سوال یہ ہے کہ ہمیں خود کو کیوں دریافت کرنا ہے؟ اس کا آسان جواب یہ ہوسکتا ہے کہ خود سے آگہی کا عمل ہمیں اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں، کمزوریوں اور شخصیت کے کمزور پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے، نیکیاں اور اچھے اعمال کی ہماری صلاحیت اور طلب کی پہچان کرا سکتا ہے لہٰذا رمضان کے رخصت ہونے سے قبل خود پر توجہ دیں۔
رمضان کی جتنی ساعتیں باقی ہیں ان میں اپنے آپ میں نرم دلی، صلہ رحمی اور خیر خواہی کے وصف کو مستحکم کریں۔ تصویر: آئی این این
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہونے والا ہے۔ لیکن اب تک ہم گھر کے کاموں، سحر و افطار کے پکوانوں اور تحفے تحائف کے لین دین کے انتظام میں مصروف ہیں۔ جبکہ اس ماہ کا مقصد روح کی پاکیزگی، دلوں کی صفائی، معاملات کی بہتری اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے جس پر پورا اُترے بغیر ہمارے روزے اور عبادتوں کی قبولیت اس عام مغفرت والے ماہ میں بھی مشکوک ہوسکتی ہے۔ اس لئے اپنی روحانی دریافت کو ترجیح دیں تاکہ رمضان کے رخصت ہونے سے قبل ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم خود کو دریافت کرنے کی کوشش کریں! خود کی دریافت کا مطلب یہ جاننا ہے کہ ہمارے لئے کیا اہم ہے جیسے ایمانداری، تخلیقی صلاحیت، نصب العین وغیرہ۔ کون سی چیز ہے جو حقیقی خوشی اور سکون دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عورت: زمین پر رکھا ہواایک چلتا پھرتا آسمان
سوال یہ ہے کہ ہمیں خود کو کیوں دریافت کرنا ہے؟ اس کا آسان جواب یہ ہوسکتا ہے کہ خود سے آگہی کا عمل ہمیں اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں، کمزوریوں اور شخصیت کے کمزور پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے، نیکیاں اور اچھے اعمال کی ہماری صلاحیت اور طلب کی پہچان کرا سکتا ہے لہٰذا خود پر توجہ دیں۔ یہ سوال اپنے آپ سے کبھی پوچھ بھی لیں کہ دُنیا سے ہم جو کچھ چاہتے ہیں اور جن چیزوں کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں تو اس ساری مشقت میں اپنی ذات کے لئے کتنا کچھ ہے اور دُنیا کو خوش کرنے کے لئے کتنا ہے؟
اپنی خوشی اور آمادگی کے بغیر صرف دُنیا میں معروف و نمایاں رہنے کے لئے ہلکان ہونا انسان کو جلد تھکا دیتا ہے۔ اپنی ترجیحات اور استطاعت میں توازن قائم رکھنے کی مشق سے اپنی دریافت کا سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔ بھلائی کی راہ پر وہی لوگ سفر کرسکتے ہیں جن میں اپنی خوبیوں کو مزید بہتر کرنے اور خامیوں سے نجات پانے بالفاظ دیگر اپنی اندرونی روشنی کو پانے کی لگن ہو۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کا آخری عشرہ خواتین کیلئے بھی بے حد اہم
اپنی فطری جبلت کے تحت انسان ہمیشہ دوسروں کے معاملات کی جستجو میں لطف محسوس کرتا ہے مگر اُسے وقت اور توفیق شاذ ہی ملتی ہے کہ وہ کبھی خود کے اندر بھی جھانکے اور اپنی تلاش میں نکلے۔ کبھی فرصت سے بیٹھ کر سوچے کہ آخر وہ ہے کیا! اپنےمقصد حیات کے بارے میں ایماندارانہ تجزیہ اُسے اپنی پہچان کی راہ پر لے جاسکتا ہے۔
اس کام کیلئے رمضان کا برکتوں اور آسانیوں والا مہینہ بہت غنیمت ہے۔ یہ وقت ہمیں اس لئے نہیں ملا کہ ہم اُسے پکوانوں، گھر کی سجاوٹوں، خریداریوں اور اس نوع کی دیگرمصروفیات میں ضائع کر دیں۔ اگر رمضان کے ایام بھی عام دنوں کی مانند بلکہ اٗن سے بھی زائد غفلت میں گزر جائیں تو پھر اس ماہ کی شان و عظمت کو پہچاننے کی ہماری صلاحیت اور قدر شناسی پر حرف آتا ہے۔ اپنی ذات کی دریافت کا پہلا زینہ تو یہی ہے کہ ہم اپنے اندر وہ صفت کھوج لیں جو نعمتوں کی قدر شناس ہوتی ہے۔
زندگی میں بغیر مشقت و طلب ملنے والی ان گنت سہولتوں سے سرفراز ہو کر اگر ہم رب کی ان نعمتوں کو اپنا حق سمجھ کر ’فارگرانٹیڈ‘ لینے کے عادی ہیں تو شکر گزاری کے وصف سے لازماً دور ہیں لہٰذا روزمرہ کی چھوٹی سے چھوٹی آسانیوں پر شکر گزاری کی عادت اپنانا اپنی ذات کی ایک نئی اور اہم دریافت بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صنف نازک زمانے سے قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے جس کی مثال یہ خواتین ہیں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! رمضان المبارک کا یہ مہینہ اُسی دردمندی اور غم خواری کی بہترین مثال ہے، اگراس ماہ میں ہمیں وہ تمام افراد یاد آجائیں جنہیں ہماری مدد یا سہارے کی ضرورت ہے، ایسے معاملات بھی جو ہماری معمولی توجہ اور وساطت سے حل ہوسکتے ہیں اور اس نوع کی رفاہی سرگرمیوں کو خلوص سے انجام دینے اور اسلام کے سوشل ویلفیئر سسٹم کا فعال رکن بننے پر اپنے آپ کو راضی کر پاتے ہیں تو نوید ہو کہ اپنے آپ میں نرم دلی، صلہ رحمی اور خیر خواہی کے وصف کی دریافت کے ساتھ ہمارا اگلا قدم خدمت خلق کی راہ میں ہے۔
ماہِ صیام کے روزوں کی بھوک پیاس اور موسم کی سختی کو خوشدلی سے برداشت کرنے کاعمل دراصل صبر اور قناعت کا درس ہے جس کے ذریعے ہم زندگی میں پیش آنے والی کئی آزمائشوں سے بخوبی گزر جانے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ لہٰذا صبر و قناعت کے جذبے کا فروغ اور اپنی قوتِ برداشت کی حدوں کا تعین بھی اسی مقدس مہینے میں ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راشٹرپتی بھون سے چندریان تک: بدلتے بھارت کی معمار خواتین
رمضان کے آخری عشرہ کے میسر محدود وقت کے ہر حصے کو کارآمد بنانے کی خاطر اپنی مصروفیات کو منظم کریں۔ اپنےاعمال و افعال میں کوئی مثبت تبدیلی لانے اور گزشتہ سے بہتر انسان بننے کی کوشش کریں۔ آخری عشرہ میں دنیاوی مصروفیات سے فارغ ہو کر تنہائی کی عبادت یا اعتکاف کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور معرفت پانے کی کوشش میں اپنے ساتھ کچھ وقت بتانے کا جو موقع ملتا ہے وہ خود کو دریافت کرنے کا بھی سنہری موقع ہے گویا؎
نکلے تیری تلاش میں اور خود کو پا لیا!