Inquilab Logo Happiest Places to Work

چوڑیاں، بالیاں اور عیدالفطر کی تیاریاں

Updated: March 18, 2026, 3:15 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

جیسے جیسے عید کا وقت قریب آرہا ہے ویسے ویسے بازار کی رونق بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دوران خواتین کی تیاریاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ عید سے قبل تک چوڑیوں کی خریداری جاری رہتی ہے کیونکہ ہر خاتون چاہتی ہے کہ عید کے دن ان کے ہاتھ مہندی سے سجے اور چوڑیوں سے بھرے ہوئے ہوں۔

The image in question is of a market in Delhi`s Zakir Nagar where women are busy buying bangles. (Photo: PTI)
زیر ِ نظر تصویر دہلی کے ذاکر نگر کے ایک بازار کی ہے جہاں خواتین چوڑیاں خریدنے میں مصروف ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

آج ۲۸؍ واں روزہ ہے۔ ایک دن بعد چاند رات ہے۔ اس موقع پر خواتین کی تیاریاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں۔ بلاشبہ رمضان میں خواتین سحری اور افطار کی تیاری کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے بزرگوں اور چھوٹے بچوں کے لئے، جو روزہ نہیں رکھ پاتے، ان کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال بھی رکھتی ہیں۔ صرف یہی نہیں، وہ اپنے مذہبی فرائض اور ماہ صیام کی خصوصی عبادات کی ادائیگی بھی خشوع و خضوع کے ساتھ کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ عید کے موقع پر ان کی تیاریاں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عید کی خوشیاں اور خواتین کی ذمہ داریاں

چوڑیوں کی کھنک، مہندی کی خوشبو

عید بازاروں کی رونقیں خواتین ہی کی دم سے ہوتی ہیں اور چاند رات پر جیسے ان کا جم غفیر بازاروں میں امڈ آتا ہے، چوڑیاں پہننے، بالیاں خریدنے اور مہندی لگانے کا شوق کئی دن پہلے سے ہی تیاریاں شروع کرا دیتا ہے۔ مہندی اور چوڑیاں عید کی سب سے منفرد روایت ہے۔ عید سے چند روز قبل مہندی اور چوڑیوں کے اسٹال لگ جاتے ہیں، جو لڑکیوں اور خواتین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے دن کلائیاں بھر بھر کے پہننے کے لئے اپنے کپڑوں کی میچنگ کی چوڑیاں خریدتی نظر آتی ہیں۔ بازار میں کانچ، دھات، پلاسٹک، ویلویٹ، کندن، آکسی ڈائزڈ جیسی مختلف قسم کی چوڑیاں دستیاب ہیں۔ اب کانچ کی چوڑیاں کی ڈیمانڈ میں کمی آگئی ہے جبکہ دھات یعنی میٹل کی چوڑیاں زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ میٹل کی چوڑیاں کی خاص بات یہ ہوتی ہے وہ توٹتی نہیں ہیں اور کئی رنگوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ عید کے موقع پر بچیوں اور خواتین کے ہاتھ مہندی سے سجے اور چوڑیوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ ماحول میں چوڑیوں کی کھنک نہ ہو تو میٹھی میٹھی عید ادھوری لگتی ہے، نازک ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں خوشیوں بھرے تہوار کی آمد کی اطلاع دیتی ہیں۔ نوعمر لڑکیاں کان میں بڑی بڑی بالیاں پہننا پسند کرتی ہیں۔ بازار میں عید کے لباس سے میچنگ بالیاں خریدتی نوعمر لڑکیاں گھنٹوں صرف کرتی نظر آتی ہیں۔ اسی طرح بیشتر خواتین اپنے لئے مہندی آرٹسٹ کو پہلے ہی بک کر لیتی ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں کی مہندی اور اسکی خوشبو عید کی خوشیوں کو دوبالا کر دے۔

یہ بھی پڑھئے: ہم آج کے دور کی بااختیار خواتین ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی کی فکر کیجئے

گھر کی آرائش و زیبائش سے لے کر مہمانوں کی ضیافت تک

عید پر اکثر گھروں میں رنگ و روغن، پردوں کی تبدیلی اور صفائی ستھرائی کے کام کئے جاتے ہیں۔ بیشتر گھرانوں میں نئی آرائشی اشیاء خریدنے کے بجائے زیر استعمال چیزوں کی از سر نو تراش خراش کرکے انہیں نیا رنگ روپ دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات فرنیچر کی ترتیب بدل کر کمروں کو نیا انداز دیا جاتا ہے۔ کم آمدنی کے باوجود بیشتر لوگ عید کی تیاریاں میں پیش پیش رہتے ہیں کہ عید کی خوشیاں منانے کا ان کا بھی حق ہے۔ اس بات سے کسے انکار ہے کہ عید کا سب سے اہم کام کپڑوں کی خریداری ہے۔ غریب سے غریب فرد کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عید کے دن نئے کپڑے پہنے۔ عید پر مہمان داری کا سلسلہ ہماری مشرقی روایات کا حصہ ہے۔ مہمان چونکہ ہماری مذہبی اور معاشرتی اقدار کا اہم اور لازمی جزو ہیں۔ لہٰذا ان کی خاطرداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ خاتون خانہ اس مرحلے کی تیاری بھی پوری لگن سے کرتی ہیں۔ عید کے لئے رمضان کے آخری ہفتے میں اشیائے خور و نوش کی خریداری کی جاتی ہے، پھر بعض گھرانوں میں عید پر بنائے جانے والے پکوانوں کی فہرست تیار کرکے اس کے حساب سے پیشگی تیاری جیسے کہ شامی کباب، دہی بڑے، سموسے وغیرہ تیار کرکے انہیں فریج میں محفوظ کر دیا جاتا ہے، تاکہ بوقت ضرورت کم وقت میں بہترین کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاسکے اور مہمانوں کے دلوں کو جیتا جاسکے۔

عید کے تین دنوں کی تیاریاں

بلاشبہ ماہ صیام کے تیس دنوں کی تھکان اور بے آرامی کو بھول کر خواتین عید کے تینوں دن چہرے پر مسکراہٹ سجائے اور گھر والوں کی خوشیوں کو ترجیح دیتے ہوئے، مہمان داری کی رسومات کا بھی بھرپور اہتمام کرتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس تمام تیاری میں خواتین اپنے ہار سنگھار کا بھی پورا خیال رکھتی ہیں، چوڑیوں، مہندی، میک اَپ ہر چیز پر ان کی توجہ ہوتی ہے۔ لڑکیاں کی تیاریاں بھی خاص ہوتی ہیں۔ چھوٹی بچیاں بھی پیچھے نہیں رہتیں۔ ان کے کپڑے، کلپ، پرس، سینڈل سب میچنگ ہوتے ہیں اور عید کے دن اپنی سہیلیوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر بڑوں سے عیدی جمع کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عید کے موقع پر چہرے کی شادابی بڑھانے کیلئے یہ نسخہ آزمائیں

میکے کی سوغات کا انتظار

عید کی ایک خصوصی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ بیاہی بہن یا بیٹی کیلئے سویاں، مہندی، چوڑیاں اور کپڑے خوشی کے طور پر اس کے سسرال پہنچائی جاتی ہے۔ دوسری جانب وہی بہنیں اور بیٹیاں بھی اپنے والد اور بھائیوں کی طرف سے ان اشیاء کا بڑی شدت سے انتظار کرتی ہیں کیونکہ وہ میکے کی سوغات ان کی عید کی خوشیوں میں چار چاند لگا دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK