• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے بیشتر اخبارات نے منی پور کے حادثے، اور اترا کھنڈ کے واقعے کو موضوع بنایا

Updated: January 25, 2026, 11:28 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

اس ہفتے بیشتر غیر اردو اخبارات نے اتراکھنڈ کا دلدوز واقعہ اور منی پور میں ہوس اور وحشت کا شکار ہونے والی لڑکی کے انصاف کے بغیر دم توڑ دینے پر قومی اخبارات نے حکومت کی خاموشی کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

The defeat of Uddhav Thackeray-led Shiv Sena and Raj Thackeray`s MNS is actually a dignified retreat. Photo: INN
ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اور راج ٹھاکرے کی ایم این ایس کو ملنے والی شکست دراصل ایک باوقار پسپائی ہے۔ تصویر: آئی این این

اس ہفتے بیشتر غیر اردو اخبارات نے اتراکھنڈ کا دلدوز واقعہ اور منی پور میں ہوس اور وحشت کا شکار ہونے والی لڑکی کے  انصاف کے بغیر دم توڑ دینے پر قومی اخبارات نے حکومت کی خاموشی کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے پس منظر میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے متعدد اخبارات نے اسے لاکھوں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے دوسری جانب ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج پر تبصروں نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ سیاسی اتھل پتھل کے باوجود ٹھاکرے برادران کا اثر و رسوخ ممبئی میں اب بھی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کئی اخبارات نے ایران کی صورتحال، خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ کو موضوع بنایا

اتراکھنڈ: ترقی کے دعوؤں کی ہوا نکل گئی ہے

سامنا(مراٹھی،۲۲؍جنوری)

’’معیشت کی تیز رفتاری جاپان کو پیچھے چھوڑنے کے دعوے اور دنیا کی چوتھی بڑی اقتصادی قوت بننے کا غلغلہ، یہ وہ خوشنما لوریاں ہیں جو ہمارے حکمراں شب و روز قوم کو سناتے نہیں تھکتے،لیکن ریاست اتراکھنڈ سے آنے والی ایک دلدوز خبر نے ’ترقی‘ کے ان تمام سرکاری غباروں سے ہوا نکال دی ہے۔ یہ خبر محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ان جھوٹے دعووں کا نوحہ ہے جن کی بنیاد پر ملک میں کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے۔جموں  کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دہشت گردوں کے خلاف لوہا لیتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے جانباز کمانڈو گجیندر سنگھ گڑھیا کا واقعہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ مادرِ وطن کیلئے اپنی جان قربان کرنے والے اس سپوت کا جسد خاکی جب آبائی گاؤں روانہ کیا گیا تو نظام کی بے حسی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی۔ سڑک نہ ہونے کے باعث اس شہید کا تابوت اس کے گھر کی چوکھٹ تک نہ پہنچ سکا۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جس ملک کی معیشت کے عالمی چرچے ہوں وہاں ایک قومی ہیرو کی آخری رسومات اس کے گھر سے ۱۷؍ کلومیٹر دور محض اسلئے  ادا کرنی پڑیں کیونکہ وہاں تک پہنچنے کیلئے ایک ہموار راستہ تک میسر نہ تھا۔ظلم کی انتہا یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اپنے شہید لخت جگر کا آخری دیدار کرنے کیلئے ۸۰؍ سالہ ضعیف والدین کو دشوار گزار پہاڑی راستوں پر ۴؍کلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔ یہ تصویر اس’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور’وشو گرو‘بننےوالے ملک کے منہ پر طمانچہ ہے جہاں چوبیس گھنٹے ترقی کی تسبیح تو پڑھی جاتی ہے لیکن دور افتادہ دیہاتوں میں آج بھی بجلی، پانی، سڑک جیسی بنیادی سہولیات ایک خواب ہیں۔ یہ صورتحال صرف پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ جدید شہروں کا حال بھی مختلف نہیں۔ نوئیڈا میں ایک نوجوان سافٹ ویئر انجینئرکی موت صرف اسلئے  ہوئی کہ سڑک پر موجود ایک گہرا گڑھاحکام کی نظروں سے اوجھل رہا۔ ڈوبتے بیٹے کا اپنے باپ کو کیا گیا آخری فون کہ’پاپا مجھے بچا لیجئے‘اس پورے بوسیدہ نظام کا استغاثہ ہے۔یہ  واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہماری ترقی کی بنیادیں کتنی کھوکھلی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نےعمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت اور گرمیت کی پرول کو موضوع بنایا

منی پور میں امن کا سورج کب طلوع ہوگا؟

دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۲۰؍ جنوری)

’’تاریخ کے اوراق جب بھی منی پور کے موجودہ حالات کا نوحہ لکھیں گے تو اس میں ایک ایسی مظلوم بیٹی کا ذکر جلی حروف میں ہوگا جس کے قاتل صرف وہ درندے نہیں تھے جنہوں نے اس کی عصمت دری کی بلکہ وہ نظام بھی تھا جس نے اسے انصاف کی دہلیز پر دم توڑنے دیا سسکنے کیلئے چھوڑ دیا۔ ۲۰۲۳ء کے نسلی فسادات کے دوران ہوس اور وحشت کا نشانہ بننے والی ۱۸؍ سالہ دوشیزہ کا انتقال محض ایک موت نہیں بلکہ ملک کے جمہوری دعوؤں کا جنازہ ہے۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ جب ریاست جانبدار ہو جائے اورانصاف مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ جائے تو بستیاں مقتل گاہیں بن جایا کرتی ہیں۔یہ امر نہایت شرمناک ہے کہ ۳۰؍ ماہ تک وہ لڑکی اپنے زخم خوردہ وجود کے ساتھ انصاف کیلئے ہر در پر دستک دیتی رہی مگر امپھال کی انتظامیہ سے لے کر نئی دہلی کے ایوانوں تک ہر جگہ سے اسے صرف خاموشی اور بے حسی ملی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ڈھائی سال تک ایک بھی درندے کا گرفتار نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مجرموں کو قانون کا خوف نہیں بلکہ طاقتور پشت پناہی حاصل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے ذریعہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوششیں اپنی جگہ مگر سچ تو یہ ہے کہ منی پور کی آگ میں خواتین کے وجود کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ مخالف کمیونٹی کی انا اور غیرت کو پامال کیا جا سکے۔ یاد رکھیے جب تک پولیس اور ریاستی ادارے اپنے دامن سے نسلی عصبیت کا داغ دھو کر غیر جانبدار نہیں ہوں گے منی پور میں امن کا سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بعض اخبارات نے ماب لنچنگ مقدمات، کسی نے اراولی کان کنی کو موضوع بنایا

’ٹھاکرے برانڈ‘ اپنی معنویت کھو چکاہے؟

لوک مت( مراٹھی، ۱۹؍ جنوری)

’’ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حالیہ انتخابی نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کی فتح اور دوسری جانب مراٹھی تشخص کے نام پر یکجا ہونے والے ٹھاکرے برادران کی پسپائی کو بعض حلقے ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ محض ایک انتخابی نتیجے کی بنیاد پر کسی سیاسی وراثت کے خاتمے کا اعلان کر دینا عجلت پسندی کے سوا کچھ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان نتائج نے ممبئی کی سیاسی بساط پر ایک ایسی نئی اور فیصلہ کن جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا ایک طبقہ یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ ’ٹھاکرے برانڈ‘ اپنی معنویت کھو چکاہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اور راج ٹھاکرے کی ایم این ایس کو ملنے والی شکست دراصل ایک باوقار پسپائی ہے۔ نامساعد حالات، پارٹی کی تقسیم، انتخابی نشان کی چھینا جھپٹ اور وسائل کی شدید قلت کے باوجود ان دونوں پارٹیوں نے ممبئی کے مراٹھی اکثریتی علاقوں مثلاً دادر، ورلی اور لال باغ میں جس طرح اپنی موجودگی درج کرائی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ’ٹھاکرے‘ نام کا سحر اب بھی برقرار ہے۔ ووٹروں نے شاید انہیں اقتدار کی کرسی تک نہ پہنچایا ہو لیکن انہیں مراٹھی عوام کے حقوق کیلئے لڑنے کی اخلاقی اور سیاسی قوت ضرور عطا کی ہے۔اس پورے منظر نامے میں راج ٹھاکرے کا کردار بھی زیر بحث ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کےدوران بی جے پی اور مودی حکومت کے حوالے سے ان کے بدلتے ہوئے سیاسی موقف نے ووٹروں کو تذبذب میں ڈالا۔ کبھی گجرات ماڈل کی ستائش اور کبھی’لاو رے توویڈیو‘ کے ذریعے کڑی تنقید نے ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ اب جبکہ وہ اور ادھو ٹھاکرے خونی رشتوں اور لسانی بنیادوں پر یکجا ہوئے ہیں تو انہیں عوام کو یہ یقین دلانے میں وقت لگے گا کہ یہ اتحاد محض وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک طویل مدتی سیاسی عزم ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے اڈانی، ایس آئی آر اور ڈاکٹر کی خودکشی کو موضوع بنایا

انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے

نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۲۰؍جنوری)

’’سپریم کورٹ کی جانب سے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے دیا گیا حالیہ فیصلہ نہ صرف جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ناگزیر ہے بلکہ ان لاکھوں شہریوں کیلئے امید کی کرن بھی ہے جن کے حقِ رائے دہی پر ابہام کے بادل منڈلا رہے تھے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ منطقی تضادات کی بنیاد پر جن ایک کروڑ ۲۵؍ لاکھ ووٹروں کے ناموں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے ان کی تفصیلات عام کرنا لازمی ہیں۔ یہ حکم اس بنیادی جمہوری اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی شہری کو تکنیکی بنیادوں پر اس کے سب سے بڑے آئینی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔مغربی بنگال میں اس وقت سیاسی و انتظامی فضا اس وقت مکدر ہوئی جب بڑے پیمانے پر ووٹروں کو منطقی تضادکے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ اگرچہ تکنیکی طور پر اس کا مطلب نام کا اخراج نہیں ہے بلکہ فراہم کردہ معلومات میں کسی قسم کی غیرمطابقت کی نشاندہی ہے تاہم اس عمل نے عوامی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ حکمراں جماعت ٹی ایم سی اور الیکشن کمیشن کے مابین الزامات اور تردید کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشانات ثبت کر دیئے ہیں۔ حزب اختلاف کا یہ خدشہ وزن رکھتا ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو وضاحت کیلئے مناسب وقت اور سہولت فراہم نہ کی گئی تو یہ عمل درحقیقت ووٹروں کی تطہیر کے مترادف ہوگا۔اعداد و شمار کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔دوسرے مرحلے کے دوران ۱۱؍ ریاستوں اور وفاقی علاقوں کی ڈرافٹ لسٹوں سے مجموعی طور پرتقریبا ساڑھے تین کروڑ ناموں  کا اخراج جن میں سے صرف مغربی بنگال میں ۵۸؍لاکھ نام شامل ہیں کسی بڑے انتظامی بحران سے کم نہیں۔ الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں یہ اعتماد بحال کرے کہ اس مشق کا مقصدکسی کی شہریت پر سوال اٹھانا یا نام کاٹنا نہیں بلکہ فہرستوں کو درست کرنا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK