Inquilab Logo Happiest Places to Work

شوق سے کھایا جاتا ہے مومو، کیا صحت کے اعتبار سے فائدہ مند ہے؟

Updated: June 30, 2026, 5:18 PM IST | Mumbai

گلی نکڑ سے لے کر بڑی ہوٹلوں تک، مومو نے اپنی خاص پہچان بنا لی ہے۔ بیشتر گھروں کا یہ پسندیدہ ناشتہ بن گیا ہے۔ یہ بھاپ میں پکا ہوا ذائقہ دار ہوتا ہے لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ یہ صحت کے حوالے سے فائدہ مند ہے یا نہیں؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گلی نکڑ سے لے کر بڑی ہوٹلوں تک، مومو نے اپنی خاص پہچان بنا لی ہے۔ بیشتر گھروں کا یہ پسندیدہ ناشتہ بن گیا ہے۔ یہ بھاپ میں پکا ہوا ذائقہ دار ہوتا ہے لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ یہ صحت کے حوالے سے فائدہ مند ہے یا نہیں؟

انڈیا ٹوڈے کے مطابق، ماہر غذائیت روجوتا دیویکر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ہر مومو صحت بخش نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، ’’جب آپ پہاڑوں میں ٹریکنگ کر رہے ہوں اور کسی ہوم اسٹے پر تازہ تیار کردہ مومو کھائیں، تو یہ نہ صرف ثقافتی لحاظ سے موزوں ہوتا ہے بلکہ صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی مومو سڑک کنارے یا کیفے کے چھوٹے اسٹالز پر دستیاب ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک عام اسٹریٹ فوڈ بن جاتا ہے، جو ہر بار صحت بخش نہیں ہوتا۔ دیویکر صحتمند طرز زندگی اور متوازن خوراک کی قائل ہیں۔ ان کے مطابق، اپنی روایتی اور موسمی غذاؤں کو ترجیح دینا زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے جسم کو توانائی اور بہترغذائیت ملتی ہےاور کھانے کے ساتھ تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رائل بلیو لُک آپ کو بخشے شاہانہ انداز

ماہر غذائیت یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ اگر آپ کا طرز زندگی صحت مند ہے تو ہفتے میں ایک بار مومو جیسے کھانے کا لطف اٹھانا بالکل ٹھیک ہے۔ البتہ، اس میں صفائی اور حفظان صحت کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ غیر معیاری اجزاء اور گندے ماحول صحت کے لئے نقصاندہ ہو سکتے ہیں۔ مومو میں استعمال ہونے والے آٹے کو عام طور پر میدے کا آٹا سمجھا جاتا ہے، جس کے حوالے سے ایک عام تاثر یہ ہے کہ یہ آنتوں میں پھنس جاتا ہے اور ہضم نہیں ہوتا۔ لیکن روجوتا دیویکر اس خیال کو غلط قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اگر آپ اچھی طرح کھا رہے ہیں تو ہر چیز ہضم ہو جاتی ہے، میں نے کبھی ایسا عمل نہیں دیکھا جہاں آٹا پیٹ میں پھنس جائے۔‘‘ اگرچہ مومو بہت مزیدار ہوتا ہے اور ہر کوئی اسے پسند کرتا ہے، لیکن اسے کھانے کا طریقہ آپ کی صحت پر اثر ڈالتا ہے۔ آپ چاہیں تو مومو کو کبھی کبھار خوشی کے لئے کھائیں لیکن اسے زیادہ نہ کھائیں کیونکہ اس میں کیلوریز بھی ہوتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسے اعتدال میں رہتے ہوئے کھایا جائے اور صفائی کا خاص خیال رکھیں، تاکہ آپ اپنا پسندیدہ کھانا بغیر کسی پریشانی کے مزے سے کھا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK