جدید ٹیکنالوجی اور مصروفیات ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں مگر انہیں خاندانی اور سماجی رشتوں کا متبادل نہ بننے دیں۔ مضبوط رشتے بہت بڑی قربانیوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی کوششوں سے بنتے ہیں۔ کسی کی بات توجہ سے سن لینا، کچھ وقت دینا، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لینے سے زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے۔
ہفتے میں ایک مرتبہ گھر کے سبھی افراد اکٹھا ہو کر کسی مثبت سرگرمی میں حصہ لیں، اس سے رشتے مستحکم ہوں گے۔ تصویر: آئی این این
بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے انسان کو اپنے ہی گھر کے لوگوں سے اور سماجی تعلقات سے دور بھی کر دیا ہے۔ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد عموماً اپنی اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ جس سے آپسی تعلق کمزور ہونے لگے۔ ایسے بدلتے ہوئے طرز زندگی میں گھر کے اور سماجی رشتوں کو استوار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ ِ آزادیٔ ہند میں مسلم خواتین بھی پیش پیش تھیں
موبائل فون اور سوشل میڈیا نے آمنے سامنے کی گفتگو کو بہت کم کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی مصروفیات اور ذاتی ترجیحات میں اُلجھ کر رہ گیا ہے۔ ایک ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے یا چائے ناشتہ کرنے کھانا کھانے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ گھر کے افراد اکثر الگ الگ اپنی پسند کا کھانا روزمرہ آن لائن آرڈر کرتے ہوئے اور الگ کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف غصہ اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ نیز یہ کہ گھر کی صفائی کے دوران اگر کسی نے نوجوان لڑکے یا لڑکی کا کان میں لگا کر موسیقی سننے کا آلہ کہیں ہٹا کر رکھ دیا تو اتنی چھوٹی بات پر بھی گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے نظر آتے ہیں۔ بزرگ افراد اکثر خود کو خاندان سے الگ تھلگ محسوس کرنے لگے ہیں۔ بچے والدین کی توجہ اور وقت سے محروم ہونے لگے ہیں۔ خاندانی اور سماجی رشتوں میں اور تعلقات میں رسمی نوعیت آگئی ہے اور قربتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں گھر کے اور سماجی رشتوں کو بہتر بنانے کی مندرجہ ذیل تجاویز ہوسکتی ہیں:
یہ بھی پڑھئے: ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ آزما کر دیکھ لیجئے!
رشتوں کو مضبوط بنانے کیلئے سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ خاندان، پڑوس اور سماج کے اہم افراد کیلئے سب کو کچھ نہ کچھ وقت ضرور دینا چاہئے۔ چند منٹ کی پُر خلوص گفتگو بھی تعلق کو مضبوط بناسکتی ہے۔
موبائل فون سے زیادہ انسان کو اہمیت دی جائے۔ کچھ اوقات موبائل اور دیگر اسکرینوں سے آزاد رکھنے چاہئیں۔ مثلاً کھانا کھاتے وقت موبائل استعمال نہ کرنے کا اصول بنا لیا جائے۔ اس سے گھر کے افراد ایک دوسرے سے گفتگو کرسکیں گے۔
ایک وقت میں سبھی لوگ گھر میں دسترخوان پر مل کر کھانا نوش کریں۔ ایک ساتھ کھانا کھانے سے خاندان کے آپس میں جڑے رہنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے اس دوران بہت سے مسائل،خوشیاں اور تجربات آپس میں بانٹے جاسکتے ہیں۔
ایک دوسرے کی بات کو سنا جائے۔ اچھے تعلقات اور رشتے صرف بولنے سے نہیں بلکہ دوسرے کی بات کو توجہ سے سننے سے بنتے ہیں۔ کوئی پریشان ہے تو اس کو نظر انداز کرنے کے بجائے اُس کی بات کو تحمل سے سننے کی ضرورت ہے۔ کئی مرتبہ انسان کو حل سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اس کو سن سکے اور سمجھ سکے۔
بزرگوں کا احترام کریں، اُن کے تجربات دعاؤں اور جذبات کی قدر کریں، اُن کے ساتھ وقت گزارنا اور اُن کی بات سننا نہ صرف اُن کیلئے خوشی کا باعث ہے بلکہ نئی نسل کو بھی خاندانی اقدار سکھاتا ہے۔
بچّوں کی ضروریات صرف اچھی تعلیم، لباس اور کھلونوں تک محدود نہیں ہے، اُن کو والدین کی توجہ محبت اور رہنمائی بھی چاہئے۔ ان کے ساتھ پڑھنے، کھیلنے اور گفتگو کرنے سے اُن میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: باورچی خانہ گھر کا خاص حصّہ؛ دیکھ ریکھ بھی خاص ہو
خاندان اور سماج میں اکثر اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ غصّے، طنز اور سخت الفاظ کے بجائے تحمل اور احترام سے بات کرنی چاہئے۔ مسئلے پر تنقید کریں انسان پر نہیں۔ مسئلے کو اختلاف کا حل تلاش کرنے کا طریقہ بنایا جانا چاہئے۔ مسئلہ خود میں اختلاف نہیں ہوتا۔
ایک دوسرے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں۔ اپنے گھر میں، خاندان پڑوس اور سماج میں کسی بھی شخص کی کامیابی پر اُس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ تعریف کے چند الفاظ انسان کا اعتماد بڑھا دیتے ہیں اور مثبت ماحول پیدا کرتے ہیں۔
اپنی صلاحیت کے مطابق گھر کے ہوں، پڑوس کے ہوں یا محلے کے ہوں، تمام ضروری کاموں میں تعاون کرنا چاہئے۔ اس سے ذمہ داری مساوات اور آپسی اعتماد اور احترام کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بہت سی ذمہ داریاں ایک فرد کی نہیں بلکہ مجموعی ہوتی ہیں۔
مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ ہفتے میں ایک دن اپنے گھر کے افراد کے ساتھ چہل قدمی کھیل، مطالعہ، تفریح جیسی سرگرمیوں کو مشترکہ طور پر اپنایا جائے۔ پڑوس کے رہنے والوں کو وقت نکال کر کبھی چائے یا کافی وغیرہ پر مدعو کرنے سے آپس میں ہم آہنگی اور خیر سگالی کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے۔
ہمارا گھر ہمارا خاندان، پڑوس اور سماج محض ساتھ رہنے کی جگہ کا نام نہیں ہے۔ یہ انسانوں کو جوڑے رکھنے کے مقامات ہیں۔ اگر ہم اپنی مصروفیات میں سے تھوڑا وقت اپنے سے متعلق افراد کیلئے نکال لیں تو بدلتا ہوا طرز زندگی ہمارے رشتوں کو کمزور کرنے کے بجائے انہیں مزید سمجھدار، مضبوط اور پر خلوص بناسکتا ہے۔