بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی شناخت بھی ہے۔ ان کے پاس چند لمحے بیٹھ جانا، ان کی باتوں کو توجہ سے سننا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور انہیں اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھنا دراصل اپنے ماضی سے وفاداری اور اپنے مستقبل کی حفاظت ہے
جب گھر کے بزرگ عمر کی آخری منزل میں داخل ہوں تو ان کے کانپتے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامیں۔ تصویر: آئی این این
بزرگ کسی بھی خاندان اور معاشرے کا سرمایۂ حیات ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی محض چند سفید بالوں یا جھریوں کا نام نہیں بلکہ تجربات، دعاؤں، محبتوں اور قربانیوں کی ایک ایسی داستان ہے جس کی چھاؤں میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ وہ ایک سایہ دار شجر کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی تمام تر توانائیاں آنے والی نسلوں کی آبیاری میں صرف کر دیتے ہیں اور اپنی خواہشات اور اپنے آرام کو خاموشی سے قربان کرکے دوسروں کے خوابوں کی تعبیر بن جاتے ہیں۔
ذرا اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کیجئے، جب آپ معصومیت اور تجسس کے عالم میں ایک ہی سوال بار بار پوچھا کرتے تھے اور گھر کے بزرگ نہایت شفقت اور صبر کے ساتھ ہر بار آپ کو جواب دیتے تھے۔ آپ کی ناسمجھی ان کے لئے بوجھ نہیں بلکہ خوشی کا باعث ہوتی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انہی سوالوں سے شعور کی بنیادیں استوار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ماں کی قدر کرنا دراصل اللہ کی رحمت کی قدر کرنا ہے
لیکن وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ وہی بزرگ جب عمر کی آخری منزلوں میں داخل ہوتے ہیں، بینائی دھندلا جاتی ہے، سنائی کم دینے لگتا ہے، یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور طبیعت بچوں جیسی سادگی اختیار کر لیتی ہے، تو بعض اوقات ان کے اپنے ہی ان سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان کے سوالوں پر جھنجھلاہٹ، ان کی باتوں پر بے زاری اور ان کی موجودگی پر ناگواری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت اور تہذیب کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
زندگی کے طویل سفر میں انہیں بزرگوں نے اپنی جوانیاں کھپا دیں۔ ان کی شب بیداریاں، فکریں اور محنتیں اولاد کی آسائشوں اور خوشیوں میں ڈھل گئیں۔ ان کے ہاتھوں کی سختی دراصل محبت اور ایثار کی نرمی کا استعارہ تھی۔ مگر افسوس کہ جب ان کے مضبوط قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں تو بعض گھروں میں ان کی حیثیت بھی کمزور کر دی جاتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بہت سے خاندانوں میں بزرگوں کو محض ایک اضافی ذمہ داری سمجھ لیا گیا ہے۔ ان سے مشورہ لینے کی روایت کمزور پڑ گئی ہے، ان کی باتوں کو ’’پرانے خیالات‘‘ یا ’’انہیں کیا ہی پتہ ہوگا‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور ان کی تنہائی کا احساس کسی کو نہیں ہوتا۔ جو بزرگ کبھی خاندان کے فیصلوں کا مرکز تھے، آج بعض اوقات خاموش تماشائی بنا دیئے جاتے ہیں۔ یہ رویہ صرف انفرادی بے حسی نہیں بلکہ ہمارے اخلاقی اور تہذیبی زوال کی ایک واضح علامت ہے۔
بزرگ دراصل برگد کے ان درختوں کی مانند ہیں جن کے سائے میں نسلیں محفوظ رہتی ہیں۔ اگر درخت بوڑھا ہو جائے تو اسے کاٹ کر پھینک دینا دانشمندی نہیں بلکہ اپنی ہی جڑوں کو کمزور کرنا ہے۔ کیونکہ جڑیں مضبوط اور گہری ہوں تو شاخیں بھی سرسبز رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فائبر کے استعمال کا بڑھتا رجحان، چند باتیں جاننا ضروری
یہ دنیا مکافاتِ عمل کا ایک آئینہ ہے۔ آج جو سلوک ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ کریں گے، کل ہماری آنے والی نسلیں ہمارے ساتھ وہی طرزِ عمل اختیار کرسکتی ہیں۔ اگر ہم ان کے تجربات کو بوجھ، ان کی نصیحتوں کو فضول، ان کی روک ٹوک کو بے جا مداخلت اور ان کی کمزوری کو باعث ِ شرمندگی سمجھنے لگیں تو درحقیقت ہم اپنی ہی تہذیبی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا سنجیدگی سے محاسبہ کریں۔ بڑھاپا کوئی جرم نہیں بلکہ زندگی کی ایک فطری منزل ہے۔ کمزور ہونا عیب نہیں بلکہ انسانی سفر کا لازمی حصہ ہے۔ جن ہاتھوں نے ہماری انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، وہ ہماری توجہ، محبت اور سہارے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی شناخت بھی ہے۔ ان کے پاس چند لمحے بیٹھ جانا، ان کی باتوں کو توجہ سے سننا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور انہیں اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھنا دراصل اپنے ماضی سے وفاداری اور اپنے مستقبل کی حفاظت ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں کے بزرگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے تجربات کو رہنمائی سمجھیں گے، ان کی موجودگی کو برکت جانیں گے اور ان کے ساتھ وہی شفقت اور صبر اختیار کریں گے جس کا مظاہرہ انہوں نے ہماری زندگی کے ابتدائی مراحل میں کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: تحفہ دینا چاہئے مگر اِن باتوں کا خیال رکھیں
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بزرگوں سے بے رخی صرف چند افراد سے ناانصافی نہیں، بلکہ یہ ہماری تہذیب، ہماری روایات اور ہماری انسانیت کے زوال کی ایک ایسی علامت ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
اگر ہم ایک مہذب، باوقار اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بزرگوں کی عزت، خدمت اور قدر کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہوگا، کیونکہ انہی کی دعاؤں میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور آنے والی نسلوں کی بھلائی پوشیدہ ہے۔