واشی کی ڈاکٹر صدف امجد کانڈے ہیئر اینڈ اسکن اسپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے سینٹ جوزف ہائی اسکول (آگری پاڑہ) سے ابتدائی تعلیم جبکہ سی ایم پی میڈیکل کالج (اندھیری) سے بی ایچ ایم ایس اور کلینکل ریسرچ سے پی جی مکمل کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 3:21 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai
واشی کی ڈاکٹر صدف امجد کانڈے ہیئر اینڈ اسکن اسپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے سینٹ جوزف ہائی اسکول (آگری پاڑہ) سے ابتدائی تعلیم جبکہ سی ایم پی میڈیکل کالج (اندھیری) سے بی ایچ ایم ایس اور کلینکل ریسرچ سے پی جی مکمل کیا ہے۔
واشی کی ڈاکٹر صدف امجد کانڈے ہیئر اینڈ اسکن اسپیشلسٹ ہیں۔ انہوں نے سینٹ جوزف ہائی اسکول (آگری پاڑہ) سے ابتدائی تعلیم جبکہ سی ایم پی میڈیکل کالج (اندھیری) سے بی ایچ ایم ایس اور کلینکل ریسرچ سے پی جی مکمل کیا ہے۔ اُن کا گُڈ لائف ویل نیس کلینک ہے۔ وہ مریضوں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری اور بچوں کی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھاتی ہیں۔
رمضان کے معمول کے متعلق کہتی ہیں، ’’ مَیں صبح ساڑھے ۱۰؍ بجے سے رات کے نو دس بجے (مریضوں کے اپائمنٹ پر منحصر ہے) تک کلینک میں مریضوں کو دیکھتی ہوں۔ رمضان میں افطار کے لئے ایک گھنٹہ کا وقفہ لیتی ہوں۔ چونکہ مجھے افطار تیار کرکے روزہ کھولنا ہوتا ہے اس لئےاس ایک گھنٹے میں سارے کام سمیٹنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایک مریض کی تشخیص میں تقریباً ۴۵؍ منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس دوران مریض سے مسلسل بات کرنی ہوتی ہے۔ روزے کی حالت میں مسلسل بولنے سے پیاس کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی بھوک بھی بے چین کر دیتی ہے۔ اس دوران مَیں ان لوگوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو تپتی دھوپ میں سخت محنت کرتے ہیں۔ اس طرح خود کو تسلی دیتی ہوں کہ اُن کے مقابلے میں تو اللہ نے مجھے بڑی آسانی دی ہے، الحمدللہ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: زینت ایڈوکیٹ ہیں، کئی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں مگر روزہ ترک نہیں کرتیں
ڈاکٹر صدف کو ایک بیٹی (۹؍ سال) اور بیٹا (۱۴؍ سال) ہے۔ ان کا کلینک اور گھر ایک ہی جگہ ہے۔ بالائی منزل پر گھر ہے جبکہ نیچے کلینک ہے، اس طرح انہیں کافی سہولت ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’عام طور پر میرے معمولات پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن سنیچر کو زیادہ مریض آتے ہیں کیونکہ اتوار کلینک بند ہوتا ہے،اس لئے اس دن مصروفیت بڑھ جاتی ہے۔ اس صورت میں مَیں صبح افطار کے لوازمات کی تیاری کر لیتی ہوں۔ اس کے علاوہ رمضان سے قبل مَیں کچھ آئٹم تیار کرکے فریزر میں محفوظ کرلی ہوں۔ اس دوران مہمان بھی آجائے تو مَیں فریزر سے چیزیں نکال کر تل لیتی ہوں۔ اگر کبھی افطار کے وقت کوئی پیشنٹ آجائے تو مَیں ان کا بلڈ سیمپل (جو علاج کا حصہ ہے) لے کر انتظار کرنے کے لئے کہتی ہوں۔ کلینک سے آنے کے بعد رات کا کھانا بناتی ہوں۔ سحری میں جو کھانا ہے اس کی تیاری بھی رات میں کرتی ہوں۔ مجھے کھانا بنانے میں زیادہ دشواری نہیں ہوتی کیونکہ مَیں کم وقت اور کم محنت طلب پکوان کو ترجیح دیتی ہوں۔ ہم لوگ دلیہ، اُبلے ہوئے انڈے، خشک میوہ جات، کھجور وغیرہ سحری میں کھاتے ہیں۔ یہی معاملہ دیگر پکوانوں کے ساتھ بھی ہے۔ روزہ کے ساتھ نماز پڑھتی ہوں۔ کلام پاک کی تلاوت بھی جاری رہتی ہے۔ سحری میں جلدی اُٹھ کر تہجد بھی پڑھتی ہوں۔ چونکہ میرے معمولات ایسے ہیں کہ تھوڑا سا بھی فارغ وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے اس لئے نیند کم ملتی ہے۔ اکثر سحری میں بیدار ہوتے وقت اٹھنے کا جی نہیں چاہتا۔ تھک جاتی ہوں۔ خود کو نڈھال محسوس کرتی ہوں لیکن اللہ ہمت دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں یہ عادتیں آپ کو ہشاش بشاش رکھیں گی
طالب علمی کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’اس زمانے میں روزے بڑے سخت گزرتے تھے۔ اکثر سفر کے دوران روزہ کھلتا تھا۔ اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران اگر کسی کا انتقال ہوگیا یا ایمرجنسی ہے تو صورتحال اور سخت ہوجاتی تھی۔‘‘ روزہ کی حالت میں ڈاکٹری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری اور بچوں کو سنبھالنے کی ہمت کیسی ملتی ہے؟ کے جواب میں کہتی ہیں ’’گھر والوں کے لئے کھانا بنانا، گھر کے دیگر کام انجام دینا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور مریضوں کو دیکھنا وغیرہ عبادت اور خدمت میں شامل ہیں۔ یہ سوچ مجھے طاقت اور ہمت دیتی ہے۔‘‘