Updated: May 12, 2026, 2:45 PM IST
| Mumbai
تعطیلات کا وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے اورجب تک ہم کچھ کرنے کے بارے میں سو چیں تب تک کافی وقت گزر بلکہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ چھٹی کے دنوں میںوقت کی منصوبہ بندی بہت ضروری ہےاور اس سے زیادہ بچوںکو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری ہےکہ وقت کا بہتراستعمال کیسے کیا جائے۔
چھٹی کے ایام غنیمت بھی ہیں اور ان کی اپنی اہمیت بھی ہے بشرطیکہ انہیں کچھ سیکھنے اور کچھ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیاجائے۔ تصویر: آئی این این
تعطیلات کا وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے اورجب تک ہم کچھ کرنے کے بارے میں سو چیں تب تک کافی وقت گزر بلکہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ چھٹی کے دنوں میںوقت کی منصوبہ بندی بہت ضروری ہےاور اس سے زیادہ بچوںکو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری ہےکہ وقت کا بہتراستعمال کیسے کیا جائے۔ذیل میں ایسی ہی کچھ باتوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جن پر غور کرکے والدین بچوںکی رہنمائی کرسکتے ہیں اور انہیں بتاسکتے ہیںکہ چھٹی کےایام غنیمت بھی ہیںاور ان کی اپنی اہمیت بھی ہے بشرطیکہ انہیں کچھ سیکھنے اور کچھ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیاجائے:
۱) بچوں کی ذہن سازی : بچوں کو اسکول کے دوران ہی ذہن نشین کروا دیں کہ تعطیلات میں ہمیں فضول وقت ضائع نہیں کرنا اور اپنے وقت کو کارآمد بناتے ہوئے کچھ سیکھنا ہے، اگر ہم اچانک ہی بچوں کو مختلف امور سر انجام دینے کی ضد کریں تو عین ممکن ہے کہ وہ بدک جائیں، لہٰذا بہتر ہوگا کہ ہم انہیں ذہنی طور پر قبل از وقت تھوڑا تیار کر دیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے بچوں کو ’روبوٹ‘ کے بجائے ’کامل انسان‘ بنائیں
۲) لائحہ عمل طے کرنا: اسکول ،ٹیوشن اور مدرسہ کے انتہائی مصروف جدول میں انہیں غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے آمادہ کرنا کافی مشکل ہوگا، لہٰذا ان سرگرمیوں کیلئے تعطیلا ت کو بہتر طریقہ سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ تعطیلات میں کس ٹائم ٹیبل کے مطابق چلنا ہے، بچوں کو پہلے سے آگاہ کر دیں، زیادہ بہتر ہوگا جو بچوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی جائے۔
۳) نظم و ضبط کی پابندی: بچوں کو پہلے سے ہی یہ باور کروا دیں کہ یہ تعطیلات ضرور ہیں مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو دیر رات تک جاگنے اور دن چڑھے سونے کی اجازت ہے۔ یہ عمل ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ بچوں کو جلد سونے اور جلد جاگنے کا پابند بنانا زندگی کے ہر دور میں مفید ثابت ہوتا ہے،لہٰذا انہیں اس کا عادی بنا ئیں۔
۴) دینی تعلیمات: بچوں کو دین کی تعلیمات سے روشناس کروانا تمام والدین کا فرض ہے، بچوں کو سختی سے نماز کا پابند بنائیں، اگر لڑکے ہیں اور مسجد گھر سے قریب ہے تو انہیں با جماعت نماز کی ادائیگی کی تاکید کریں، بچیوں کو نماز کا درست طریقہ سکھائیں، سنتوں پر عمل کرنے کے فوائد سے آگاہ کریں، چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد کروائیں ، دین اسلام کے احکامات پر پابندی کی تلقین کریں۔انہیںبنیادی اخلاقیات سکھائیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے بچوں کو ’روبوٹ‘ کے بجائے ’کامل انسان‘ بنائیں
۵)گھریلو امور: بچوں کو روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں اپنے ساتھ شریک کریں، مثلاً چھوٹے بچوں کو پانی کی بوتلیں بھر کر فریج میں رکھنا، دسترخوان بچھانا، پلیٹیں رکھنا، گلدان میں پھول سجانا وغیرہ ایسے آسان کام کروائیں۔ بچے اگر بڑے ہیں تو انہیں احتیاط کے ساتھ سلاد کاٹنا، گھر کی صاف صفائی، برتن دھونا، دھلے ہوئے کپڑوں کو تہ لگانا، مہمانوں کو چائے ناشتہ پیش کرنا سکھائیں۔ بچوں میں کاموں کو تقسیم کریں اور انہیں سختی سے اس پر عمل کرنے کی تاکید کریںاور کوئی عمدہ نصیحت کریں۔
۶) سوشل میڈیا سے مدد: آج کل یو ٹیوب پر بیکار اشیاء کو استعمال کرکے کارآمد اور خوبصورت ڈیکوریشن پیسز بنانے کے ڈھیروں ویڈیوز موجود ہیں۔ بچوں کے ساتھ مل کر اس طرح کے تخلیقی کام سر انجام دیں جس سے ان میں بھی کچھ سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور یہ اسکول کے پروجیکٹ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا ڈیٹاکس کیوں ضروری ہے؟
۷)اخلاقی تربیت: سوشل میڈیا کے زیر اثر آج کل کے بچے کافی تنہائی پسند ہو چکے ہیں، انہیں کہیں آنا جانا اور کسی سے زیادہ میل جول پسند نہیں، آپ پیار سے انہیں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کریں، وقتاً فوقتاً انہیں اپنے عزیز اقارب سے ملاقات کیلئے جائیں، بیماروں کی عیادت کیلئے ساتھ لے جائیں، احباب کو اپنے گھر مدعو کریں تاکہ بچوں میں خیر سگالی کے جذبات پروان چڑھیں۔ اپنے وقت کی تھوڑی سی قربانی اور درست لائحہ عمل طے کرکے بچوں کی تعطیلات کو کارآمد اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔