طلاق ایک رشتے کا اختتام ہوسکتی ہے، لیکن زندگی کا اختتام نہیں۔ ہر عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماضی سے سبق لے کر ایک باوقار، پُرامن اور بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے۔ خاندان اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس راستے میں اس کے لئے دیوار نہ بنے بلکہ سہارا بنے۔
طلاق کے بعد اولاد کی تنہا پرورش کرنا مطلقہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این
طلاق ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی ہمارے معاشرہ میں بہت سے سوال، خدشات اور تبصرے جنم لینے لگتے ہیں۔ اگرچہ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے اور ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر آباد رہے، لیکن بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان ساتھ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں طلاق اگرچہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے، لیکن اس کے بعد عورت کی زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ہمارا معاشرہ اس عورت کیساتھ کیسا رویہ اختیار کرتا ہے؟طلاق کے بعد سب سے زیادہ آزمائش عموماً عورت کے حصے میں آتی ہے۔ اسے صرف ایک رشتہ ٹوٹنے کا دکھ نہیں سہنا پڑتا بلکہ اسے لوگوں کی باتیں، سوالات، تنقید اور بعض اوقات بے جا ہمدردی بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ بہت سے لوگ عورت کو اس کی پوری شخصیت، صلاحیت اور کردار کے بجائے صرف اس حیثیت سے دیکھنے لگتے ہیں کہ وہ ’’طلاق یافتہ‘‘ ہے۔ یہی رویہ اسکی مشکلات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:باورچی خانہ گھر کا خاص حصّہ؛ دیکھ ریکھ بھی خاص ہو
ہمارے معاشرے میں آج بھی طلاق کا سارا بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر کسی عورت کی شادی ناکام ہو جائے تو سب سے پہلے اس سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آخر اس میں کیا خرابی تھی؟ بہت کم لوگ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ حقیقت کیا تھی، حالات کیسے تھے اور اس رشتے کو بچانے کے لئے اس عورت نے کتنی کوشش کی۔ کسی بھی ازدواجی رشتے کی ناکامی کو صرف ایک فرد کی غلطی قرار دینا انصاف نہیں۔
طلاق کے بعد عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اکثر معاشی خود مختاری کا ہوتا ہے۔ اگر عورت نے شادی کے بعد ملازمت چھوڑ دی ہو یا اسے کام کرنے کا موقع نہ ملا ہو تو اچانک اپنے اخراجات پورے کرنا اس کے لئے مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں خاندان اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اسے بوجھ سمجھنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: بزرگوں سے بے رُخی.... تہذیبی زوال کی علامت
تعلیم اور ہنر اس سلسلے میں عورت کیلئے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو، کوئی ہنر جانتی ہو یا اسے روزگار کا موقع مل جائے تو وہ اپنے مستقبل کو بہتر انداز میں سنوار سکتی ہے۔ معاشرے کو چاہئے کہ طلاق یافتہ خواتین کیلئے ہنرمندی، تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرے تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
طلاق کے بعد عورت کی ذہنی کیفیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک رشتہ ختم ہونا صرف قانونی یا معاشرتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک جذباتی صدمہ بھی ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر اگر عورت نے اپنی پوری زندگی، خواب اور مستقبل اس رشتے سے وابستہ کر رکھا ہو تو جدائی کے بعد اسے دوبارہ زندگی کو ترتیب دینے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے وقت میں اسے طعنے نہیں بلکہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ طلاق یافتہ عورت کی نجی زندگی کو بحث کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ اس سے بار بار اس کی طلاق کی وجہ پوچھی جاتی ہے، سابق شوہر کے بارے میں سوال کئے جاتے ہیں اور بعض اوقات اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی کی جاتی ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جنہیں وہ دوسروں کے ساتھ بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ کسی کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا بھی درست نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی کانپور کے سابق طالبعلم نے ایک دن میں ۷۷؍ کروڑ کمائے
طلاق کے بعد اگر عورت کے بچے ہوں تو حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی پرورش، تعلیم، اخراجات اور جذباتی ضرورتیں دونوں والدین کی ذمہ داری ہیں۔ بچوں کو والدین کے اختلافات کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہئے۔ انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ والدین کی علاحدگی ان کی اپنی کوئی غلطی نہیں۔ بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا، نفرت پیدا کرنا یا دوسرے والدین سے دور کرنے کی کوشش کرنا، بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے علاحدگی کے باوجود والدین کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھداری سے ادا کرنا چاہئے۔ بچوں کے مستقبل کو ذاتی اختلافات سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔
طلاق کے بعد دوبارہ شادی کا معاملہ بھی ہمارے معاشرہ میں اکثر غیر ضروری بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ ایک طلاق یافتہ عورت کو دوبارہ شادی کرنے کا حق اسی طرح حاصل ہے جیسے کسی دوسرے انسان کو۔ اگر وہ دوبارہ شادی کرنا چاہے تو اسے طعنوں اور ماضی کے سوالات کے بجائے عزت اور اعتماد کے ساتھ اپنا مستقبل منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اسی طرح اگر وہ دوبارہ شادی نہ کرنا چاہے تو اس فیصلے کا بھی احترام کیا جانا چاہئے۔
طلاق کسی عورت کی پوری شناخت نہیں ہے۔ وہ ایک ماں، بیٹی، بہن، استاد، ملازمہ، کاروباری خاتون اور سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان ہے۔ اس کی شخصیت کو صرف اس کے ازدواجی رشتے سے جوڑ دینا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔
شادی زندگی کا ایک اہم حصہ ضرور ہے، لیکن پوری زندگی نہیں۔ اگر کسی عورت کی شادی کامیاب نہ ہو سکے تو اسے زندگی کا دوسرا موقع ملنا چاہئے۔