Inquilab Logo Happiest Places to Work

دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے

Updated: May 26, 2026, 1:35 PM IST | Firdous Anjum | Mumbai

والدین اپنے عمل سے بچوں کیلئے نمونہ بنیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹنے (کھلونے، کھانے کی چیزیں)، غریبوں کی مدد کرنے اور نرم گفتاری جیسی چھوٹی باتوں کو اختیار کرنے کی تربیت دی جائے۔

Involve children in charitable works to develop feelings of brotherhood and sacrifice in them. Photo: INN
رفاہی کاموں میں بچوں کو شامل کریں تاکہ ان میں بھائی چارے اور ایثار کے جذبات فروغ پائیں۔ تصویر: آئی این این

ایثار کے لغوی معنی ’’دوسروں کو خود پر ترجیح دینا‘‘ کے ہیں۔ یہ ایک ایسی اعلیٰ انسانی صفت ہے جو کسی بھی معاشرہ کو امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بناتی ہے۔ مگر افسوس آج معاشرہ میں ایثار کا جذبہ تیزی سے ماند پڑ رہا ہے جو ایک صحتمند اور پُر امن معاشرت کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔

جذبۂ ایثار کی کمی کے اسباب

مادیت پرستی: آج انسان مادی اشیاء کی دوڑ میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ ہر چیز کو نفع اور نقصان کے ترازو میں تولنے لگا ہے۔ آگے بڑھنے کی ہوڑ نے اس سے ہمدردی، رحمدلی اور قربانی کا جذبہ چھین لیا ہے۔

خاندانی نظام: انفرادی طرزِ زندگی نے انسان کو تنہائی اور خود غرضی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ خود نمائی اور دکھاوے کی سوچ نے گھر کے افراد کو بھی ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑوسیوں کے حالات سے باخبر رہنا بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بقرعید کی پیشگی تیاریاں کر لیجئے

سوشل میڈیا اور مصنوعی روابط: آج بیشتر تعلقات رسمی اور نمائشی ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کو حقیقی رشتوں سے دور کرکے مصنوعی دنیا میں الجھا دیا ہے۔ نتیجتاً ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری میں کمی آگئی ہے۔ اب لوگ کسی حادثے یا مشکل میں گھرے فرد کی مدد کرنے کے بجائے اس کی ویڈیو بنانے کو ترجیح دیتے ہیں جو اخلاقی زوال کی انتہا ہے۔

تربیت کا فقدان: جدید نظامِ تعلیم اور والدین کی تربیت کا محور صرف کامیابی، مقابلہ آرائی اور اعلیٰ نمبروں کا حصول بن چکا ہے۔ بچوں کو اخلاقیات، خدمت ِ خلق، صبر، رواداری اور ایثار کی عملی تعلیم کم ہی دی جاتی ہے۔ جس سےنئی نسل ذہنی طور پر ترقی یافتہ بن رہی ہے لیکن اخلاقی اعتبار سے کمزور ہو رہی ہے۔

معاشی بدحالی: بڑھتی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے لوگوں میں خوف اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ اگر اس نے دوسروں پر خرچ کیا تو شاید وہ خود محتاج ہو جائیگا۔ یہی احساس رفتہ رفتہ خود غرضی کو جنم دیتا ہے اور جذبۂ ایثار کو کمزور کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے

دینی اور اخلاقی تعلیمات سے دوری: اسلام اور دیگر مذاہب انسانیت، بھائی چارے اور ایثار کا درس دیتے ہیں۔ لیکن دینی اور اخلاقی اقدار سے دوری کے سبب لوگوں میں دوسروں کے لئے قربانی دینے کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

مغربی طرز معاشرت کا اثر: جدید ذرائع ابلاغ نے دنیا کو عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے مگر اسکے نتیجے میں مغربی تہذیب اور آزاد خیالی کے اثرات نئی نسل کی سوچ پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اندھی تقلید نے ہماری اخلاقی اقدار اور مشرقی روایات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایثار، حیا اور باہمی احترام جیسے اوصاف ماند پڑتے جا رہے ہیں۔

جذبۂ ایثار کے فروغ کیلئے تجاویزات

دینی اور اخلاقی تعلیمات کا فروغ: اسلام نے ایثار کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ ہمیں حضور اکرمؐ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے، جنہوں نے ہمیشہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔ ساتھ ہی گھروں، اسکولوں اور سماجی اداروں میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے تاکہ ان میں محبت، ہمدردی اور خدمت ِ خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔

گھریلو تربیت اور کردار سازی: والدین کو چاہئے کہ وہ خود اپنے عمل سے بچوں کیلئے نمونہ بنیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹنے (کھلونے، کھانے کی چیزیں)، غریبوں کی مدد کرنے اور نرم گفتاری جیسی چھوٹی باتوں کو اختیار کرنے کی تربیت دی جائے۔ کیونکہ بہترین تربیت وہی ہوتی ہے جو عمل کے ذریعے دی جائے۔

تعلیمی نصاب میں اصلاح: تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں بلکہ اچھے انسان تیار کرنا بھی ہونا چاہئے۔ نصاب میں ایسی کہانیاں، مضامین اور عملی سرگرمیاں شامل کی جائیں جو طلبہ میں ہمدردی، سخاوت اور سماجی خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔

میڈیا کا مثبت کردار: میڈیا معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ ایسے پروگرام نشر کریں جو انسانیت، بھائی چارے، خدمت ِ خلق اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کو مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد بنانے کی ضرورت

سماجی شعور کی بیداری: لوگوں کو رفاہی کاموں، خیراتی سرگرمیوں، خون کے عطیات دینے اور سماجی خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دینی چاہئے۔ جس سے ان میں دوسروں کیلئے جینے اور معاشرے کے مفاد کو ترجیح دینے کا شعور پیدا ہو۔

حکومتی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی: حکومت اور سماجی اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے فلاحی نظام کو مضبوط کریں جہاں لوگوں کو رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے مواقع فراہم ہوں۔ اس سے معاشرہ میں تعاون، بھائی چارے اور ایثار کے جذبات فروغ پائینگے۔

معاشرہ افراد کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک خوبصورت اور پرامن نہیں بن سکتا جب تک اس کے افراد ایک دوسرے کے درد کو محسوس نہ کریں۔ جب ہم دوسروں کی راہ میں چراغ روشن کرتے ہیں تو ہمارا اپنا راستہ منور ہو جاتا ہے۔ پس، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ذاتی خواہشات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK