Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کی تربیت کیلئے ماں کے اوصاف: حکمت، دانائی اور صبر

Updated: April 02, 2026, 3:26 PM IST | Naila Rehan Mominaati | Mumbai

انسانی معاشرہ دراصل ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں گھروں میں پیوست ہوتی ہیں، اور ان گھروں کی بنیاد ماں کی گود سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کو بجا طور پر بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔

Instead of fear and intimidation, children should be given an environment of love and trust. Photo: INN
ڈر اور خوف کے بجائے بچوں کو محبت اور اعتماد کا ماحول دیں۔ تصویر: آئی این این

انسانی معاشرہ دراصل ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں گھروں میں پیوست ہوتی ہیں، اور ان گھروں کی بنیاد ماں کی گود سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کو بجا طور پر بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ ایک بچہ جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے جس ہستی سے اس کا تعارف ہوتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہی اس کی پہلی معلمہ، مربیہ اور رہنما ہوتی ہے۔

ماں کی آغوش بچے کے لئے صرف محبت اور سکون کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی شخصیت سازی کا پہلا مرکز بھی ہوتی ہے۔ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں نقل کے ذریعے سیکھتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے، وہی اپناتا ہے۔ اگر ماں سچ بولتی ہے، نرم گفتگو کرتی ہے، صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے اور دینی اقدار کی پابند ہوتی ہے تو بچہ بھی انہی صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ماحول میں سختی، جھوٹ یا بے صبری ہو تو اس کے منفی اثرات بھی بچے کی شخصیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بچوں کی تربیت ایک نازک اور مسلسل عمل ہے جس کیلئے صرف محبت کافی نہیں بلکہ حکمت، دانائی اور صبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کو چاہئے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجھے، ان کے مزاج اور رجحانات کا خیال رکھے اور ان کے مطابق تربیت کا انداز اختیار کرے۔ ہر بچہ ایک الگ شخصیت رکھتا ہے، اس لئے اس کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرنا بعض اوقات مفید ثابت نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے: دارچینی اور لونگ بے خوابی اور سر درد جیسے مسائل میں اکسیر

دینی تربیت کے حوالے سے ماں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرمؐ کی سیرت سے وابستگی، نماز کی پابندی اور قرآنِ کریم سے تعلق پیدا کرنا ماں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر بچہ بچپن ہی سے دین کی بنیادوں سے واقف ہو جائے تو بڑے ہو کر وہ ایک باکردار اور ذمہ دار فرد بنتا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا، موبائل فون اور دیگر جدید ذرائع نے بچوں کی توجہ کو مختلف سمتوں میں تقسیم کر دیا ہے، وہاں ماں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسے چاہئے کہ بچوں کے وقت کے استعمال پر نظر رکھے، ان کی مصروفیات کو مثبت رخ دے، اور انہیں کتابوں، کھیلوں اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف مائل کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے دوستوں اور صحبت پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ صحبت کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: با اعتماد خواتین ایک مضبوط معاشرہ کی بنیاد اور مشعلِ راہ

ایک کامیاب ماں وہ ہے جو بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے۔ انہیں ڈر اور خوف کے بجائے محبت اور اعتماد کا ماحول دے تاکہ بچہ بلاجھجک اپنے مسائل اور خیالات کا اظہار کرسکے۔ جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات غور سے سنی جا رہی ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ غلط راستوں سے بچنے کے قابل ہوتا ہے۔

ماں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی تربیت اور علمی ترقی پر بھی توجہ دے۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچوں کی بہتر رہنمائی کرسکتی ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے واقف ہو تاکہ وہ بچوں کے سوالات کا تسلی بخش جواب دے سکے اور انہیں جدید چیلنجز کے مقابلے کے لئے تیار کرسکے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ماں کی تربیت صرف بچپن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات پوری زندگی قائم رہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات کے پیچھے ایک عظیم ماں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ماں کی دعائیں، اس کی محنت اور اس کی قربانیاں ہی بچے کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ خواتین زمانے کو بدلنے کیلئے پیدا ہوتی ہیں

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم ایک صالح، باکردار اور مثالی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ماؤں کے کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی ہوگی اور انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلانا ہوگا۔ کیونکہ ایک اچھی ماں نہ صرف ایک اچھا بچہ بلکہ ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK