بچوں کو اسکول جانے سے پہلے گھر سے کھا کر جانے کی عادت بنائیں۔ والدہ کو چاہئے کہ خود اپنے ہاتھوں سے پکا کر بچوں کو کھلا کر ہی اسکول بھیجیں۔ ان کو وقفہ کیلئے ٹفن باکس بھی بھر کر دیں تاکہ بچہ جسمانی طور پر مضبوط رہے۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 3:06 PM IST | Sabiha Khan | Mumbai
بچوں کو اسکول جانے سے پہلے گھر سے کھا کر جانے کی عادت بنائیں۔ والدہ کو چاہئے کہ خود اپنے ہاتھوں سے پکا کر بچوں کو کھلا کر ہی اسکول بھیجیں۔ ان کو وقفہ کیلئے ٹفن باکس بھی بھر کر دیں تاکہ بچہ جسمانی طور پر مضبوط رہے۔
نئے تعلیمی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کا آغاز ہو چکا ہے کچھ اسکول باقاعدہ شروع ہوچکے ہیں کچھ عنقریب شروع ہوں گے۔ سبھی سرپرستوں کی ذمہ داریاں اب بڑھ جائینگی۔ اکثر شروعات کے دنوں میں اسکول نہ جانے کا رویہ ہوتا ہے۔ چھٹیوں کے بعد جسم سست اور آرام طلب ہوجاتا ہے بچے بھی کہتے ہیں کہ کوئی خاص پڑھائی نہیں ہو رہی اور آپ بھی کاہلی کا شکار ہو جائیں تو بچوں کو شے مل جاتی ہے۔ اول روز سے بچوں کو پابندی سے اسکول بھیجیں۔
ز بالکل شروعات سے ہی ایک سخت ٹائم ٹیبل بنائیں بچوں کے ساتھ ساتھ خود اپنے لئے بھی۔ رات کو سونے کا وقت اور صبح جاگنے کا وقت طے کریں۔ مسلم معاشرہ میں یہ روش عام ہے کہ لوگ آدھی رات تک جاگتے ہیں بچے بھی بڑوں کے ساتھ رات تین چار بجے تک جاگتے ہیں ایسے میں صبح کے سیشن میں جن کا اسکول ہوگا وہ بچے کس طرح اسکول جائینگے؟ ادھوری نیند کے ساتھ وہ سارا دن اسکول کی پڑھائی پر کیا توجہ دے سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھئے: آپ کا فرض ہے بچے کو دعاؤں کے ساتھ اسکول روانہ کرنا
ز بچوں کی نیند کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک بھی اہم ہے۔ اسکول جانے سے پہلے گھر سے کھا کر جانے کی عادت بنائیں۔ والدہ کو چاہئے کہ خود اپنے ہاتھوں سے پکا کر بچوں کو کھلا کر ہی اسکول بھیجیں۔ ان کو وقفہ کیلئے ٹفن باکس بھی بھر کر دیں تاکہ بچہ جسمانی طور پر مضبوط رہے۔ صحتمند جسم میں صحتمند دماغ ہوتا ہے۔ جسم کو تمام غذائی اجزاء ملیں گے تب ہی وہ مکمل طور پر توجہ و یکسوئی سے پڑھائی کیلئے آمادہ ہوگا۔ باہر کی کھانے پینے کی اشیاء کبھی بھی صحت کو فائدہ نہیں دیتی ہیں۔ یہ محض زبان کا چٹخارہ ہیں۔
ز ایسا بھی ہوگا کہ آپ میں سے کچھ اپنے حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو نیا یونیفارم، بستہ وغیرہ نہ دے سکیں۔ ایسی صورت میں آپ کو با اعتماد رہنا ہے اور بچوں کے سامنے کسی تاسف یا محرومی کا اظہار نہیں کرنا ہے۔ آپ کے منفی الفاظ محرومی کو اجاگر کرنیوالے جملے بچے کی شخصیت پر برا اثر ڈالیں گے۔ یونیفارم اور بستہ پرانا ہی سہی اسے صاف رکھیں، کپڑے استری شدہ اور جوتے پالش کئے ہوئے ہوں بال سنوار کر رکھیں تو وہ نئے لباس سے زیادہ پُرکشش بن جائینگے۔
ماں کی باتوں میں کتنا جادو بھرا اثر ہے اس کی مثال دیکھ
البرٹ آئن اسٹائن کو کند ذہن کہہ کر اسکول سے نکال دیا گیا تھا ۔ان کی والدہ نے ان سے کہا تھا کہ تم اتنے زیادہ ذہین ہو کہ اسکول والے تم کو پڑھا نہیں سکتے وہ ناکافی ہیں اس لئے تم کو اسکول آنے سے منع کر دیا ہے۔ یہی وہ الفاظ تھے جو آگے جاکر سچ ثابت ہوئے۔ وہ بچہ عظیم سائنسداں بنا اور والدہ کے انتقال کے بعد ان کے سامان سے اسکول کا وہ خط برآمد ہوا تو آنسٹائن نے اسے پڑھا اس میں لکھا تھا آپ کا بچہ ذہنی طور پر معذور ہے اس لئے ہم اسے اسکول سے نکال رہے ہیں۔ یہ کہانی کافی ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ ماں کے الفاظ، تاثر اور رویوں کا کتنا اثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بالوں میں مہندی لگانے سے وہ صحتمند، چمکدار اور گھنے ہوتے ہیں
اسکول کے سبق کا اعادہ آپ خود لیا کریں
حالانکہ اب ٹیوشن کا چلن اتنا عام ہے کہ صرف دیہات کو چھوڑ دیں تو ہر چھوٹے بڑے شہر میں بچوں کو ٹیوشن بھیجنا تعلیم کا اٹوٹ حصہ مانا جانے لگا ہے۔ ٹیوشن کے باوجود بحیثیت ماں آپ کو اپنے بچہ کو روزانہ ایک گھنٹہ اپنے سامنے پڑھنے بیٹھانا لازمی ہے تاکہ آپ اس کی تعلیمی ترقی سے واقف رہیں۔ یہاں محض تعلیم ہی نہیں آپ کی اولاد کے ساتھ آپ کی دوستی بھی مضبوط ہوگی۔
بڑی بہن کا کردار
اگر آپ بہن ہیں تو آپ بھی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ پڑھائی کریں۔ چھوٹے بھائی یا بہن کی مدد کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کا بھی اعادہ ہوگا۔ چند بنیادی اصول کا بار بار آموختہ ہونے سے آپ اپنی بڑی کلاس کے سوالات آسانی سے حل کرسکتی ہیں۔ اس دوران بڑی بہن کا رویہ چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ نرم ہونا چاہئے۔
ز اگر کسی وجہ سے آپ نے اپنے بچہ کا اسکول بدلا ہے۔ عموماً رہائش کے بدلنے پر بچوں کو سب سے زیادہ دکھ اسکول بدل جانے کا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ماں کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو بہت خیال رکھنا چاہئے کہ بچہ نئے ماحول میں نے جلد از جلد دوست بنا لے۔ ورنہ وہ پرانے اسکول کی یاد میں اس نئے ماحول کو نظر انداز کرے گا تو پڑھائی پر اس کا برا اثر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اچھے تعلقات قائم رکھنا ہمسائیگی کا حق ادا کرنے کا اہم ذریعہ
ز آغاز ہی انجام طے کرتا ہے۔ ایک ذمہ دار ماں کو چاہئے کہ وہ نئے سال کے آغاز سے اپنے بچے کے گزشتہ سال کے احوال پر مبنی اپنا لائحہ عمل بنا لے۔ گزشتہ سال بچہ نے کس مضمون میں کون سی سرگرمی میں بہتر کار کردگی دکھائی اور کہاں کہاں وہ اوسط رہا کہاں اوسط سے کم۔ اب سال بھر کے لئے اس پر محنت کریں جہاں آپ کا بچہ اوسط سے کم ہے۔ اسکول، ٹیوشن کتابیں یہ سب اپنا کام کر رہی ہیں لیکن آپ کی توجہ اور آپ کی فکر و دلچسپی عام سے بچے کو خاص بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔