وقت ہی زندگی ہے جو وقت ضائع کرتا ہے حقیقتاً زندگی کا زیاں کرتا ہے۔ کھیل کود کا وقت مقرر کریں اور کوشش کریں کہ بچوں کو موبائل سے دور رکھیں۔ اس کے لئے ضروری ہے آپ خود موبائل سے دور رہیں۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 3:01 PM IST | Muniba Zulfiqar Ali | Mumbai
وقت ہی زندگی ہے جو وقت ضائع کرتا ہے حقیقتاً زندگی کا زیاں کرتا ہے۔ کھیل کود کا وقت مقرر کریں اور کوشش کریں کہ بچوں کو موبائل سے دور رکھیں۔ اس کے لئے ضروری ہے آپ خود موبائل سے دور رہیں۔
حالیہ ایام جہاں بچوں کے لئے بے فکری اور تفریح کے ہیں وہیں یہی گنتی کے چند دن والدین کو میسر آتے ہیں تربیت کے لئے اپنے بچوں کو مکمل جاننے کے لئے۔ اسکول ٹیوشن اور عربی کے دورانیے میں جو وقت بچتا ہے وہ بھی موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ حالات کے اس دھارے میں چھٹیاں وہ نعمت ہیں جو تربیت کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ تربیت کیا ہے؟ نصیحتوں کا ایسا پلندہ جس کو کھولنے پر ایسی بیزاری طاری ہو کہ بچہ مزید دور ہو جائے ؟ نہیں آئیے آج تربیت کے گر سیکھے جائیں:
(۱)سب سےپہلا قدم آپ کا یہ ہو کہ آپ کی دوستی ہو۔ جس رشتے میں دوستی کم ہو وہاں محبت کا دم گھٹتا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیںکہ صحبت کا اثر کتنا گہرا ہوتا ہے ،اس کا دوسرا مفہوم یہی ہے کہ دوست سے انسان سیکھتا ہے ۔دوستی کے رنگ خاندان سے گہرے ہوتے ہیں، سو معاملہ یہ ہے کہ ماں تو آپ ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو سہیلی بھی آپ بن جائیں ،ہم راز بن جائیں۔ یہ عمل آپ کیلئے آسانی فراہم کرے گا۔ تربیت کی راہ میں ، بچے دوستوں ہی میں کھلتے ہیں اور ان کی خوبیوں ، خامیوں تک پہنچنے کا یہ بہترین راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گھر پر دہی سے مکھن نکالنے کا یہ طریقہ آزمائیں
(۲)اب جب آپ جان لیں کہ کہاں سدھار کی ضرورت ہے تو پھر تحمل اختیار کریں، یک بیک ساری خامیوں پر پوری روشنی نہ ڈالیں بلکہ رویہ سے اعمال سے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سدھار کی کوشش کریں ۔یاد رکھیں کہ آپ کا رویہ اتنا ناصحانہ نہ ہو کہ دوستی کا جو بیج آپ نے بویا تھا وہ تنا ور درخت بننے کے بجائے جڑ سے اکھڑ جائے۔
(۳)جیسا آپ اپنی اولاد کو دیکھنا چاہتے ہیں ویسے بن جائیں۔ اکثر والدین چاہتے ہیں کہ جو ہم نہیں ہیں وہ ہماری اولاد بن جائے۔ یہ خواہش بجا ہے لیکن شروعات تو اس سے ہوتی ہے کہ بچہ آپ ہی کو دیکھ کر سیکھتا ہے ۔ سو، جو یہ دن ہیں ان میں کوشش کریں کہ غیبت ، خانگی مسائل ، مالی تنگی کے تذکرے کم ہوں اور شکر گزاری اور صلہ رحمی زیادہ ہو۔ آپ مسائل کا رونا روتے ہوئے بچوں کو کوئی بات نہیں سکھا سکیں گے۔
(۴)اخلاقیات کی گراوٹ ہم سب کے سامنے ہے۔ چھٹیوں میں آپ کے پاس پورا موقع ہے کہ آپ بچے کی زبان پر توجہ دیں ۔اسے بتائیں کہ جین زی سے پہلے والوں کو بھی غصہ آیا کرتا تھا مگر ان کے پاس ایموجیز اور رومن زبان نہ ہونے کے سبب الفاظ کا ایساذخیرہ تھا کہ انہیں شائستگی سے ناراضگی جتانی آتی تھی۔ دوستی میں بات بے بات گالیاں اور عجیب و غریب القابات سے نوازنے سے زیادہ خوبصورت الفاظ ہمارے پاس موجود ہیں۔ بچوں کے ساتھ اچھی اور اخلاقی کتابوں کی ورق گردانی کیجئے تاکہ ان کی ایسے خوبصورت الفاظ سے دوستی بھی ہوسکے۔
(۵) چھٹیاں تعلیمی نظر ثانی کا بھی اچھا موقع ہوتی ہیں۔ سابقہ جماعت میں جن مضامین میں آپ نے بچوں کی عدم دلچسپی کو محسوس کیا ہے اس مضمون پر خصوصی توجہ دیں۔ ضرورت محسوس کریں تواس مضمون کے کسی ماہر استاد کی مدد و صلاح لیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے بچوں کو ’روبوٹ‘ کے بجائے ’کامل انسان‘ بنائیں
(۶)چھٹیوں کو عموماً فراغت کا وہ عرصہ سمجھا جاتا ہے جسے بدنظمی سے گنوانا حق سمجھا جاتا ہے۔ اوقات کو منظم کرنے کا یہ خوبصورت موقع سونے جاگنے کی بدنظمی میں مزید برباد ہوجاتا ہے۔والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اول تو اپنے اوقات کی تنظیم کریں اور دوم بچوں کو وقت کی پابندی سکھائیں۔ وقت ہی زندگی ہے جو وقت ضائع کرتا ہے حقیقتاً زندگی کا زیاں کرتا ہے۔ کھیل کود کا وقت مقرر کریں اور کوشش کریں کہ بچوں کو موبائل سے دور رکھیں۔ اس کے لئے ضروری ہے آپ خود موبائل سے دور رہیں ۔
(۷)سب سے اہم مطالعہ کی عادت چھٹیوں میں بچوں کے اندر اتنی پختہ کر دیں کہ وہ ان کی فطرت کا حصہ بن جائے۔ یقین جانیں کہ کتاب سے دوستی کرنے والوں کی کتابیں ہمیشہ حفاظت کرتی ہیں۔ سوچ و فکر ، تجسس و تحقیق کے در ذہن کے دریچوں میں ایسے وا ہوتے ہیں کہ فکر ونظر روشن ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کسی زمانے میں مہمانوں کی وجہ سے گھر آنگن میں رونق اور برکت ہوتی تھی
(۸)یہ وقت ہنر کیلئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہر تعطیل میں اپنے بچوں کو کوئی نہ کوئی ایک ہنر ضرور سکھایا کریں ۔ اس لئے کہ تعلیم اگر شعور و فہم کا ذریعہ ہے تو ہنر بھی بلاشبہ بھوکا سونے نہیں دیتا۔
(۹)سیر و تفریح کریں۔ قدرت کی رعنائیوں کو محسوس کرنا تصاویر کی دنیا سے نکل کرحقیقی دنیا کا حصہ بننا سکھائیں ، فکر سے آزاد سانس لینا اور ہر بوجھ کو بھول کر زندہ رہنے کی ضرورت کا بچوں میں احساس بھریں، یہ وقت آپ کا ہے آپ کیلئے ہے۔