Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول جانے والے بچوں کی محبت آمیز رہبری کیجئے!

Updated: June 08, 2026, 3:12 PM IST | Rafiqa Pallukar | Mumbai

ہمارے یہاں نئے تعلیمی سال کا آغاز عموماً موسم ِ باراں کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ اس لئے ماؤں اور بڑی بہنوں کو چاہئے کہ وقت سے پہلے بچوں کی ضروری تعلیمی اشیاء کا انتظام کر لیں۔

Mothers and older sisters should accompany their children on the first day of school to instill enthusiasm for learning in children. Photo: INN
ماؤں اور بڑی بہنوں کو بچوں کو اسکول کے پہلے دن ساتھ جانا چاہئے تاکہ بچوں میں پڑھائی کے تئیں جوش بڑھے۔ تصویر: آئی این این

تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی اور کامیابی کی منزل حاصل کرسکتی ہے۔ ایک بچّے کی بہترین اور حقیقی وراثت تعلیم ہے۔ بچوں کی تعلیمی کامیابی میں ماں اور بڑی بہنوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی گھر کے ماحول کو اس انداز سے ترتیب دینا چاہئے کہ بچے شوق اور اعتماد کے ساتھ اپنی پڑھائی کا آغاز کرسکیں:

ضروری تعلیمی اشیاء کی فراہمی:

ہمارے یہاں نئے تعلیمی سال کا آغاز عموماً موسم ِ باراں کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ اس لئے ماؤں اور بڑی بہنوں کو چاہئے کہ وقت سے پہلے بچوں کی ضروری تعلیمی اشیاء کا انتظام کر لیں۔ سب سے پہلے بچوں کے لئے قلم، پنسل، کاپیاں، ہلکا پھلکا بیگ، کتابیں، جوتے، چھتری اور یونیفارم خریدی جائے۔ ان ضروری اشیاء کی خریداری کے دوران بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہئے تاکہ وہ خود کو نئے تعلیمی سال کے لئے ذہنی طور پر تیار کرسکیں۔ جب بچے اپنی پسند کی تعلیمی چیزیں منتخب کرتے ہیں تو ان میں پڑھائی کے لئے جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور وہ نئے سال کا استقبال زیادہ دلچسپی اور اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہمسائے کے حقوق کا خیال رکھنا اخلاقی و مذہبی فریضہ ہے

منظم ٹائم ٹیبل ترتیب دیں:

بچوں کیلئے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے ایک منظم ٹائم ٹیبل ترتیب دینا بھی بہت ضروری ہے۔ وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ پڑھائی، کھیل کود، آرام، کھانے پینے اور دینی تعلیم کے اوقات متعین کئے جائیں تاکہ بچے نظم و ضبط کے عادی بن سکیں۔ ایک متوازن اور منظم ٹائم ٹیبل نہ صرف تعلیمی کارکردگی بہتر بناتا ہے بلکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مائیں اور بڑی بہنیں بچّوں کو ساتھ ملا کر ٹائم ٹیبل بنائیں تاکہ انہیں بعد میں ایسا نہ لگے کہ زبردستی اُنہیں پابند بنایا جا رہا ہے یا ماں یا بڑی بہنیں اُن پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں۔ باقاعدہ اُنہیں پوچھ پوچھ کر اور سمجھاتے ہوئے ٹائم ٹیبل ترتیب دیں۔ اس طرح بچّے بخوشی اس ترتیب کیساتھ جڑ جائینگے۔

گھر سے ہی ٹفن کی فراہمی:

بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کیلئے گھر سے غذائیت سے بھرپور اور متوازن ٹفن تیار کریں۔ ٹفن میں تازہ پھل، سبزیاں، گھر کے بنے ہوئے ہلکے پھلکے اسنیکس، روٹی یا سینڈوچ جیسی صحت بخش چیزیں شامل کریں۔ بازار کی غیر معیاری اور جنک فوڈ اشیاء سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔ ایک اچھا اور صحتمند ٹفن بچوں کو دن بھر توانائی فراہم کرتا ہے، ان کی توجہ اور تعلیمی کارکردگی بہتر بناتا ہے اور انہیں صحتمند عادات اپنانے میں مدد دیتا ہے۔ ٹفن کے معاملے میں ماؤں کو تساہلی نہیں برتنی چاہئے۔

اساتذہ سے رابطہ قائم رکھنا اور دوستوں سے باخبر رہنا:

ہر ہفتہ یا دو ہفتے بعد اپنے بچّے کی کلاس ٹیچر سے ملاقات کریں اور اس کی تعلیمی کارکردگی، رویے، حاضری اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہیں۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان مسلسل رابطہ بچے کی بہتر تربیت اور تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب بھی پیرنٹس میٹنگ ہوں ضرور جائیں۔ بچوں کے دوستوں سے باخبر رہیں۔ دوست آپ کے بچوں کا مستقبل یا تو بنا دیتے ہیں یا بگاڑ دیتے ہیں۔ اچھی صحبت ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ غلطیاں چہرے کی تازگی چھین لیتی ہیں

بچّوں کا مضبوط سہارا بنیں:

جو بچے پڑھائی میں کمزور ہیں، اُن کے لئے گھر میں ماں یا بڑی بہن بہترین مددگار اور صبر و حوصلے کے ساتھ رہنمائی کرنے والی ثابت ہوسکتی ہیں۔ بچوں کا ہوم ورک کروانے میں ان کی مدد کریں، انہیں پہاڑے یاد کروائیں اور ریاضی کے بنیادی اسباق جیسے جمع، نفی، تقسیم، ضرب اچھی طرح سمجھائیں تاکہ ان کی بنیاد مضبوط ہوسکے۔ بچوں کی تعلیم میں صرف نمبروں اور امتحانی نتائج کو ہی کامیابی کا معیار نہ بنائیں بلکہ ان کے علم، سمجھ بوجھ اور سیکھنے کی صلاحیت پر زیادہ توجہ دیں۔ خاص طور پر چوتھی جماعت تک بچوں میں روانی کے ساتھ پڑھنے، صحیح لکھنے اور بنیادی حساب کتاب کرنے جیسی مہارتوں کا پیدا ہونا نہایت ضروری ہے۔ والدین اور بڑی بہنوں کو چاہئے کہ وہ ان بنیادی صلاحیتوں کی نشوونما پر خصوصی توجہ دیں تاکہ بچے آئندہ تعلیم کے مراحل میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

اگلے دن کی تیاری رات ہی میں مکمل کریں:

روزانہ اسکول سے ملا ہوم ورک چیک کریں۔ اِسے وقت پر مکمل کرانا اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ رات میں ہی اپنی نگرانی میں ٹائم ٹیبل کے مطابق اسکول بیگ تیار کرائیں تا کہ کوئی کتاب یا کاپی رہ نہ جائے۔ صاف ستھرا یونیفارم رات میں ہی تیار رکھیں اس طرح صبح سویرے افراتفری نہیں ہوگی اور بچّہ سکون و اعتماد کے ساتھ اسکول جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حسنِ سلوک ہمسائیگی کے حقوق کا نہایت اہم حصہ ہے

بچوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کرتی رہیں:

بچّوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر بھی انہیں سراہیں۔ تعریف اور حوصلہ افزا الفاظ بچوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر وہ ناکامی یا کمزوری کا سامنا کریں تو تنقید کے بجائے محبت، صبر اور رہنمائی کے ساتھ ان کا ساتھ دیں تاکہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھ سکیں۔

ماؤں کو چاہئے کہ شاہین مائیں بنیں، ہمیشہ پُر اُمید رہیں اور اپنے بچّوں کی نمایاں کامیابی کے لئے اللہ سے مسلسل دعا کرتی رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK