Updated: July 18, 2026, 10:02 PM IST
| New Delhi
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی جاری بھوک ہڑتال کے دوران ان کے والد سونم وانگیال کی ۱۹۸۴ء کی ایک تاریخی جدوجہد دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اس وقت لداخ کو درجۂ فہرست قبائل (ST) دلانے کے مطالبے پر سونم وانگیال نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جسے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے خود لیہہ پہنچ کر ختم کرایا تھا۔ موجودہ احتجاج کے تناظر میں یہ واقعہ ایک بار پھر سیاسی اور عوامی بحث کا حصہ بن گیا ہے، جبکہ سونم وانگچک کی صحت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم اندرا گاندھی,سونم وانگیال کو یقین دہانی کراتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی مصلح سونم وانگچک کی جاری بھوک ہڑتال کے درمیان ان کے والد سونم وانگیال کی ۱۹۸۴ء کی جدوجہد ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ موجودہ احتجاج کے بیسویں دن کے بعد سامنے آنے والی اس تاریخی داستان نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ چار دہائیاں قبل ایک وزیر اعظم نے احتجاج کرنے والے لیڈر سے براہِ راست ملاقات کر کے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق سونم وانگیال، جو اس وقت کانگریس سے وابستہ ایک ممتاز لیڈر اور سابق وزیر تھے، نے ۱۹۸۴ء میں لداخ کے عوام کو درجۂ فہرست قبائل (Scheduled Tribe) کا آئینی درجہ دلانے کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ احتجاج کے کئی روز گزرنے کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی خود لیہہ پہنچیں، سونم وانگیال سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد سونم وانگیال نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا گیا، ابھیجیت دپکے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے
اندرا گاندھی کی یہ یقین دہانی بعد میں ان کے قتل کے باعث عملی شکل اختیار نہ کر سکی، تاہم چند برس بعد لداخ کے مختلف قبائل کو درجۂ فہرست قبائل کا درجہ دے دیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ آج بھی لداخ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے اور اسی لیے موجودہ حالات میں اس کا بار بار حوالہ دیا جا رہا ہے۔ یہ تاریخی واقعہ ایسے وقت میں دوبارہ موضوعِ بحث بنا ہے جب سونم وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ کئی ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ وہ تعلیمی اصلاحات اور حالیہ امتحانی تنازعات سے متعلق مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کی صحت مسلسل بگڑنے پر دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت اور ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد پولیس انہیں ہفتہ کے روز صفدر جنگ اسپتال منتقل کر گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طبی ضرورت کے تحت کیا گیا، جبکہ وانگچک کے حامیوں نے اسے زبردستی کی کارروائی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۲۰؍ جولائی تک زندہ رہنا چاہتا ہوں، یقین ہے کہ رہوں گا‘‘
اس دوران کانگریس نے بھی وانگچک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ۱۹۸۴ء کے واقعے کا حوالہ دیا۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ اندرا گاندھی نے اختلاف رکھنے والے ایک بھوک ہڑتالی لیڈر سے خود ملاقات کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تھا، اس لیے موجودہ حکومت کو بھی بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ سیاسی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ طبی نگرانی میں وانگچک کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سونم وانگیال اور سونم وانگچک کی بھوک ہڑتالوں کے درمیان تقریباً ۴۲؍ برس کا فاصلہ ضرور ہے، لیکن دونوں احتجاجات نے لداخ سے متعلق قومی سطح پر بحث کو نئی سمت دی۔ ایک طرف ۱۹۸۴ء میں آئینی شناخت کا مطالبہ تھا، جبکہ دوسری طرف موجودہ احتجاج نے عوامی پالیسی، تعلیم اور حکومتی جواب دہی جیسے موضوعات کو دوبارہ قومی مکالمے کا حصہ بنا دیا ہے۔