نوجوانو! ہمارے دین نے تزکیۂ نفس کیلئے نماز کے بعد دوسرا سب سے مؤثر نظام اِنسانوں کو جو نوازا ہے وہ سال میںایک پورے ماہ کے روزے کا نظام ہے۔اس کائنات میں سارا معاملہ حق و باطل میں امتیاز کرنا ہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 10:46 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
نوجوانو! ہمارے دین نے تزکیۂ نفس کیلئے نماز کے بعد دوسرا سب سے مؤثر نظام اِنسانوں کو جو نوازا ہے وہ سال میںایک پورے ماہ کے روزے کا نظام ہے۔اس کائنات میں سارا معاملہ حق و باطل میں امتیاز کرنا ہی ہے۔
’’موبائیل پر یہ ریٖل، یہ ویڈیو سب بند ‘‘
’’امّی ٹی وی کے سارے سیریئل بھی بند ؟ ‘‘
’’ہاں ہاں۔ رمضان شروع چکا ہے نا بیٹا ‘‘
’’ہم تو ۵۔۵؍گھنٹے ہر روز سوشل میڈیا پر رہنے کے عادی ہیں‘‘
’’امّی افطاری کے بعد تو دیکھ سکتے ہیں نا ؟‘‘
’’اچھائی....نیکی.....آنکھوںکی حُرمت.... روزے میں تو خیال رکھنا ہے نا اس کا؟‘‘
’’ایک دو گھنٹے تو دیکھ سکتے ہیں ویڈیو..... ؟‘‘
’’تھوڑا تو صبر کرو..... ایک مہینے کی تو بات ہے‘‘
.........
’’ایسا غصّہ آرہا تھا، سوچا اُس کو سبق سکھاؤں‘‘
’’پھر؟.....؟‘‘
’’میرا روزہ تھانا ؟ ‘‘
’’اچھا!‘‘
’’ایک سے ایک گالی تو ہم کو بھی دینے آتی ہے‘‘
’’گالی؟‘‘
’’ہاں مگر میں صرف اسلئے خاموش تھا کہ میرا روزہ تھا ‘‘
’’ٹھیک ہے ‘‘
’’اُس کو میں نے بخشا نہیں ہے.... بس ایک مہینے کی تو بات ہے ‘‘
یہ بھی پڑھئے: دولت، شہرت، ثروت، شجاعت اورذہانت.....سب سے اہم ہے : ہدایت
.........
’’کالج کے بعد اب کون سا بزنس کر رہے ہو ؟‘‘
’’وہی ون ٹو کا فور....‘‘
’’یعنی؟‘‘
’’سمجھ جاؤ یار۔ نقلی چیزیں ...... فارین کے لیبل کے ساتھ ‘‘
’’باپ رے‘‘
’’نہیں۔ ابھی نہیں۔ رمضان میں سب بند‘‘
’’ابھی کچھ نہیں کر رہے۔ ایک مہینے کی تو بات ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟
.........
’’تھک گیا بھئی ‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
’’ڈِگری پوری نہیں کی۔اس کی وجہ سے مارکیٹنگ کا جاب اپنا ناپڑا‘‘
’’پھر کیا ہوا ؟‘‘
’’بڑھا چڑھا کر، بلکہ مسلسل صرف جھوٹ بولنا پڑتا ہے اس پیشے میں‘‘
’’اوہ‘‘
’’اس لئے رمضان میں کاروبار بند ‘‘
’’اوہ۔۔۔ پھر؟‘‘
’’خیر ایک مہینے کی تو بات ہے ؟‘‘
.........
’’ارے بہن سُنتی ہو، کیا کیا چل رہا ہے بلڈ نگ میں ؟‘‘
’’نہیں کیا ہوا ؟ ‘‘
’’ارے کیا بتائوں، بتا نہیں سکتی.... سب باتوں پر نظر رہتی ہے ‘‘
’’کیا ہو رہا ہے، یہ تو بتاؤ ‘‘
’’ارے ابھی کچھ بولوں گی تو لوگ کہیں گے کہ روزے میں غیبت کر رہی ہے‘‘
’’تو پھر..... ؟
’’سب کی خبریں پوری پوری سناؤں گی، رمضان کے بعد..... ایک مہینے کی تو بات ہے‘‘
یہ بھی پڑھئے: چند چراغِ رہ گزر نوجوانوں کیلئے!
.........
’’جان حلق میں آجاتی ہے اِن دِنوں....‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’سگریٹ جو پینے نہیں ملتی ‘‘
’’پھر..... اب ‘‘
’’میرے غیر مسلم دوست تو حقّہ پارلر بھی جاتے ہیں‘‘
’’اوہ.....‘‘
’’اُنھیں کیا؟ ہمارا تو رمضان چل رہا ہے۔ رمضان کا احترام تو کرنا پڑتا ہے‘‘
’’ہاں ‘‘
’’صبر کرتے ہیں.....رمضان کے بعد خوب پئیں گے..... ایک مہینے کی تو بات ہے ؟‘‘
.........
’’بیٹا تراویح سے پہلے یہ کھانے کا ڈبہ جمن چاچا کے یہاں دیتے جانا‘‘
’’دو دن سے میں ہی جا رہا ہوں....‘‘
’’ہاں بیٹا، ہمارے پڑوسی ہیں نا وہ.... اور اگر ہمارا کوئی پڑوسی بھوکا سوئے تو ہماری عبادتیں نا مقبول ہیں....‘‘
’’اچھا...‘‘
’’اور ہم رمضان میں اتنی عبادتیں کر رہے ہیں، وہ قبول تو ہونی چاہئے نا‘‘
’’جی‘‘
’’اسلئے کھانے کا ڈبہ روز دیتے جانا.... پورا رمضان... بس ایک مہینے کی تو بات ہے‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوجوانو! ہمیں ہر کریئر اور ہر پیشے میں حلال و حرام کی تمیز کرنی چاہئے
.........
نوجوانو! یہ ایک مہینے کی بات نہیں ہے۔
نوجوانو! ہمارے دین نے تزکیۂ نفس کیلئے نماز کے بعد دوسرا سب سے مؤثر نظام اِنسانوں کو جو نوازا ہے وہ سال میںایک پورے ماہ کے روزے کا نظام ہے۔اس کائنات میں سارا معاملہ حق و باطل میں امتیاز کرنا ہی ہے۔ اس لئے حق کے ساتھ زندگی جینا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے لہٰذا سخت مشقّت کے ساتھ، بھوک و پیاس نیز اپنے نفس پر مکمل قابو پانے کیلئے جو روزے کی شکل میں تحفہ ربِّ کائنات نے ہمیں نوازا ہے، وہ ہر گزہرگز صرف رمضان کے ایک مہینے تک کیلئے محدود نہیں ہے۔ رمضان کا مہینہ تو ٹریننگ کا مہینہ ہے اور اِس تربیت سے کم از کم سال کے بقیہ گیارہ مہینے اِس پر عمل کرنا ہے۔ پھر جب بھی انسان کمزور پڑجاتا ہے تو قدرت کا نظام ایسا ہے کہ ۱۱؍ مہینے بعد ایک بار پھر رمضان آجاتا ہے، آپ کو آپ کے روحانی رِچارج کیلئے!
دوستو !اِسی لئے رمضان کے تعلق سے یہ کہنا کہ ’’صرف ایک مہینے کی تو بات ہے ؟‘‘ یہ ہماری اپنے ساتھ زیادتی ہے اوررمضان کی فضیلتوں کے ضمن میں ہماری نا سمجھی اور نادانی بھی۔