Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوشیار.... ڈش واشنگ لیکویڈ صحت کیلئے نقصاندہ ہوسکتے ہیں

Updated: June 10, 2026, 3:21 PM IST | Mumbai

ڈش واشنگ لیکویڈ میں موجود سخت کیمیکلز (جیسے سلفیٹس اور فاسفیٹس) جلد کی الرجی، خارش اور سانس کے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ برتنوں پر صابن کی باقیات رہ جانے سے یہ کیمیکلز کھانے کے ذریعے پیٹ میں جا کر نظامِ ہاضمہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ڈش واشنگ لیکویڈ میں موجود سخت کیمیکلز (جیسے سلفیٹس اور فاسفیٹس) جلد کی الرجی، خارش اور سانس کے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ برتنوں پر صابن کی باقیات رہ جانے سے یہ کیمیکلز کھانے کے ذریعے پیٹ میں جا کر نظامِ ہاضمہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ذیل میں ڈش واشنگ لیکویڈ سے صحت کو لاحق ہونے والے نقصانات کے بارے میں دیا جا رہا ہے:

جلد کے مسائل

لیکویڈ میں موجود کیمیکلز جلد کی قدرتی نمی چھین لیتے ہیں جس سے ہاتھوں میں خشکی، خارش، اور ایکزیما جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پریشر کوٗکر میں خرابی آجانے پر یہ تدابیر اپنائیے

معدے اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل

اگر برتن ٹھیک سے نہ دھلے ہوں تو کیمیکلز کھانے کے ذریعے معدے میں پہنچ جاتے ہیں، جو بدہضمی، قے، اور معدے کی سوزش کا باعث بن سکتے ہیں۔

سانس کی تکلیف:

ڈش واشنگ لیکویڈز میں موجود تیز خوشبو اور کیمیائی بخارات سانس کی نالی میں سوزش یا دمہ کے مریضوں کیلئے پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔

ہارمونز میں خلل

بعض لیکویڈز میں موجود ٹرائی کلوسن اور مصنوعی کیمیکلز انسانی ہارمونز کے نظام میں مداخلت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آغاز ہی انجام طے کرتا ہے، اسلئے اسکول کا پہلا دن ہی اہم

چند احتیاطی تدابیر

کیمیکل فری انتخاب:

قدرتی اور نامیاتی (Organic) ڈش واشنگ لیکویڈز کا استعمال کریں۔ جیسے کہ لیموں اور سرکہ سے تیار ڈش واشنگ لیکویڈ کا انتخاب کریں۔ مائلڈ یا ہربل لیکویڈ بہترین متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔

کم مقدار میں استعمال کریں:

ڈش واشنگلیکویڈ کی بہت تھوڑی سی مقدار استعمال کریں۔

پانی کا زیادہ استعمال:

برتنوں کو دھونے کے بعد کھلے پانی سے اچھی طرح کھنگالیں تاکہ صابن کا ذرہ باقی نہ رہے۔

دستانے پہنیں:

لیکویڈ براہ راست ہاتھوں پر لگانے سے گریز کریں اور برتن دھوتے وقت ربڑ کے دستانے کا استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھئے: گرم چیزیں پیستے وقت شیف پنکج بھدوریا کا بتایا یہ نسخہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے

متبادل طریقے:

برتن دھونے کے لئے آپ سرکہ، لیموں کا رس اور بیکنگ سوڈا بھی استعمال کرسکتی ہیں۔

اسفنج کی صفائی کا بھی خیال رکھیں

برتن دھونے کے بعد اسفنج کو اچھی طرح دو تین پانی سے دھو لیں تاکہ اس میں لیکویڈ کے باقیات نکل جائے۔

ہاتھوں کو موئسچرائز کریں

برتن دھونے کے بعد ہاتھوں پر موئسچرائزر لگائیں۔ اس سے جلد کی نمی برقرار رہے گی۔

لیبل ضرور پڑھیں

خیال رہے کہ سبھی ڈش واشنگ لیکویڈ میں ایک جیسے کیمیکلز نہیں ہوتے۔ کچھ پروڈکٹس کم کیمیکل والے ہوتے ہیں اور کچھ گھریلو یا ڈی آئی وائے کی شکل میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ ہمیشہ لیبل پڑھ کر انسانی صحت کو تحفظ فراہم کرنے والے اجزاء پر منحصر پروڈکٹ خریدیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK