Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانی کی ہر بوند قیمتی: خواتین کیلئے عملی و رہنما اصول

Updated: April 27, 2026, 2:27 PM IST | Sahar Asad | Mumbai

گزشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ملک کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ گرمی کے موسم میں صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ اس معاملے میں خواتین گھر میں چند اقدامات کرسکتی ہیں جن سے پانی کو برباد ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ معمولی مگر مؤثر اقدامات سے بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

Don`t leave the tap running while washing dishes, it wastes a lot of water. Photo: INN
برتن دھوتے وقت نل کھلا نہ رکھیں اس سے زیادہ مقدار میں پانی ضائع ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اس بات سے ہم سبھی آگاہ ہیں کہ آج پوری دنیا آبی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتوں کا وسیع ہوتا دائرہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب بارش کے نظام میں بے ترتیبی، اور سب سے بڑھ کر پانی کے استعمال میں انسان کی بے احتیاطی نے اس قیمتی ذخیرے کو تیزی سے کم کر دیا ہے۔ خوشحال ممالک بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں، لیکن ترقی پذیر ممالک خصوصاً ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں صورتحال تشویشناک ہے۔ اگر پانی کے بے دریغ استعمال اور ضیاع کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جائیگی۔ گرمیوں کے موسم میں تو یہ مسئلہ اور بھی شدت اختیار کر جاتا ہے، جب پانی کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے اور دستیابی کم سے کم۔ ایسے میں خواتین کو گھریلو سطح پر پانی کے ضیاع کو روکنا اور اس کے بچاؤ کیلئےحکمت ِ عملی اپنانا ہوگا۔ اور ایسے میں چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ سمندر بھی بوند بوند سے بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک اہم سوال.... کیا ہم ’اسکرین‘ کے غلام بن چکے ہیں؟

نل دھیما کھولنا

یہ انتہائی سادہ مگر طاقتور اقدام ہے۔ ہماری اکثر عادت ہوتی ہے کہ نل کو پوری روانی سے کھول دیتے ہیں جس سے پانی کی بڑی مقدار بغیر استعمال کے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ نل کو دھیما کھولنے کا مطلب ہے کہ صرف اتنا پانی استعمال کریں جتنی ضرورت ہو۔ مثلاً ہاتھ دھوتے وقت، برتن صاف کرتے وقت، یا وضو کرتے وقت پانی کا بہاؤ کم رکھیں۔ اس ایک چھوٹی سی عادت کو اپنا کر ایک گھر سالانہ سیکڑوں لیٹر پانی بچا سکتا ہے۔

سبزیاں، دالیں وغیرہ دھل کر اس پانی کو پودوں میں ڈالنا

کچن میں استعمال ہونے والا پانی اکثر نالی میں بہا دیا جاتا ہے۔ سبزیاں، دالیں یا چاول دھونے کے بعد جو پانی بچتا ہے اس میں مٹی کے علاوہ کوئی نقصاندہ کیمیکل نہیں ہوتا۔ یہ پانی پودوں کے لئے نہایت مفید ہے کیونکہ اس میں مٹی کے غذائی اجزاء بھی حل ہو جاتے ہیں۔ اس پانی کو جمع کرکے گملوں، باغیچے یا گھر کے آس پاس لگے درختوں کو دیا جاسکتا ہے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے، پانی بھی بچے گا اور پودوں کو قدرتی خوراک بھی ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے: پُرامید سوچ اور مثبت جذبات زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں

کپڑے دھلنے والے پانی سے گھر کی صفائی

واشنگ مشین سے نکلنے والا یا ہاتھ سے کپڑے دھونے کے بعد بچنے والا پانی (جس میں ڈٹرجنٹ ملا ہو) بیت الخلاء، باتھ روم کے فرش، گھر کے آنگن یا گاڑی اور موٹر سائیکل دھونے کے لئے بہترین ہوتا ہے۔ اس پانی میں موجود صابن گندگی کو جلدی صاف کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اسے نالی میں بہانے کے بجائے کسی بڑی بالٹی یا ڈرم میں جمع کر لینا چاہئے اور صفائی کے کاموں میں استعمال کرنا چاہئے۔

موٹر چلانے کے بعد ٹھنڈے پانی کے انتظار میں بہنے والے پانی کو جمع کرنا

جب ہم پانی کی موٹر چلا کر ٹھنڈے پانی کا انتظار کرتے ہیں تو گرم پانی کو بغیر سوچے سمجھے نالی میں بہا دیتے ہیں۔ یہ سراسر ضیاع ہے۔ اس پانی کو کسی بالٹی، ٹب یا ڈرم میں جمع کیا جائے۔ یہ پانی مکمل صاف ہوتا ہے اور اسے نہانے، کپڑے دھونے، برتن صاف کرنے یا پودوں کو دینے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کچن کے سنک میں زائد پانی جمع کرنا

قابل ِ عمل مشورہ ہے۔ اکثر گلاس میں پانی چھوڑ دیا جاتا ہے، یا پھل دھونے کے بعد پانی سنک میں چلا جاتا ہے۔ سنک میں ہی کوئی چھوٹا برتن یا مگ رکھ لیا جائے جس میں یہ زائد پانی جمع کرتے جائیں اور پھر اسے کسی بھی کام، جیسے ہاتھ دھونے یا پودوں کو دینے میں استعمال کریں۔ اس سے بوند بوند کی بھی قدر کرنے کی عادت پڑتی ہے۔

پانی کے لیکیج کی فوری مرمت

گھر کا ہر لیک ہوتا نل، ٹونٹی یا پائپ ’قطرہ قطرہ دریا‘ کے مصداق ہر سال ہزاروں لیٹر پانی ضائع کرتا ہے۔ لیکیج کو فوراً ٹھیک کرانا چاہئے۔

گاڑیوں کی دھلائی میں احتیاط

گاڑی کو پائپ سے دھونے کے بجائے بالٹی اور گیلے کپڑے سے صاف کریں۔

یہ بھی پڑھئے: موسم ِ گرما اور بچوں کی چھٹیاں: معمولات کی ترتیب کیسی ہو؟

اجتماعی شعور اور بچوں کی تربیت

سب سے اہم چیز شعور ہے۔ پانی کی اہمیت اور اس کے بچاؤ کی تعلیم اپنے بچوں کو دیں۔ جب ایک پورا معاشرہ اس کی اہمیت کو سمجھے گا تو بڑے پیمانے پر تبدیلی آئیگی۔ اسی طرح راستوں میں، گھر میں، اسکول میں جہاں کہیں بھی نل کھلا ہوا یا ٹپکتا ہوا دیکھیں تو اسے بند کریں، کسی کو پانی ضائع کرتے ہوئے دیکھیں تو ٹوک دیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے گا تبھی معاشرہ میں تبدیلی آئے گی۔

یاد رکھئے، پانی کا بچاؤ محض گرمیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ سال بھر کا فریضہ ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں پانی بچانے کے جو طریقے بتائے گئے ہیں، وہ معمولی محسوس ہوسکتے ہیں لیکن ان پر مسلسل عمل کیا جائے تو ان کے اثرات بہت بڑے پیمانے پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK