والدین اور اساتذہ اکثر بچوں سے غیر معمولی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں۔ بچہ اول آئے، زیادہ نمبرلے اور ہر میدان میں نمایاں نظر آئے۔ بظاہر قابل قبول نظر آنے والی توقعات کے کئی خطرناک پہلو بھی ہیں۔ اسی سوچ نے بچوں سے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 2:24 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai
والدین اور اساتذہ اکثر بچوں سے غیر معمولی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں۔ بچہ اول آئے، زیادہ نمبرلے اور ہر میدان میں نمایاں نظر آئے۔ بظاہر قابل قبول نظر آنے والی توقعات کے کئی خطرناک پہلو بھی ہیں۔ اسی سوچ نے بچوں سے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جدید ٹکنالوجی، تعلیمی دباؤ، معاشرتی مقابلے اور خاندانی مسائل نے بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ بچوں اور نو عمروں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل مندرجہ ذیل نوعیت کے ہوسکتے ہیں:
ذہنی دباؤ اور تعلیمی پریشانی: آج کے دور میں بچوں پر تعلیمی دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ والدین اور اساتذہ اکثر بچوں سے غیر معمولی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں۔ بچہ اول آئے، زیادہ نمبرلے اور ہر میدان میں نمایاں نظر آئے۔ بظاہر قابل قبول نظر آنے والی توقعات کے کئی خطرناک پہلو بھی ہیں۔ اسی سوچ نے بچوں سے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔مسلسل امتحانات، ہوم ورک، کوچنگ کلاسیز اور مقابلے کی فضا بچوں کو ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ ان میں ناکامی کا خوف پیدا کردیتی ہے۔ اگر ان کے نمبر کم آجائیں تو وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی کیفیت ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو جنم دیتی ہے۔ یہ ایسی کیفیت ہے کہ جو بچہ اچھا پرفارم کرسکتا تھا اس دباؤ کے سبب اس کی کارکردگی اور خوداعتمادی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: موسم گرما میں آپ کا ریفریجریٹر بھی خصوصی توجہ چاہتا ہے
احساسِ کمتری اور خود اعتمادی کی کمی: بچوں کا اوروں سے موازنہ کرنا ایک خطرناک رویّہ ہے۔ بعض والدین ہر وقت اپنے بچوں کو دوسروں سے کم تر ثابت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں بچہ زیادہ ذہین، خوبصورت یا کامیاب ہے۔ ایسے جملے بچوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔جب بچے کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے کم ہے تو اس کی خود اعتمادی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ہر کام میں خوف محسوس کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتا ہے۔ ہم آئے دن اس رویے کے برے نتائج کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اسکے باوجود بچوں کے ساتھ یہ رویہ اپنایا جارہا ہے جو تشویشناک ہے۔
ڈپریشن اور ذہنی بے سکونی: ڈپریشن اب صرف بڑوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ بچے اور نوعمر بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اداس رہنا، خاموش رہنا، لوگوں سے دوری اختیار کرنا، کسی کام میں دلچسپی نہ لینا اور مایوسی محسوس کرنا ڈپریشن کی علامات ہیں۔ بعض بچے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے۔ وہ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔ اگر ان کے مسائل کو سمجھا نہ جائے تو یہ کیفیت شدید ذہنی بیماری کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
تنہائی اور عدمِ تحفظ: والدین کی مصروفیات اور خاندانی دوریوں نے بچوں میں تنہائی کا احساس بڑھا دیا ہے۔ والدین کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے وہ موبائل فون یا انٹرنیٹ میں گم رہتے ہیں۔جب انہیں اپنی بات سننے والا کوئی نہیں ملتا تو وہ تنہائی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خاندانی جھگڑے، سخت رویّے اور محبت کی کمی سے اُن میں عدمِ تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے بچے خوفزدہ اور ذہنی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جب بچہ والدین اور افراد خانہ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتا تو باہر کے اثرات قبول کرنے لگتا ہے۔ یا تو وہ بری صحبت میں چلا جاتا ہے یا برے لوگوں کی برائیاں اپنانے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نفسیاتی مسائل میں اُلجھ کر اپنوں سے علاحدہ رہنا عام ہو چکا ہے
موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال: موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد ہیں لیکن اس کا بے جا استعمال بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ گھنٹوں موبائل گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر وقت گزارنے کے سبب ان کی توجہ کمزور ہوتی ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور وہ حقیقی زندگی سے دور ہونے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی مصنوعی زندگی دیکھ کر وہاں کے بظاہر خوشنما ماحول سے اپنے ماحول کا موازنہ کرنے اور واضح فرق نظر آنے سے ان میں چڑچڑاپن اور ناپسندیدگی در آتی ہے۔
غصہ،ضد اور جارحانہ رویّے: بعض بچے معمولی بات پر غصہ کرنے لگتے ہیں۔ چیخنا، لڑنا، ضد کرنا اور اشیاء پھینکنا یا توڑنا ان کا معمول بن جاتا ہے۔ یہ رویّے اکثر ذہنی دباؤ، سختی، توجہ کی کمی یا غیر معتدل گھریلو ماحول کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ محبت اور سکون سے محروم بچے اپنے جذبات کو غصے اور جارحیت کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔ اگر بروقت رہنمائی نہ ملے تو یہ عادت مستقبل میں خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔
گھریلو جھگڑے اور منفی ماحول: گھر اور گھر کا ماحول بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول پُرسکون نہ ہو اور والدین کے درمیان مسلسل لڑائی جھگڑے ہوں تو بچے کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ ایسے بچے خوف، بے چینی اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ بعض بچے خاموش ہوجاتے ہیں جبکہ بعض بدتمیزی اور جارحیت پر اُتر آتے ہیں۔ بچوں کے دل ودماغ پر خاندانی کشیدگی کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نفسیاتی مسائل کی شناخت اہم اور ان کا بروقت حل ضروری
مسائل کا حل:(۱) محبت، توجہ اور اعتماد کی فضا میں والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اہمیت دیں۔ جب بچے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں تو ان کی ذہنی کیفیت بہتر ہوتی ہے۔
(۲) گھر میں محبت، برداشت اور احترام کا ماحول قائم کیا جائے۔ بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا نہ ہو، تلخ کلامی سے پرہیز کیا جائے۔ گھر کا خوشگوار ماحول بچے کی ذہنی نشوونما کی ضمانت ہوتا ہے۔
(۳) والدین کو چاہئے کہ بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ نہ ڈالیں۔ ہر بچے کی ذہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ کامیابی کی پیمائش صرف نمبروں سے نہ ہو بلکہ ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو بھی اہمیت دی جائے۔ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت اور صلاحیت بھی اوروں سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لئے اسے اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر ان پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔
(۴) موبائل فون کیلئے مناسب وقت مقرر کیا جائے۔ بچوں کو کھیل، مطالعہ، ورزش اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ حقیقی زندگی سے جڑیں اور موبائل کے بے جا استعمال سے دور رہ سکیں۔
(۵) بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا چاہئے۔ مسلسل تنقید اور موازنہ ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتا ہے جبکہ مثبت تربیت شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔ ان میں کچھ کردکھانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
(۶) کھیل کود اور ورزش ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے ضروری ہیں۔ جسمانی سرگرمیوں سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور بچوں میں خوشی اور تازگی پیدا ہوتی ہے۔
(۷) دینی تعلیم انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ بچوں میں صبر، شکر، سچائی، برداشت اور احترام جیسے اخلاق پیدا کئے جائیں تو ان کی شخصیت بھی متوازن ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: تکیے پر پیلے داغ پڑ گئے ہوں، بدنما دکھائی دے تو ان طریقوں کو اپنائیں
(۸) اساتذہ کو بچوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا رویّہ اختیار کرنا چاہئے۔ اگر کسی بچے میں شدید ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی علامات ظاہر ہوں تو بروقت رہنمائی اور علاج کیلئے ماہر نفسیات سے رجوع کیا جائے۔
بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے والدین، اساتذہ اور معاشرہ کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ محبت، مثبت تربیت اور پُرسکون ماحول ہی سے ذہنی طور پر مضبوط اور کامیاب نسل کی تعمیر ممکن ہوگی۔