عورت کا وجود وہ چراغ ہے جو طوفان میں بھی بجھنے سے انکار کرتا ہے۔ زندگی اس کے راستے میں پہاڑ رکھتی ہے، مگر وہ ان پہاڑوں میں راستے تراشنا جانتی ہے۔ اور اسی لئے شاعر نے سچ کہا ہے: وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ اس مضمون میں دُنیا کی سات عظیم خواتین کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ہر خاتون کیلئے مثال ہیں۔
عورت ایک ایسی تخلیق ہے جو صرف سانس نہیں لیتی، زندگی کو زندگی دیتی ہیں۔ اس کی آنکھوں میں کبھی ماں کی ٹھنڈک، کبھی بیٹی کی شرم، کبھی بہن کی فکر، کبھی بیوی کی خاموش قربانی، اور کبھی لیڈر کی گرج ہوتی ہے۔ وہ خود ٹوٹ جائے تو بھی چولہا جلائے رکھتی ہے، خود تھک جائے تو بھی بچوں کو ہنسا دیتی ہے، خود رو لے تو بھی دوسروں کے آنسو پونچھ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کھانے کے فوراً انجام دی جانیوالی یہ سرگرمیاں صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
اس کا وجود کیا ہے؟
یہ وہ چراغ ہے جو طوفان میں بھی بجھنے سے انکار کرتا ہے۔ زندگی اس کے راستے میں پہاڑ رکھتی ہے، مگر وہ ان پہاڑوں میں راستے تراشنا جانتی ہیں۔ اور اسی لئے شاعر نے سچ کہا ہے: وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ/ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں!
کچھ عورتیں زمانے کی بھیڑ میں گم نہیں ہوتیں.... وہ اپنی روشنی سے زمانے کو راستہ دکھاتی ہیں۔ آئیے آج ایسی ہی سات عظیم عورتوں کو یاد کریں جو نہ صرف اپنے گھروں، بلکہ پوری دنیا کے دلوں میں روشن ہیں۔
مدر ٹریسا: درد کو مرہم بنانے والی عورت
مدر ٹریسا نے کبھی اپنے لئے کچھ نہ مانگا۔ دنیا نے انہیں صدیوں بعد بھی صرف ان کے نرم ہاتھوں سے یاد رکھا.... وہ ہاتھ جو بیماروں کو چھو لیں تو درد پگھل جائے۔
کولکاتا کی گندی گلیاں، بھوک، غربت، بیماریاں چاروں طرف جنہیں دیکھنا لوگ پسند نہ کرتے تھے، مدر ٹریسا نے انہیں سینے سے لگا لیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسکرین سے باہر کی حقیقی دُنیا کیسے دریافت ہو؟
ان کا سبق آج ہر عورت کے لئے ہے:
عظمت بڑے لفظوں میں نہیں، بڑے کاموں میں ہوتی ہے۔
اندرا گاندھی: وہ عورت جو خود ایک ادارہ تھی
اندرا گاندھی.... صرف ’آئرن لیڈی‘ نہیں تھیں، وہ ایک بیٹی بھی تھیں، ماں بھی، اور ایک مضبوط وزیراعظم بھی۔
انہوں نے دکھایا کہ:
قیادت طاقت سے نہیں، ذمہ داری نبھانے کے حوصلے سے بنتی ہے۔
سدھا مورتھی: سادگی میں چھپی ہوئی عظمت
سدھا مورتھی کے پاس نہ زیورات کے ڈھیر، نہ شان و شوکت.... ان کے پاس صرف ایک دولت تھی: ’’خدمت خلق کا جذبہ‘‘ انہوں نے تعلیم، انسانیت اور غربت کے میدان میں وہ پودے بوئے جو آج لاکھوں گھروں کے لئے سایہ بن گئے ہیں۔
ان کا سبق:
عظمت کیلئے اونچی آواز نہیں اونچا کردار چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ازدواجی زندگی کا حسن: چھوٹی باتیں، بڑے اثرات
کرن بیدی: انصاف کی وردی پہننے والی عورت
بھارت کی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر.... جرأت، دیانت اور انصاف کا چلتا پھرتا نمونہ۔ انہوں نے جیلوں کی اصلاح کی، کرپشن کیخلاف کھڑی ہوئیں، اور مظلوموں کیلئے ڈھال بنیں۔
کرن بیدی نے ثابت کیا:
عورت کی کمزوری.... صرف اس کا وہم ہے، حقیقت نہیں۔
میری کوم: زخموں کو ہمت بنانے والی عورت
میری کوم کی ہر جیت ایک میڈل نہیں.... ایک چیخ ہے جو وہ دنیا کو سناتی ہے: ’’مَیں کمزور نہیں ہوں!‘‘ ایک ماں جو بچوں کو سنبھالے، اور پھر باکسنگ رنگ میں پوری دنیا کو ہرا دے.... یہ صرف ایک عورت ہی کرسکتی ہے۔
ان کی کہانی ہر عورت کو یہ پیغام دیتی ہے:
تھک کر کبھی نہیں رکنا، خوابوں کو کبھی نہیں چھوڑنا۔
کلپنا چاولہ: وہ بیٹی جس نے آسمان کو چھو لیا
کلپنا چاولہ کے خواب زمین تک محدود نہ تھے۔ وہ کہتی تھیں ’’مَیں آسمان کو چھونا چاہتی ہوں....‘‘ لوگوں نے کہا ناممکن!
یہ بھی پڑھئے: پھول والی ہیئر کلپ نوعمر لڑکیوں میں کافی مقبول
مگر انہوں نے دنیا کو بتایا:
ناممکن صرف ایک لفظ ہے.... حقیقت نہیں۔ وہ ستاروں میں گم ضرور ہوئیں، مگر ان جیسی عورتیں کبھی نہیں مرتیں..... وہ خواب بن کر زندہ رہتی ہیں۔
ولما روڈولف: معذوری کے باوجود
دنیا کی تیز ترین عورت
بچپن میں پولیو، ڈاکٹروں کا فیصلہ:
’’یہ کبھی چل نہیں سکے گی....‘‘
مگر ولما روڈولف نہ صرف چلی.... وہ دوڑی، تیزی سے دوڑی، اور اولمپکس میں تین طلائی تمغے جیت لئے۔
یہ بھی پڑھئے: عورت بھی نگراں ہے اپنی ذمہ داریوں کی...
ان کی زندگی ہر عورت کو یاد دلاتی ہے:
دنیا کچھ بھی کہے، فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ آپ کیا کرسکتی ہیں۔
عورت وہ ہستی ہےجو دنیا بدلنے آئی ہے۔ یہ ساتوں عورتیں ایک ہی حقیقت کی گواہ ہیں: عورت کمزور نہیں.... عورت وہ ہے جو دنیا بدلتی ہے۔ اگر:
٭ مدر ٹریسا دلوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہیں،
٭ میری کوم دنیا کو دکھا سکتی ہیں کہ ماں کمزور نہیں،
٭ کرن بیدی انصاف لا سکتی ہیں،
٭ ولما روڈولف ناممکن کو ممکن کر سکتی ہیں،
٭ اندرا گاندھی قوم کی رہنمائی کر سکتی ہیں،
٭ کلپنا چاولا ستارے چھو سکتی ہیں،
٭ سدھا مورتھی انسانیت کو روشن کر سکتی ہیں....
تو آپ بھی کر سکتی ہیں! آپ کے اندر بھی وہی روشنی، وہی ہمت، وہی طاقت ہے۔ عورت کمزور اور بے بس نہیں۔ عورت ایک انقلاب ہے۔ بقول شکیل اعظمی:
ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے
جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے!