چاند کی مدھم روشنی میں نہایا ہوا وہ لان دونوں بچوں کی ہنسی سے گونج رہا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر ان کی مما بشریٰ، پھولوں کی کیاریوں کے پاس بیٹھی ایک میگزین کے مطالعے میں مشغول تھی۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 11:59 AM IST | Maryam Bint Mujahid Nadwi | Mumbai
چاند کی مدھم روشنی میں نہایا ہوا وہ لان دونوں بچوں کی ہنسی سے گونج رہا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر ان کی مما بشریٰ، پھولوں کی کیاریوں کے پاس بیٹھی ایک میگزین کے مطالعے میں مشغول تھی۔
چاند کی مدھم روشنی میں نہایا ہوا وہ لان دونوں بچوں کی ہنسی سے گونج رہا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر ان کی مما بشریٰ، پھولوں کی کیاریوں کے پاس بیٹھی ایک میگزین کے مطالعے میں مشغول تھی۔ اور اس کا شوہر اشرف، بازو والی کرسی پر بیٹھ کر اپنا آفس کا کام کر رہا تھا۔ ایک مکمل طور پر مڈل کلاس فیملی کی عام شاموں کا سماں تھا۔ بچوں کے چلّانے پر بشریٰ نے میگزین سے سر اُٹھا کر انہیں تنبیہ کی کیونکہ وہ دونوں اب پوری شد و مد سے لڑنے لگ گئے تھے۔ بشریٰ نے بادل نا نخواستہ اُٹھ کر دونوں کو ایک تھپڑ کھینچ مارا، ’’تم دونوں کو کتنی دیر سے بول رہی ہوں کہ آرام سے کھیلو، یہ کیا ہر دو منٹ بعد لڑنے بیٹھ جاتے ہو۔‘‘
اپنی میگزین کے ایک بہت ہی سنسنی خیز کہانی کا موڑ چھوڑ کر اسے ان دونوں کے لئے اٹھنا پڑا تھا۔ دونوں کو لگایا ایک اور تھپڑ اس کا خمیازہ تھا۔ اشرف کے لئے یہ معمول کی بات تھی، سو وہ بنا مداخلت کئے اپنے کام میں منہمک رہا۔
یہ بھی پڑھئے: کہانی: انسانیت اور ہمدردی
’’اریب، تمہیں سمجھا کر تو میں تھک گئی ہوں کہ امان تمہارا چھوٹا بھائی ہے، اپنے کھلونے تمہیں اس کے ساتھ شیئر کرنے چاہئیں۔ اور وہ کہہ رہا ہے کہ اسے بوتل کا ڈھکن کھول دو، کیا اتنی سی مدد نہیں کرسکتے اس کی۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی....‘‘ بشریٰ نے اریب کا کان پکڑ کر اسے ڈانٹا، اور اب اس کا غصہ اچانک امان پر منتقل ہوگیا، ’’امان کو سب کچھ بس ابھی اسی وقت چاہئے، بھائی کو ایسے مارتے ہیں؟ اس سے درخواست کرتے، مجھے آکر کہتے، اسے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
اور پھر ہمیشہ کی طرح اس لڑائی کا اختتام بشریٰ کی اس نصیحت، ’’مل کر رہا کرو دونوں.... تم دو ہی تو بھائی ہو۔ اب دونوں بھی اپنی چیزیں ایک دوسرے سے شیئر کریں گے، اوکے؟‘‘ اور بچوں کو ’سوری‘ کہنے سے ہوا تھا، کیونکہ بشریٰ ہمیشہ پہلے تو بچوں کو خوب پیٹ دیا کرتی مگر آخر میں ان سے سوری کرکے ہی سوتی تھی۔ اشرف یہ سب دیکھ کر مسکرا کر رہ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: پھپھو کا بیٹا
***
’’تسنیم کی کال آئی تھی۔‘‘ اگلے دن شام میں اشرف کے آفس سے آنے کے بعد بشریٰ نے مصروف انداز میں اشرف سے کہا۔ ’’تو؟‘‘ وہی مختصر جواب۔ جس سے بشریٰ کبھی کبھی چڑ جاتی تھی۔ ’’تو؟ تو کیا؟ اس نے ہمیں ڈنر پر بلایا ہے۔‘‘ بشریٰ نے چاول کو دھو کر برتن میں چڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں تو چلے جائینگے۔ کب ہے دعوت؟‘‘ اشرف نے لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’مجھے نہیں جانا وہاں۔‘‘بشریٰ نے سلاد کاٹتے ہوئے خفا خفا انداز میں اس سے کہا۔ اسے پچھلی بار کی بے عزتی نہیں بھولی تھی۔ تسنیم، جو اشرف کے چھوٹے بھائی کی بیوی تھی، نے بشریٰ سے کسی پرانے واقعے پر خوب لڑائی کی تھی۔ اور اب اسی لئے اس کا وہاں جانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ لیکن اشرف نے کسی طرح اسے وہاں جانے کیلئے راضی کر ہی لیا۔ دو گھنٹے مسلسل اسے سمجھانے کے بعد!
***
رات کے ٹھیک آٹھ بجے، بشریٰ اور اشرف اپنے بچوں کے ساتھ ساجد کے گھر کی بیل بجا رہے تھے۔ تسنیم کا رویہ کافی اچھا تھا؛ اسی وجہ سے بشریٰ بھی پرانی باتیں سائڈ میں رکھ کر اس کے ساتھ کچن میں مدد کر رہی تھی۔ کچھ دیر معمول کی باتوں کے بعد دسترخوان بھی لگ گیا۔ پر تکلف ڈنر بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں نے بھی خوب انجوائے کیا۔ جس میں اریب اور امان نے ایک بار لڑائی ضرور کی تھی۔ اور اس پر بشریٰ سے ڈانٹ بھی کھائی تھی۔
کھانے کے بعد اریب اور امان، ساجد کے بچوں کے ساتھ کھیلنے ان کے روم میں چلے گئے تھے، جبکہ چاروں بڑے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے باتوں میں مصروف تھے۔ دونوں بھائی وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہی رہتے تھے۔ ان کا ملنا ملانا اب بس انہیں دعوتوں کی مرہون منت ہوچکا تھا۔ اپنی زندگیوں میں مصروف دونوں بھائی ماں کے انتقال کے بعد الگ گھروں میں رہنے لگے تھے۔ دونوں کے پاس اب اپنی اپنی فیملی تھی۔ لیکن جب بھی کوئی مصیبت یا پریشانی آتی تو ساجد، جو چھوٹا تھا، عادتاً اپنے بڑے بھائی کا رخ کرتا۔ یا اشرف کو کچھ مسئلہ ہوتا تو وہ بڑا ہونے کے بعد بھی ساجد سے رابطہ کرتا۔ ان کی امی کے انتقال کے بعد اب وہ دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے۔ لیکن ہمارے پاس کے اکثر گھروں کی طرح ان کی بیویوں کے مزاج بھی آپس میں نہیں ملتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کے ’دلوں‘ میں نہ سہی ان کے ’درمیان‘ فاصلے بڑھ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: کہانی: خود سے خود کی پہچان
’’ساجد اور مَیں سوچ رہے تھے کہ.... ہم نے جو پلاٹ خریدا تھا، اس پر اپنا گھر بنا لیں۔‘‘ تسنیم نے چائے کے کپ کو سائڈ میں رکھ کر کہا۔ بشریٰ نے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی، اس کے ذہن میں یہ خیال گردش کرنے لگا تھا۔ ’’یقیناً اب اسے پیسوں کا مطالبہ کرنا ہے۔‘‘ لیکن اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا۔ البتہ تسنیم کی بات سن کر اشرف نے کہا ’’کیوں نہیں! یہ تو بڑا اچھا آئیڈیا ہے۔ اپنا گھر ہوگا، بہت اچھی بات ہے۔ تمہیں اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو میں....‘‘ بشریٰ سے برداشت نہیں ہوا۔ اسے لگتا تھا کہ اشرف کی ساری زندگی ساجد کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں، اس کی مدد کرنے میں ہی نکل رہی تھی۔
’’لیکن اشرف، ہم نے بھی تو آپ کے دوست سے قرض لیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر کی کچھ مرمت بھی کروانی ہے۔‘‘ اشرف کو ہمیشہ کی طرح اس کا یوں بیچ میں بولنا برا لگا۔ ’’ہم مرمت بعد میں کروالیں گے، اور دوست سے میں بات کرلوں گا۔ مجھے یقین ہے وہ میری بات مان جائے گا۔‘‘ اشرف نے مسئلے کا حل ڈھونڈا۔ لیکن بشریٰ ایک کے بعد ایک خرچ گنواتی رہی۔ اور پھر اس کے بعد نہ جانے کیسے، مگر بات بات میں اکثر اوقات کی طرح بشریٰ اور تسنیم میں تکرار شروع ہوگئی۔ اتنے میں اریب اور امان روم میں لڑتے ہوئے آگئے۔
’’مما، اریب بھائی نے مجھے چاکلیٹ نہیں دی۔‘‘ امان آنکھیں ملتا شکوہ کرنے لگا۔
’’لیکن مما، وہ میری تھی، امان نے اس کی پہلے ہی کھا لی۔‘‘ اریب نے چڑ کر کہا۔ بشریٰ پہلے ہی غصے میں تھی، اس نے چڑ کر کہا ’’اریب! تمہارا چھوٹا بھائی ہے وہ... تم اسے نہیں دو گے تو کیا میں دوں؟ ایک بار اپنی چاکلیٹ دو گے تو کیا ہی ہوگا....‘‘ ’’لیکن ہمیشہ میں ہی کیوں دوں؟‘‘ دوسرے بڑے بہن بھائیوں کی طرح اسے بھی یہ گلہ تھا کہ ہمیشہ اس سے ہی قربانی مانگی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں
’’کیونکہ تم بڑے ہو!‘‘ہر لفظ پہ زور دیتے ہوئے آخر میں بشریٰ اچانک رک گئی۔ بس وہ ہی نہیں، شاید باقی تینوں نفوس بھی ایکدم جیسے اپنی سیٹ پر منجمد ہوگئے تھے۔ بشریٰ کو ایک عجیب سی ندامت کا احساس ہوا۔ اسے یہ بھی احساس ہوا کہ اریب اور امان کو وہ اس بات کی نصیحت کر رہی ہے جس سے اشرف کو روک رہی ہے۔ لیکن اس کا ری ایکشن دونوں کیلئے الگ کیوں؟ یہ وہ سوال تھا جس سے تسنیم بھی جز بز دکھائی دے رہی تھی۔ ماحول پر طاری اس سحر کو اشرف بھانپ چکا تھا۔ وہ بشریٰ کے چہرے پر آئے ہوئے تاثر کو پڑھ چکا تھا۔ اور اس نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ بشری اپنے ہی قول اور فعل کے تضاد کو جان چکی ہے۔ گویا کہ اس صورتحال سے جس میں بشریٰ کے چہرے پر ندامت، حیرت اور احساس شرمندگی کے آثار بیک وقت نمایاں تھے، اس نے نہایت پر زور آواز میں ساجد سے کہا ’’ساجد! کل تم میرے آفس آجانا۔ ہم ساتھ میں کانٹریکٹر کے پاس چلتے ہیں۔‘‘
اور اس بار بشریٰ جان بوجھ کر اریب اور امان کو سمجھانے میں خود کو مصروف ظاہر کرنے لگی۔ تسنیم بھی کپ رکھنے کے بہانے کچن میں چلی گئی۔