Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنتا بگڑتا مزاج: اس کی وجوہات اور سدباب

Updated: April 13, 2026, 2:13 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

انسان کا مزاج حالات کے ساتھ بدلتا ہے۔ کبھی وہ خوش ہوتا ہے تو کبھی اداس۔ مزاج میں تبدیلی کہ وجہ دماغ میں موجود نیوروٹرانسمیٹر اور کیمیکل ہے۔ اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے نیوروٹرانسمیٹر کا ٹھیک طریقے سے کام کرنا ضروری ہے۔ جس کیلئے چند مثبت عادتوں کا اپنانا ضروری ہے۔

Mood swings are related to our mental health and for good mental health, it is important to eat on time. Photo: INN
بنتے بگڑتے مزاج کا تعلق ہماری ذہنی صحت سے ہوتا ہے اور اچھی ذہنی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وقت پر کھائیں۔ تصویر: آئی این این

کبھی خوش تو کبھی اداس، پریشان تو کبھی بے چین.... کبھی غصے میں تو کبھی بے حد خاموش۔ موسم کی طرح ہر لمحے تبدیل ہوتا ہے ہمارا مزاج۔ کئی بار چاہ کر بھی ہم اپنے بدلتے مزاج کو قابو نہیں کر پاتے۔ ایسے میں اکثر ہمارے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ پل پل میں ہمارا مزاج کیوں بدلتا ہے؟ دراصل ہمارے مزاج کو بنانے یا بگڑنے میں دماغ میں موجود نیوروٹرانسمیٹر اور کیمیکل کا ہاتھ ہوتا ہے۔

کمپیوٹر کی طرح ہے دماغ

ہمارا دماغ بھی کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں خاص طرح کے میسنجر ہوتے ہیں، جو اس کی وائرنگ کا کام کرتے ہیں۔ انہیں نیوروٹرانسمیٹر کہا جاتا ہے۔ ہمارے روزمرہ کے سبھی کام کاج انہیں کے ذریعے انجام ہوتے ہیں۔ ان ہی سے ہمارا دماغ جسم کے الگ الگ حصوں تک کام کرنے کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اچھی صحت کے لئے نیوروٹرانسمیٹر کا صحیح طریقے سے کام کرنا ضروری ہے۔ کسی سنگین بیماری، دواؤں کے نقصان یا بڑھتی عمر کی وجہ سے دھیرے دھیرے یہ نیوروٹرانسمیٹر ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔ اسی وجہ سے بزرگوں میں ڈیمینشیا، الزائمر اور پارکنسنس جیسی بیماریاں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: السی کے بیج معمولی نظر آتے ہیں مگر غذائیت کا خزانہ ہے

دماغ کے کیمیکل میں خرابی

ہمارے دماغ سے کئی طرح کے کیمیکل کا سیکریشن (اخراج کا عمل) ہوتا ہے، جنہیں ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل الگ الگ طرح کے جذبات کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ذہنی صحت کے لئے ان کے درمیان توازن ضروری ہے۔

دباؤ کی وجہ

کئی بار مشکل وقت میں انسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے ری ایکشنری ڈپریشن کہا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی انسان کی زندگی میں سب کچھ اچھا چل رہا ہو تو بھی اسے ذہنی دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال کو اینڈوجینس ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ اگر دماغ میں سیروٹونین کم ہو تو ایسا ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کم یا دور کرنے والی دواؤں میں اس کیمیکل کی سطح کو بڑھایا جاتا ہے۔

ڈوپامین نامی کیمیکل یادداشت کی صلاحیت، مسائل سے الجھنے یا سیکھنے کی صلاحیت اور حوصلہ وغیرہ کو بڑھاوا دیتا ہے۔ جب ہم کسی مقصد کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں اس وقت دماغ سے یہ ہارمون ساتھ دیتا ہے اور اس سے ملنی والی توانائی سے یہ مقصد حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہ اچھی نیند کے لئے ذمہ دار ہے۔

آکسیٹوسن نامی کیمیکل جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بھروسہ ٹوٹتا ہے تو اس کے جسم میں اس ہارمون کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ اس میں مایوسی اور اداسی جیسے جذبات ابھرتے ہیں۔ مثبت نظریے کے ذریعے جسم میں اس ہارمون کی سطح کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لپ اسٹک دیر تک قائم رہے، اِن باتوں پر عمل کریں

یہ کام کریں تاکہ دماغ صحتمند رہے

* ہمیشہ صحیح وقت پر کھانے اور سونے کی کوشش کریں۔ بہتر ہوگا کہ ٹائم ٹیبل بنائیں۔

* ڈائٹنگ کے دوران بھی ناشتہ ترک نہ کریں کیونکہ اس سے جسم میں بلڈ شوگر کا لیول کم ہوجاتا ہے۔ اس سے دماغ تک غذائیت نہیں پہنچ پاتی۔ اسی سے برین ڈی جنریشن کا مسئلہ شروع ہوجاتا ہے جو حافظہ کو کمزور بنا دیتا ہے۔

* روزانہ ۸؍ گھنٹے کی نیند ضرور لیں۔ نیند کی کمی کا یادداشت پر برا اثر پڑتا ہے۔

* روزانہ ورزش کریں۔ اس سے جسم میں اینڈورفن ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان خود کو تناؤ سے دور رکھ سکتا ہے۔

* جہاں تک ممکن ہو آس پاس کا ماحول آلودگی سے صاف کریں۔ کیونکہ باہر کی آلودہ ہوا سے دماغ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

* بادام اور اخروٹ کا روزانہ استعمال کریں۔ ان کے استعمال سے حافظہ مضبوط ہوتا ہے۔

* دماغ کی ورزش کے لئے شطرنج، سوڈوکو اور معمہ بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں۔

* سوتے وقت منہ ڈھکنا دماغ کی صحت کے لئے نقصاندہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اسے ضرورت کے مطابق آکسیجن نہیں ملتی۔

* ذہنی تناؤ کی حالت میں چاکلیٹ یا چٹ پٹا کھانا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے دماغ میں اینڈورفن ہارمون کا اضافہ ہوتا ہے جس سے ذہن کو سکون ملتا ہے۔

* ذہنی دباؤ محسوس ہونے پر لمبی لمبی سانس لیں۔ اس سے ذہن پُرسکون محسوس کرتا ہے۔

* شکر گزار بنیں۔ روزانہ سو کر اُٹھنے کے بعد سب سے پہلے خدا کی دی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں۔ اس سے دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونین نامی ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔

* روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ دراصل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاپن شامل ہوتا ہے۔ اس لئے ۶؍ سے ۷؍ گلاس پانی پئیں۔ اس کے علاوہ اپنی خوراک میں موسمی پھل شامل کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK