ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہنسنا مسکرانا صحت کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ورزش کرنا یا صحت مند غذا کھانا۔ اس لئے ہنستے مسکراتے رہیں یعنی ہر وقت خوش رہیں۔ خوش رہنا بہت مشکل کام نہیں ہے اس کیلئے چند اچھی عادتوں کو اپنا لینا کافی ہوتا ہے۔
اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے سے خوشی کے ہارمونز کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این
آج کے اس بھاگ دوڑ، مسابقت والی زندگی میں ہر کوئی تناؤ کا شکار ہے۔ خاص طور پر خواتین جن کو دن بھر مختلف رول ادا کرنا ہوتا ہے جس سے وہ جسمانی و ذہنی طور پر تھک جاتی ہیں۔ اسی طرح سے ملازمت پیشہ خواتین کو بھی جاب اور گھر میں توازن قائم کرنا ہوتا ہے، گھر فیملی کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے جس سے وہ جھنجھلاہٹ اور تناؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ڈپریشن کا شکار ہو کر بیمار ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں ہمیں خوش رہنے کا گُر معلوم کرنا ہوگا۔ خوشی سستی ہے بس جلدی کریں اور حاصل کریں۔ اصل میں خوشی کے ہارمونز ہوتے ہیں جو ہمارے جسم سے خارج ہوتے ہیں اور پھر ان کے اخراج سے ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔ چار ہارمونز جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے وہ یہ ہیں:
(۱) ڈوپامائن: ’انعام کا ہارمون‘ یہ ایک نیوٹرو ٹرانسمیٹر ہے جو دماغ میں سیکھنے، یادداشت اور دیگر چیزوں کے ساتھ یہ خوشگوار احساسات سے جڑا ہوا ہے۔
(۲)سیروٹونن: یہ موڈ ریگولیٹس، عمل انہضام، بھوک، نیند اور یادداشت میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
(۳) آکسیٹوسن: اسے ’محبت کا ہارمون‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں کی صحتمند تعلقات کیلئے اہم ہے۔ پیار کرنے، گلے ملنے، یا کسی کے ساتھ معیاری وقت گزارنے سے اس کی سطح بڑھتی ہے۔
(۴) اینڈروفنز: وہ ہارمون ہیں جو جسم قدرتی طور پر تناؤ یا تکلیف کے ردّعمل میں درد کو کم کرنے کے لئے تخلیق کرتا ہے۔ کھانے، ورزش، تعلقات جیسے رویوں کی وجہ سے بھی اس کی سطح بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل کو پیغام دیں کہ انسان کی اصل دولت اس کے رشتے ہیں
خوشی کے ہارمونز کو بڑھانے کے لئے چند اہم اور آسان طریقے یہ ہیں:
سورج کی روشنی میں بیٹھنا: مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سورج سے نکلنے والی یو وی شعاعیں انسانی جسم میں سیروٹونن کی پیداوار کو فروغ دیتی ہیں۔ روزانہ سورج کے نیچے چند منٹ گزارنا بہتر ہے۔
دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں: ہنسنے مسکرانے سے جسم میں ڈوپائن اور اینڈروفن کی پیداوار بہتر ہوتی ہے اور انسان اپنے دوستوں کے ساتھ بے تکلفی سے ہنستا ہے اس سے تناؤ کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مزاحیہ پروگرام رکھیں۔ یہ سب فلم منا بھائی کی ’جادو کی جپھی‘ کی طرح کام کرتا ہے۔
ورزش ضرور کریں: ورزش باقاعدگی سے کرنے سے اینڈورفن، سیروٹونن اور ڈوپامائن کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مجموعی صحت کے لئے بہت بہتر ہے۔ فطرت کے ہمیشہ قریب رہیں۔ پارک کی کھلی فضا میں وقت گزاریں۔
خوراک بہت اہم ہے: خوشی کے ہارمونز کی تیاری میں کھانے کی قسم بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لذیذ کھانا اینڈورفنز کو متحرک کرتا ہے اور گوشت، دہی، انڈے اور پھلیاں ڈوپامائن کی پیداوار کو بڑھاتی ہیں۔ سبز چائے، ڈارک چاکلیٹ، پروبائیوٹکس، اسموتھی وغیرہ خوشی کے ہارمونز کی سطح کو بڑھاتی ہیں جبکہ جنک فوڈ ڈوپامائن کی سطح کو کم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش کا موسم: چھتری اور رین کوٹ خریدتے وقت اِن باتوں کو دھیان میں رکھیں
موسیقی جادو کا کام کرتی ہے: موسیقی کی وہ صنف جو آپ کو خوشی دیتی ہے، انسانی جسم میں ڈوپامائن اور سیروٹونن کی پیداوار کو متحرک کرتی ہے اور موڈ کو بہتر بناتی ہے۔
یوگا: باقاعدگی سے یوگا کرنے سے ڈوپامائن کی سطح بڑھتی ہے اور تناؤ کم ہوتا ہے۔
رشتوں کو نبھائیں: اپنوں کے ساتھ وقت گزارنا، بات چیت کرنا اور پیاروں کو گلے ملنے سے آکسیٹونن تیزی سے بڑھتا ہے۔ کسی کی مدد کرنے یا تحفہ دینے سے بھی خوشی ملتی ہے۔
مساج کریں: مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک اچھا مساج چاروں خوشی کے ہارمونز کے اخراج کو متحرک کر دیتا ہے۔
موبائل فون سے دوری: اگر آپ اپنے موبائل کی اسکرین پر بہت زیادہ چپکے ہوتے ہیں تو اس سے خوشی کا ہارمون بھی آپ کے جسم سے غائب ہوجائیگا۔ اسکرین کی عادت ایک ایسا نشہ ہے جس میں لوگ ڈوبے رہتے ہیں اور نہ ملے تو پاگل ہوجاتے ہیں۔ وہ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ایسے شخص میں آکسیٹوسن اور سیروٹونن ہارمونز کا اخراج رک جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رائل بلیو لُک آپ کو بخشے شاہانہ انداز
ذیل میں روزمرہ کی چند عام عادتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو خوشی بڑھاتی ہیں:
شکر گزاری: روزانہ ۳؍ ایسی چیزیں لکھیں جن کے لئے آپ اللہ کے شکر گزار ہیں۔
نیند پوری کریں: سات آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند ذہنی سکون کے لئے ضروری ہے۔
منفی سوچ سے گریز: منفی خیالات کو مثبت سوچ سے تبدیل کریں۔
حوصلہ دیں: بچوں کی چھوٹی بڑی کامیابی پر تعریف کریں اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو خوش رکھنا ایک انتخاب ہے۔ اچھی عادت، متحرک طرز زندگی اور مثبت سوچ سے آپ قدرتی طور پر ان خوشی کے ہارمونز کو بڑھا سکتی ہیں۔