہم سحری جب ہی کھائی جاسکتی ہے جب وقت پر اُٹھا جائے، جب کہ موبائل اور سوشل میڈیا ایک نشے کی مانند ہے جو شخص اسے ایک بار کھول لے یہ نشے کی طرح چمٹ جاتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اکثر لوگ رات سوتے سوتے بھی اس سے تعلق ختم نہیں کرپاتے اور اس طرح رات تاخیر سے سوتے ہیں اور قیام اللیل کےلئے یا سحری میں اُٹھنا تو کجا فجر بھی قضا کر بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا سحری کی برکتیں سمیٹنے کے لئے پہلا کام تو بستر پر لیٹ کر یہ کریں کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ وقت پر آپ کو جگا دے۔ سوشل میڈیا کو اپنے سونے کے اوقات سے کم از کم ایک یا پھر آدھا گھنٹہ پہلے تو لازماً وائی فائی اور ڈیٹا بند کردیں۔ موبائل میں دو سے تین الارم لگائیں اور سونے کی جگہ سے کچھ فاصلہ پر رکھیں تاکہ شدید نیند کی حالت میں آپ کا ہاتھ موبائل تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح آپ نیند سے بیدار بھی ہوسکیں گے اور وقت پر بیدار ہو کر سحری کی برکتیں بھی سمیٹ سکیں گے نیز فجر کی نماز بھی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل دُنیا : لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!
غیبت اور لاحاصل بحث
ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ اور اللہ کی نافرمانی سے بچو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ (الحجرات: ۱۲) دوسری طرف دیکھیں تو سوشل میڈیا پر جھوٹ، بہتان، طنز، لعن طعن، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنا چاہے انفرادی سطح پر ہو یا گروپ کی سطح پر، عام ہے۔ اس قسم کی کیفیت سے بچنے کےلئے لایعنی گروپس سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور ایسا نہیں کرسکتے تو رمضان المبارک میں انھیں Mute ضرور کردیں۔ اس طرح پیغامات کم ہوں گے تو ردِّ عمل بھی کم ہوگا اور غیبت و بہتان تراشی سے چھٹکارا بھی حاصل کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے
دوسری چیز Screen time/Digital Wellbeing آن کرلیں اور سوشل میڈیا کےلئے روزانہ کی بنیاد پر حد مقرر کرلیں۔ اس طرح کم وقت کے استعمال میں لغزشیں ہونے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔ تیسرا کام یہ کریں کہ رمضان المبارک کے آنے سے قبل ہی غیر ضروری پیجز، چینلزکو Unfollow کردیں، جن سائٹس سے افواہی اور فتنہ انگیز مواد زیادہ آتا ہو انہیں بلاک کریں۔ اس طرح جو نظر نہیں آئے گا وہ آپ کی زبان پر بھی نہیں ہوگا اور یوں غیبت اور لغویات سے پرہیز با آسانی کیا جاسکے گا۔